ڈاکٹر اختر گلفام ایڈیٹر انچیف نوائے وقت ، ڈائریکٹرنیوز ڈان ٹی وی
لندن/ کراچی:برطانوی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں واقع امریکی قونصل خانے پر گزشتہ ہفتے ہونے والے حملے کے دوران امریکی میرینز نے پاکستانی مظاہرین پر فائرنگ کی۔ رپورٹ میں دو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے قونصل خانے کی عمارت پر دھاوا بولنے کے بعد میرینز نے گولیاں چلائیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب اس واقعے میں امریکی میرینز کی براہِ راست فائرنگ کی تصدیق سامنے آئی ہے۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ میرینز کی جانب سے چلائی گئی گولیاں کسی کو لگیں یا ان کے نتیجے میں کوئی ہلاکت ہوئی۔
حکام نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ مشن کی حفاظت پر مامور دیگر افراد، جن میں نجی سکیورٹی گارڈز اور مقامی پولیس شامل تھے، کی جانب سے بھی فائرنگ کی گئی یا نہیں۔
واقعے کے دوران مظاہرین نے قونصل خانے کی بیرونی دیوار توڑ کر کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے۔
دو امریکی سرکاری عہدیداروں نے کہا ہے کہ اتوار کو کراچی میں قائم امریکی قونصل خانے میں گھسنے والے مظاہرین پر امریکہ کے فوجی اہلکاروں (مرینز) نے فائرنگ کی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس واقعے میں 10 افراد اس وقت گولیوں کا نشانہ بنے تھے جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے کمپاؤنڈ کی بیرونی دیوار کو توڑا۔
کراچی پولیس کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں۔
امریکی مرینز نے واقعے سے متعلق تفصیل اور سوالات کے جواب اپنی فوج کو بھجوا دیے ہیں جن کو آگے محکمہ خارجہ کو بھجوا دیا گیا ہے۔
محکمہ خارجہ نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
امریکی کا سفارت خانہ دارالحکومت اسلام آباد میں موجود ہے جبکہ کراچی، لاہور اور پشاور میں امریکہ کے اضافی قونصل خانے بھی موجود ہیں۔