لاہور سے ممتاز تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائراخبار نوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے خصوصی تحریر
امریکہ اسرائیل ایران جنگ ایسے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جیسے رومانس کی وہ کیفیت ہو، جہاں اظہار بھی مشکل ہو اور انکار بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ انسان کچھ کہہ بھی نہیں سکتا اور کچھ کہنا بھی چاہتا ہے۔گویا اس وقت جنگ اپنے رومانوی دور میں داخل ہو چکی ہے۔ جنگ بندی بھی مشکل ہے اور جنگ جاری رکھنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ اسی شش و پنج میں امریکہ پڑا ہوا ہے، جنگ کریں یا نہ کریں، حملہ آور ہونے کی دھمکیوں کا جواب دھمکیوں سے آرہا ہے۔ اگر ایران نے امریکی کی شرائط نہ مانیں تو ایران کو مٹا دیا جائے گا، اور اگر حملہ ہو تو ایران اس بار منہ توڑ جواب دے گا۔ پروکسیز میں چھیڑ چھاڑ جاری رکھ کر لہو گرم رکھنے کا بہانہ بھی ہے اور جنگ سے انکار بھی نہیں ہے۔ امریکہ ایران جنگ کسی کو فاتح اور کسی ایک کو شکست خوردہ ہونے کے اعزاز کا شرف حاصل ہونے کی شدید خواہش کی تکمیل ابھی جاری ہے۔ کون ہارا کون جیتا، اس کا فیصلہ اپنے اپنے انداز میں دونوں کر رہے ہیں، اگرچہ نقصان دونوں طرف کا بہت زیادہ ہو چکا ہے ، اربوں ڈالر کا خسارہ کرکے اور ہزاروں معصوم جانوں کو قتل کرکے بھی کامیابی کا دعویدارکوئی کیسے ہوسکتا ہے؟ ایک دوسرے کو مارے جارہے ہیں، نقصان پہ نقصان کررہے ہیں اور فتح کا خناس مزید بھڑکا رہا ہے کہ جنگ کی جیت اپنے نام کر لیں، جبکہ جنگ دونوں بلکہ تینوں ہار چکے ہیں اب مزید ایک دوسرے کو مزیدتباہ کرنے کی کسر جو رہ گئی ہے اسے پورا کرنا باقی ہے۔۔
ہم ہزاروں جنگوں، خونریزی کے طوفانی سفر سے گزرے ہیں، ہم نے آگ و بارودکے کئی دریا عبور کئے ہیں، اور ہم نے لاکھوں درختوں، جانوروں اور انسانوں کو فنا کیا ہے۔ عورتوں بچوں پہ ستم ڈھائے ہیں،ہم نے قبائلی جا گیرداری آمریتوں کی بادشاہتیں، نظریات کی لڑائیاں، تہذیبوں کا تصادم، تجارتی جنگیں، فرقہ پرستی، عقیدہ پرستی،بے ثمر جمہوریتیں، نسل پرستی کے الاؤ وغیرہ سب دیکھے ہیں، ہم نے قدیمیت کو جدیدیت تک دیکھا ہے، ہم نے دنیا کے کثیر قطبی اور یک قطبی نظام تک پھیلے ہوئے نظام کا تجربہ کیا ہے۔ ہم نے عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا ڈرامہ، نائن الیون کا بڑا سرکس شو اور عالمی سطح پر اسامہ بن لادن کا اسٹنٹ بھی دیکھا ہے۔ اب کیا دیکھنا باقی رہ گیا ہے؟ ہے کوئی قابل اعتبار؟ ہے کوئی قابلِ بھروسہ؟ کوئی کیوں ہو ؟ ہم خوداپنا جائزہ لیں۔ زمین پہ زندگی میں بھروسہ نہ رہے تو یہی تماشے ہونگے۔باہم انسانی بھروسہ جسم میں روح کی طرح ہوتا ہے، جسم سے روح نکال دی جائے تو جسم ایک میت ہے، اور اگر معاشرے سے بھروسے کی روح نکال دی جائے تو یہ صرف بے گورو کفن لاشوں کا تعفن زدہ مدفن ہوگا جو اسفل السافلین سے بھی نیچے کا مقام ہے۔ کس کا بھروسہ کریں ہر کوئی اپنا تھیٹر سجاتا ہے ، مداری کی طرح تماشہ دکھاتا ہے اور اپنا مفاد پورا کرکے چلتا بنتا ہے۔پاکستان تو پاکستان عالمی سٹیج بھی ڈرامہ سیریز ہی ہی کی مانند قسط وار چلتا چلا آرہا ہے۔یہ ڈرامہ ختم ہی نہیں ہوتا۔ دنیا کا سٹیج مختلف ڈراموں کی سیریز کی تماشہ گاہ بنا ہوا ہے۔ ایک ڈرامہ ختم تو دوسرا شروع۔یہ فساد فی الارض گمراہی و طاغوتی عمل ہے۔ طاغوتی اتحاد تین الف سے شروع ہونے والے ممالک کا باہم یکجان ہو جانا ہی ساری برائیوں کی جڑ بن گیا ہے۔ باقی تو سب اس کے چیلے چانٹے ہیں۔ امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل، کا اتحاد اور کسی حد تک برطانیہ کی ڈھارس سے ہی طاغوتی قوت فروغ پا رہی ہے۔ ہم تو قیامت کا انتظار کرتے ہیں کہ روزِ قیامت ہی سب حساب دیں گے۔ اس سے پہلے تو کوئی حشر برپا ہونا سمجھ میں نہیں آتا۔فلسطین پہ قیامت ٹوٹ گئی مگر ہم نے دعاؤں میں فلسطین کا ذکر بڑھا دیا، اور میدان جنگ میں تباہی کے لئے انہیں اکیلا چھوڑ دیا۔ فلسطینی کس انسانیت کو پکاریں کس امت کو بلائیں؟ مسلم امت کی فوجی طاقتیں کس مرض کی دوا ہیں؟ یہ سب قومی فوجیں، تازہ خدا وطنیت کا پھیلایا ہوا تعفن ہے۔ماحول متعفن ہو چکا ہے۔تباہی بہت پھیل چکی ہے۔
اب بہت ہو گیا، ہمارے پاس انسانی تجربات کی کافی تاریخ ہے اور یہ سیکھنے کے لیے کافی ہے کہ ایک ایجنڈا، ایک گاؤں ایک سمت، ایک عالمی نقطہ نظر کے ساتھ عالمی خسارے کے عالمی شعبوں کو حل کرنے کے لیے دنیا کی طرف ایک نئی پیراڈائم شفٹ یا زاویہ نگاہ بدلنا سیکھیں۔ لوگوں اور وسائل کے ساتھ مربوط اشتراکی اجتماعی حکمت اور وسائل کے ذریعے اسے محفوظ تر اختلاط وپرامن اور پائیدار ہم آہنگی بنانے کی ضرورت ہے۔ کچھ ممالک کو وسائل کی ضرورت ہے، دوسروں کو افرادی قوت کی ضرورت ہے، اور کچھ کو تکنیکی مدد کی ضرورت ہے۔ اور کچھ کو سیاسی استحکام و دفاع چاہئے۔
ہم عالمی برادریوں کے تمام لوگوں کو مربوط مشترکہ کوششوں کے ساتھ اٹھانے کے لیے سوچیں کیونکہ ہمارے پاس پہلے ہی مختلف ممالک، ملٹی نیشنل کارپوریشنز، اور بین الاقوامی تنظیموں جیسے، G-20، WEF، IBRD اور IMF یا ADB، G-7 کے تعاون سے ترقی کی راہ میں بہت سی اچھی مثالیں موجود ہیں۔ زندگی کے لیے عالمی بہتری کی خاطر باہمی تعاون ہم سب کے لیے ایک کھلا مشترکہ میدان ہے۔جس پہ چلنے کے راستے ترقی یا تباہی ہر طرف جاتے ہیں۔آپ کیا چاہتے ہیں یہ اہم ہے۔فیصلہ عوام کا۔پاکستانی عوام خصوصاَ فیصلہ کریں کہ کیا کرنا ہے؟ دنیا تو جو ہمارے ساتھ کر رہی ہے سو وہ روا رکھے، مگر ہم خود اپنے ساتھ کیا کررہے ہیں، بحیثیت قوم ہم سب نے ہی فیصلہ کرنا ہے۔ہمیں یہ ملک، یہ مملکت خداداد چاہئے بھی کہ نہیں؟ سیاسی ورکرز سےیہ آج کا سب سے بڑا سوال ہے۔عوام کو سمجھنا ہو گا کہ ملکی سیاست اور سیاسی جماعت کے ساتھ کس طرح رہنا سیکھنا ہے۔ یہ ملک سیاسی جماعتوں کا محتاج نہیں بلکہ سیاسی جماعتیں اس سیاسی قوت کی محتاج ہیں۔وہ ایسی سیاسی قوت ہے جس کی کوئی سیاسی جماعت بھی نہیں سب سیاسی جماعتیں اس کی حمائت کا انتظار کرتی ہیں۔اور ایک دوسرے پہ الزام لگاتی رہتی ہیں۔ “ساڈی گل ہو گئی ،” ( ہماری بات ہو گئی ہے) پہ جشن بھی مناتی ہیں۔گل تے ساڈی وی ہو گئی سی! پر ساری گل وچے ای رہ گئی! ساڈی گل تے نا رہو بس۔ اپنے شعور سے کام لینے کا سوچیں۔ہماری زندگی کوئی اور کیوں جیئے؟کوئی اور ہمیں تگنی کا ناچ کیوں نچائے؟ایک دوسرے کو تباہ کرنا کون سے عقلمندی ، بہادری یا فتح کا مقام ہے؟