جاہل حکومت کا جاہل کام:عمران خان سے منسوب مشہور ’قیدی 804‘ گانے سے عوام میں ’جوش‘ پھیلانے کے الزام پر قوال کیخلاف مقدمہ درج

واقعے نے ثقافتی تقریبات کے ضابطوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور اظہارِ فن پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے

نور فاطمہ افضل نوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ

لاہور: پولیس نے شالیمار گارڈنز میں سرکاری سرپرستی میں منعقدہ ایک ثقافتی تقریب کے دوران عمران خان کے حوالے سے ’قیدی نمبر 804‘ کے عنوان سے گانا گانے پر ایک گلوکار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

ملزم جو پیشے کے اعتبار سے قوال ہے، پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے تقریب کو سیاسی رنگ دیا، کیونکہ مذکورہ گانا جیل میں بند پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے منسوب سمجھا جاتا ہے۔

درج ایف آئی آر میں مدعی شالیمار گارڈنز کے انچارج ضمیر الحسن نے مؤقف اختیار کیا کہ گلوکار فراز خان نے جان بوجھ کر ثقافتی تقریب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور لوگوں کو اکسانے کی کوشش کی، کیونکہ یہ گانا ایک مخصوص سیاسی جماعت سے وابستہ تھا۔

سرکاری سرپرستی میں میوزیکل نائٹ شو کے دوران اڈیالہ جیل کے قیدی 804 سے منسوب گانا گانے پر گلوکار فراز خان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا جب کہ ملزم قوال فراز خان نے اپنی عبوری ضمانت کرالی۔

ایڈیشنل سیشن جج نے 13جنوری تک عبوری ضمانت منظور کرلی، قوال فراز امجد عبوری ضمانت کے لیے عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اگر معلوم ہوتا کہ گانا گانے پر مقدمہ درج ہوگا تو کبھی نہ گاتا۔

رپورٹ کے مطابق والڈ سٹی اتھارٹی کے زیر اہتمام شالیمار باغ میں میوزک اینڈ کلچرل نائٹ کا اہتمام کیا گیا جس میں قوال فراز خان و ہمنواؤں نے قوالی پیش کی۔

پروگرام کے دوران اڈیالہ جیل کے قیدی 804 سے منسوب گانا گانے پر قوال فراز خان کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

مقدمہ انچارج شالامار باغ ضمیر کی مدعیت میں تھانہ شالیمار میں درج کیا گیا جس میں تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات شامل ہیں۔

تھانہ باغبانپورہ لاہور میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ شالیمار باغ میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے زیراہتمام ایک میوزک اینڈ کلچرل نائٹ پروگرام ’چاندنی راتوں‘ کے عنوان سے منعقد ہوتا ہے جو کہ خالصتاً ثقافتی نوعیت کی تقریب ہوتی ہے اور اس کا مقصد ثقافت، موسیقی اور ہم اہنگی کا فروغ دنیا ہوتا ہے۔

ایف آئی آر میں انچارج شالیمار باغ نے مؤقف اپنایا کہ ’اس تقریب میں کسی قسم کے سیاسی مواد کی تشہیر یا سیاسی نعرے بازی کی اجازت نہیں ہوتی، تاہم تین فروری کو قوالی نائٹ کے دوران فراز خان اور اس کے ساتھی قوالوں نے دانستہ طور پر بغیر اجازت ایک سیاسی اشتعال انگیز نغمہ گایا جس کے بول ’جیل اڈیالہ قیدی 804‘ ہوئے تھے، جسے انتظامیہ نے بند کروا دیا۔‘

ایف آئی آر کے مطابق ’اس گانے کے نتیجے میں عوامی مجمع میں جوش و اشتعال پیدا ہوا، امن عامہ کا متاثر ہونے کا خدشہ ہوا، تقریب کا غیرسیاسی اور ثقافتی مقصد سبوتاژ ہوا اور ایک سرکاری ادارے کی ساکھ، غیرجانبداری اور وقار کو شدید نقصان پہنچا۔‘

ایف آئی آر کے مطابق ’قوال فراز خان کا یہ فعل انتہائی غیر ذمہ دارانہ، قابل مذمت اور قانونی حدود سے تجاوز کے مترادف ہے۔ یہ عمل عوام کو اشتعال دلانے، عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے اور ریاستی ادارے کو متنازع بنانے کی کوشش ہے جو کہ قابل تعزیر جرم ہے۔‘

قوال فراز خان نے مؤقف اپنایا کہ انہوں نے فرمائش پر گانا گایا لیکن اسکے باوجود ان کے خلاف مقدمہ درج کردیا گیا۔

واضح رہے کہ شالیمار باغ میں ہونے والا پروگرام عوام کے لیے کھلا تھا، واقعے نے ثقافتی تقریبات کے ضابطوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور اظہارِ فن پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

پولیس کے مطابق معاملے کی تفتیش شروع کر دی گئی، قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے، واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی جانب سے موسیقی اور ثقافت کی ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جو غیر سیاسی تقریب تھی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ گلوکار اور اس کے ساتھیوں نے حاضرین میں سے بعض افراد کے مطالبے پر پی ٹی آئی رہنما سے منسوب گانا گایا۔

مدعی کے مطابق ملزم کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے تھا کہ یہ تقریب عوام کے لیے تھی اور اس میں مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد شریک تھے۔

مدعی نے کہا کہ متنازع گانا امن و امان کی صورتحال یا تشدد کا باعث بن سکتا تھا، اس لیے ملزم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *