رانا وحید بیوروچیف نوائے وقت ڈان ٹی وی
ساہیوال: ٹیچنگ ہسپتال میں تعمیرات، مشینری اور لانڈری پلانٹ میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں، وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم کا سخت نوٹس، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے فوری رپورٹ طلب اور ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال 16 ستمبر کو سیکرٹری صحت کے دفتر ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت۔ اعلی احکام نے کمیٹی کے اوپر ایک اور کمیٹی بنا دی اور بے ضابطگی کرنے والوں کو مزید ٹائم دے دیا گیا اور چند روز قبل آنے والے ایم ایس کے اوپر کوتاہی اور ناقص منصوبہ بندتعمیرات بد عنوانی تحقیقات کی ذمہ داری ڈال دی
وزیراعلیٰ پنجاب کی انسپکشن ٹیم نے ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سخت نوٹس لیتے ہوئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو فوری طور پر تمام ریکارڈ اور تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انسپکشن ٹیم کے مطابق ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ہسپتال کی عمارتوں کی تعمیر، مشینری اور میڈیکل آلات کی خریداری، ان کی تنصیب اور موجودہ حالت کا جائزہ لے گی اور یہ دیکھے گی کہ کہاں بدعنوانی، کوتاہی یا ناقص منصوبہ بندی کی گئی۔ کمیٹی کو یہ ذمہ داری بھی دی گئی ہے کہ وہ مالی نقصان کا تخمینہ لگائے اور ان افسران کی نشاندہی کرے جن کی غفلت یا نااہلی کے باعث منصوبے متاثر ہوئے۔خط میں واضح کیا گیا ہے کہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ایک جامع رپورٹ پیش کریں جس میں خریداری کے عمل کی شفافیت، منصوبوں میں تاخیر اور ناقص تعمیرات کی وجوہات، مشینری اور آلات کی موجودہ حیثیت، عوامی خزانے کو پہنچنے والے نقصان، ٹینڈرنگ اور بولی کے تمام ریکارڈ، انتظامی منظوریوں اور منصوبہ جاتی دستاویزات سمیت ہر پہلو شامل ہو۔انسپکشن ٹیم نے خاص طور پر ہسپتال کے لانڈری پلانٹ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کروڑوں روپے لاگت سے خریدا گیا یہ پلانٹ آج تک فعال کیوں نہیں ہو سکا، گیس کنکشن حاصل کرنے کی ذمہ داری کس پر تھی اور کیا کبھی پلانٹ کو ایل این جی پر چلانے کا متبادل سوچا گیا۔ مزید پوچھا گیا ہے کہ کیا اس مقصد کے لیے بجٹ میں فنڈز رکھے گئے یا منظوری لی گئی، اور جب لانڈری پلانٹ نصب ہے تو پھر بھاری اخراجات پر لانڈری سروسز آؤٹ سورس کرنے کی کیا وجہ ہے۔انسپکشن ٹیم نے حکم دیا ہے کہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ گریڈ 17 یا اس سے اوپر کا ایک افسر، جو مکمل حقائق سے آگاہ ہو، 16 ستمبر 2025 کو صبح ساڑھے گیارہ بجے لاہور میں انسپکشن ٹیم کے دفتر پیش کرے اور بریفنگ دے۔