ٹکر کا گورو،ناقابل تسخیر سمجھنے والے ڈھیر:اللہ کی نصرت ، قدرت کا انتقام یا غزہ کے لوگوں کی دعاؤں کا اثر

لاہور سے ممتاز تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرکا ایوارڈ حاصل کرنے والےاخبار نوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے تحریر، کیا آپ یہ آرٹیکل لکھنے والے سے متفق ہیں؟

دونوں طرف برابر بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلے ، ٹرمپ کے منہ سے نکلتی ہوئی جھاگ، بپھرے ہوئے سمندر کی طرح مطالبات کی شرائط کی بھرمار، مذاکرات کی ڈھول کی طرح بجنے کی تکرار اورچہار سو مسلسل انکار کی یلغار نے امریکہ ایران اسرائیل جنگ کو ایک نئی جہت دے دی ہے، ایک نئی شکل دےدی ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پہ قائم عزم اور امریکہ کی توہماتی ضد ایران کو ایٹمی ہتھیار نہ بنانے دینے کے مسلسل مطالبے کا کیا انجام ہوگا، بظاہر ایران اپنے پروگرام کو کامیاب کرنے میں یقینی طلسماتی کرشماتی انداز میں نظر آتا ہے اور امریکہ کی ہٹ دھرمی ناجائز ضد بادشاہ ہٹ کی ہوا نکلنے کے قریب ہے۔دنیا کے ممالک میں نئی آزادی کے ساتھ زور دار آوازیں بلند ہوتی سنائی دے رہی ہیں جو فلسطین اور ایران کی حمائت میں امریکہ مخالف اور اسرائیل کی مذمت میں ہیں۔ انسانیت کے حق میں مضبوط آوازیں اٹھ رہی ہیں۔یہ قدرت کا انتقام ہے، مکافات عمل ہے، یا غزہ کے مظلوموں کی بددعائیں ، یا اسرائیل و امریکہ کی غلط حکمت ِ عملی کا نتیجہ ہے ، کہ اسرائیل کی تباہی بربادی غزہ میں ہونے والے تباہی سے زیادہ ہے، غزہ کے مظلوموں پہ جس طرح بمباری کی گئی، اان کا پانی بند کیا گیا، ان کی خوراک پہ پابندی لگا کر انہیں بھوکا مارنے کی کوشش کی گئی، بغیر علاج معالجے کے زخمیوں کو چھوڑا گیا، گھروں سے بے دخل کر کے سخت سردی اور موسمی شدت کے حوالے کیا گیا، آج یہ سب اسرائیلی آ بادی کے ساتھ ہو گیا،نہ بنکر مضبوط نکلے، نہ آئرن ڈوم کام آیا، نہ دفاعی طاقت کام آئی۔نہ سفارتی محاذ کارآمد ہوا، نہ ٹیکنالوجی کی برتری بچا سکی ، نہ سازشیں کارگر ہوئیں ، نہ امریکہ کا ساتھ ہی کام آیا۔ اسرائیل کی وزارات ِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق سترہ ارب ڈالر سے زیادہ کا شہری اور دفاعی نقصانات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اسرائیل سفارتی و تجارتی و عالمی سطح پہ تنہائی کا شکار ہوا ہے۔امریکہ کو اس جنگ کی قیمت بہت بھاری پڑ رہی ہے کھربوں ڈالر جنگ میں جھونکنے پڑے ہیں،، امریکہ کو ہر سمت سے انکار سننا پڑا ہے، کوئی امریکہ کی امداد کرنے کو تیا ر نہیں اور کوئی اسرائیل کی سپورٹ کرنے کو تیار نہیں، یہ کیا ہے سب؟ ہم کیا دیکھ رہے ہیں، قدرت کا انصاف یا غزہ کے مسلمانوں کی چیخ و پکار جو آسمان تک بلند ہوتی رہی اور سب ان کو بے یارو مددگار چھوڑ کر ان کو روتا دھوتا دیکھتے رہے تھے۔ اسی گھمنڈ و غرور میں ونزویلہ اور ایران کا فرق سمجھے بغیر ایران پہ حملہ کیا گیا ، خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے والے ڈھیر ہوگئے اور قدرت کا فیصلہ آسمان پہ لکھا ہوا آ گیا۔ مکافات کا عمل نہیں رکتا ، آج ظلم کیا ہے تو کل اس کا انجام بھگتنا پڑے گا۔ اسرائیل نے غزہ پہ جس ظلم کی انتہا کر دی تھی آج وہی اسرائیل امن کی بھیک مانگتا نظر آ رہا ہے۔اسرائیل اور امریکہ کا 80 سالہ گھمنڈ و غرور خاک میں مل چکا ہے، گزشتہ 80 سال انہیں کوئی برابر کی ٹکر کا مرد قلندر نہیں ملا تھا۔ اب ملا ہے برابر کی ٹکر کا گورو۔ جس نے ان کے منصوبوں کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ یہ اللہ کی نصرت ہے، قدرت کا انتقام ہے یا غزہ کے لوگوں کی دعاؤں کا اثر ہے؟ آج ہم اپنی دعاؤں کا اثر دیکھیں گے، تیر نظر دیکھیں گے، زخم جگر دیکھیں گے!
یوروپ کا مدد سے انکار، اور اٹلی کی وزیر اعظم کی للکار، اور دیگر ریاستوں کا فلسطین کے حق میں کھلم کھلا اعلان قدرت کا کرشمہ ہے یا عالمی ضمیر جاگ اٹھا ہے؟ لوگ فلسطین پہ ظلم ایک حد تک برداشت کرتے رہے مگر اب ان کے ظلم کی انتہا ہوگئی تو لوگوں کی برداشت کی حد بھی ٹوٹ چکی ہے، نیا سویرا طلوع ہوتا نظر آرہا ہے اور امریکی بالا دستی کا سورج غروب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ہم اپنی زندگی میں یہ نیا سورج طلوع ہورا دیکھ رہے ہیں۔ہر ظلم کا یہی انجام ہوتا ہے۔ امریکہ کے طفیلی اسرائیل کے ظلم کی اندھیری رات ختم ہو رہی ہے۔مگر اس اندھیر نگری میں اسرائیل کے ہونے والے نقصانات اور تباہ حالی کے پیش نظر امریکہ کی ہار ایک وسیع تباہ حال جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے اور شائد امریکہ تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھتا نظر آ رہا ہے۔ ورنہ جنگ بندی اور کسی حد تک پسپائی کے بعد دوبارہ حملہ آور ہونے کے اشارے کچھ نئی داستاں رقم کر سکنے کا موقع بھی فراہم کرسکتے ہیں۔کل کیا ہو؟ کچھ کہنا قبل از وقت لگتا ہے۔مگر امریکہ کی روائتی بزدلی شائد اسے جان چھڑا کر بھاگ جانے کی طرف راغب کرلے۔امریکہ مردِ میدان کبھی رہا نہیں اور ایران اپنی درویشی سے کبھی ہٹا نہیں!
امریکہ کو جتنی انکار کی یلغار چاروں طرف سے اب ہوئی ہے ، ایسا کبھی سوچا نہیں گیا تھا۔ ہر طرف سے انکار کی یلغار برقرار ہے۔ یوروپ سے امریکہ کی سپورٹ سے انکار، پاکستان کو اپنے زمین استعمال کرنے سے انکار۔ سعودی عرب ک اانکار، کویت کا انکار۔ خلیجی ممالک بھی انکار کر رہے ہیں یوروپ بھی انکاری ہے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ الفاظ دنیا کی فضاؤمیں گونج رہے ہیں، Donald trump stop your drama , world is watching, stop your greed, this world is not your battlefield, this world is for peace, Italian Prime minister ، سب نے سنا اور کسی نے نہیں روکا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جتنی بار ایران کو ڈیڈ لائن دے کر ان کی تاریخیں بڑھائی ہیں اب تو ڈیڈ لائن ہی مذاق بن چکی ہے۔ چند گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دے کر ہفتوں کی توسیع دے کر ٹرمپ دنیا میں ایک بیان باز گفتار کا کردار بن چکا ہے۔ جس سے امریکہ کی کریڈیبیلیتی مکمل تباہ ہو گئی ہے۔ اب تو ایران کی دی گئی ڈیڈ لائن کا پاس پاسداران انقلاب کرواتے نظر آئیں گے۔آبنائے ہُرمز کا اب کھلنا خوابوں اور خیالوں میں ہی ہوگا۔پینٹا گون کے جرنیلوں کا منہ بند ہے ور وہ اپنی پینشن بند ہونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔اور اس جنگ میں جو درگت امریکہ اور اسرائیل کی بناائی گئی ہے وہ کسی کو بتا نہیں سکتے۔ خاموش لب ہیں جھکی ہیں نظریں شائد یہ ہار نئی نئی ہے!ہارے ہوئے امریکہ کے ترکش میں اب صرف الزامات کے تیر بچے ہیں، جن کو وہ دوسروں پہ برسائے گا اور سب سے پہلا شکار اس کا وفادار صلح جو دوست پاکستان بنے گا۔
مشرق وسطٰی اس جنگ کے خاتمے پر ایک نئے اتحاد کی طرف بڑھتا نظر آئے گا جس میں ریاض، انقرہ، قاہرہ، اسلام آباد اور بیجنگ کسی ایک نقطے پہ جمع ہوسکتے ہیں، اور امریکی اثر و رسوخ کا گھن گرج سے چھٹکارہ پاسکتے ہیں۔ یہ نیا اتحاد پیٹرو ڈالر کی موت کا سامان لے کر ابھر رہا ہے، ماسکو کی بھی اس میں دلچسپی نظر آتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کا نیا نقشہ اور نیا کردار نمودار ہونے کو ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *