امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں ایک اہم پیش رفت

ڈاکٹر اختر گلفام ایڈیٹر انچیف نوائے وقت

لندن:امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک ایک ایسے فریم ورک پر متفق ہوگئے ہیں جس کا مقصد برآمدی پابندیوں میں نرمی لانا اور باہمی ٹیرف جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور چینی حکام نے منگل کے روز کہا کہ وہ ایک فریم ورک پر متفق ہوگئے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ بندی کو دوبارہ درست سمت میں لانا اور بیجنگ کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمدات پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ہے، تاہم دیرینہ تجارتی اختلافات کے مستقل حل کے حوالے سے کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا۔

لندن میں دو روزہ مذاکرات کے اختتام پر امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ فریم ورک معاہدہ جنیوا میں گزشتہ ماہ طے پانے والے سمجھوتے کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف میں نرمی لانا تھا، کیونکہ یہ شرحیں تین ہندسوں تک پہنچ چکی تھیں اور تباہ کن حد اختیار کرگئی تھیں۔

تاہم، جنیوا معاہدہ اُس وقت کمزور پڑگیا جب چین نے نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندیاں برقرار رکھیں۔

اس کے ردعمل میں ٹرمپ انتظامیہ نے بھی چین پر برآمدی کنٹرولز نافذ کردیے، جن کے تحت سیمی کنڈیکٹر ڈیزائن سافٹ ویئر، ہوائی جہازوں اور دیگر مصنوعات کی برآمد روک دی گئی۔

لٹنک نے کہا کہ لندن میں طے پانے والے معاہدے کے تحت امریکا کی جانب سے حالیہ کچھ برآمدی پابندیاں ختم کی جائیں گی، لیکن مذاکرات کے اختتام (صبح 4 بجے پاکستانی وقت) پر انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جنیوا معاہدے اور دونوں صدور کی گفتگو پر عملدرآمد کے لیے ایک فریم ورک پر اتفاق کرلیا ہے۔

لٹنک کے مطابق خیال یہ ہے کہ ہم واپس جاکر صدر ٹرمپ سے بات کریں گے تاکہ وہ اس کی منظوری دیں، جب کہ چینی حکام صدر شی جن پنگ سے بات کریں گے تاکہ وہ اس کی توثیق کریں اور اگر یہ منظوری دے دی گئی تو ہم اس فریم ورک پر عملدرآمد شروع کریں گے۔

چین کے نائب وزیر تجارت لی چنگ گینگ نے ایک علیحدہ بریفنگ میں بتایا کہ ایک تجارتی فریم ورک اصولی طور پر طے پاچکا ہے، جسے اب امریکی اور چینی قیادت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

یہ معاہدہ شاید جنیوا سمجھوتے کو برآمدی پابندیوں کی جنگ سے بچالے، مگر یہ ٹرمپ کی یکطرفہ ٹیرف پالیسی اور چین کے ریاستی سرپرستی میں چلنے والے برآمدات پر مبنی معاشی ماڈل پر امریکا کے دیرینہ اعتراضات جیسے بڑے اختلافات کو حل کرنے میں زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *