پاکستان نے بولی وڈ اداکار اجے دیوگن اور ہرشت تومر کی مشترکہ ملکیت ’انڈیا نواز‘ ڈبلیو سی ایل پر مکمل پابندی لگا دی

کسی ایسے ایونٹ میں اپنی شرکت کو جاری نہیں رکھ سکتا جہاں غیر جانب دارانہ انتظامیہ اور کھیل کی روح بیرونی دباؤ کے باعث متاثر ہو رہی ہو

نور فاطمہ افضل نوائے وقت ،ڈان ٹی وی رپورٹ

لاہور/ لندن:پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اتوار کو ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز (ڈبلیو سی ایل) پر انڈیا کے حق میں جانب داری برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس لیگ میں آئندہ شرکت پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈبلیو سی ایل ایک ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ ہے جو ہر سال انگلینڈ میں منعقد ہوتا ہے۔ اس میں انگلینڈ، انڈیا، پاکستان، آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ جیسے ملکوں کے سابق اور غیر معاہدہ یافتہ کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔

بولی وڈ اداکار اجے دیوگن اور ہرشت تومر کی مشترکہ ملکیت میں یہ ٹورنامنٹ اس وقت تنازعے کا شکار ہوا جب انڈیا نے لیگ مرحلے میں پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار کیا۔

اس پر ڈبلیو سی ایل نے دونوں ٹیموں کو پوائنٹس دے دیے۔ انڈیا نے بعد ازاں سیمی فائنل میں بھی پاکستان سے کھیلنے سے انکار کیا، جس کے بعد گرین شرٹس کو فائنل میں رسائی دے دی گئی۔

انڈیا کے کئی کھلاڑیوں نے پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار کیا تھا، جس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان مئی میں ہونے والی کئی دہائیوں کی بدترین جھڑپیں بتائی گئیں۔

ڈبلیو سی ایل کا کہنا تھا کہ وہ انڈیا کے فیصلے کا احترام کرتا ہے اور پاکستان کے کھیلنے کے جذبے کو سراہتا ہے۔

پی سی بی نے بورڈ آف گورنرز کے 79 ویں اجلاس کے بعد جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا ’پاکستان کرکٹ بورڈ اعلان کرتا ہے کہ وہ آئندہ ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز (ڈبلیو سی ایل) میں شرکت پر مکمل پابندی عائد کر رہا ہے۔‘

پی سی بی نے ڈبلیو سی ایل کی اس پالیسی پر ’شدید مایوسی‘ کا اظہار کیا جس کے تحت ایک ٹیم کو جان بوجھ کر میچ چھوڑنے کے باوجود پوائنٹس دیے گئے، اور ساتھ ہی انڈیا-پاکستان میچ کی منسوخی سے متعلق ڈبلیو سی ایل کے پریس بیانات کے متن پر بھی تنقید کی۔

پی سی بی کا کہنا تھا کہ یہ پریس ریلیز ’منافقت اور جانب داری‘ سے بھرپور تھی۔ ’ان بیانات کا مواد ایک دوہرا معیار ظاہر کرتا ہے جہاں ’کھیل کے ذریعے امن‘ کا نعرہ صرف منتخب طور پر لاگو ہوتا ہے اور کھیلوں کو سیاسی مفادات اور تجارتی ترجیحات کا یرغمال بنایا جاتا ہے۔‘

پی سی بی نے مزید کہا کہ اس نے ہمیشہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنے کا اصول اپنایا ہے اور سمجھتا ہے کہ کرکٹ جیسے دیگر عالمی کھیلوں کو صرف خیر سگالی، صحت مند مقابلے اور باہمی احترام کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *