سب کو مات دینے والےایک شخص کے پیروں پر گرا رینگتا نظام

لاہور سے معروف تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرکا ایوارڈ حاصل کرنے والےاخبار نوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے قاریئن کے لئے انتہائی خوبصورت ، مدلل اور پڑھنے لائق ،مدتوں یاد رکھی جانے والی تحریر،آپ رائٹرکی محنت ،تحقیق اور ویژن کو داد دیئے بغیر نہیں رہ سکیں گے

؎ گفتگو کسی سے ہو دھیان تیرا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ٹوٹ ٹوٹ جا تا ہے سلسلہ تکلم کا

ایک ہی شخص پاکستان پہ بھاری نظر آتا ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول ایک ہی شخص کے گرد گھومتا ہے اور گھوم پھر کے اسے ہی نشانہ بنانے کی کوشش ہوتی ہے، اسے مات دینے کے لئے، بدنام کرنے کے لئے، بہت سے پتے پھینکے جاتے ہیں، کبھی عورت کارڈ، مذہب کارڈ، قومیت کارڈ،چوہدری سرور، جہانگیر ترین، علیم خان، طیبہ گل،عائشہ گُلا لئی،پرویز خٹک،فیض حمید، فرح گوگی، ریحام خان، شاہد آفریدی،اقرار الحسن، جواد احمد، ملک ریاض، مفتی سعید، خاور مانیکا، فیاض الحسن چوہان، محسن داوڑ، محمود خان، جبری پریس کانفرنسیں، توشہ خانہ، آڈیو لیک، ویڈیو لیک،کال لیک،نشئی، ممنوعہ فنڈنگ، 14 پارٹیاں ، پی ڈی ایم، سینکڑوں مقدمے،عدم اعتماد، سینکڑوں ایف آئی آرز، سینکڑوں حملے، قاتلانہ حملے، گھر پہ حملے، ذاتی حملے، کردار کُشی، نکاح پہ حملے، سینکڑوں گرفتاریاں، سیاسی گرفتاریاں،خاندانی گرفتاریاں ، ملٹری کورٹس،عدلیہ کی بے بسی، کینگرو کورٹس، فائر وال، صحافیوں پہ تشدد،آزاد صحافیوں کا ملک بدر ہونا، ارشد شریف کا قتل، ملاقاتوں پہ پابندیاں، سوشل میڈیا پہ پابندیاں، الیکٹرونک میڈیا پہ پابندی، پرنٹ میڈیا پہ پانبدی،نام و تصویر پہ پابندی، الیکشن چھیننا، بلا چھیننا، مینڈیٹ پہ قبضہ، 25 مئی، 9 مئی، 26 نومبر، 8 فروری، قتلِ عام، اغواگردی، لاٹھی گردی، گولی گردی، پولیس گردی، غنڈہ گردی،امریکی دھمکیاں، پھانسی کی دھمکیاں، عمر قید، درجنوں ترامیم، آئین میں تبدیلیاں،قانون میں تبدیلیاں، 26ویں آئینی ترمیم، 27ویں آئینی ترمیم،اور 90 فیصد میڈیا کے نام نہاد صحافیوں کے تجربے ملا کر سب خاک میں مل گیا۔ وہ شخص آج بھی عوام میں پہلے سے زیادہ پاپولر ہوکر جیل میں بیٹھا پورے نظام کواپنے اشاروں پہ تگنی کا ناچ نچا رہا ہے۔اب ایک ایٹمی حملہ ہی باقی بچا ہے۔ وہ بھی اگر پی ٹی آئی کو تباہ نہ کرسکا توکیا ہوگا؟ کیا عمران خان کی موت ایٹم بم بن کر گر سکتی ہے۔ اگر ایسا ایٹمی حملہ ہی کرنا ضروری تھا تو سوچو کیا ہوگا۔کیپٹن صفدر کی بددعائیں تو ن لیگ کی تباہی و بربادی کے لئے سنائی دیتی ہیں، خان کی وہ بھی تعریفیں کرتا نظر آتا ہے، سنا ہے رانا ثناء اللہ نے بھی عمران خان کی بہادری کا اعتراف کیا ہے اور وہ جلد کوئی اعلان بھی کر سکتا ہے۔ لگتا ہے پاکستان خود ہی اپنی ایٹمی صلاحیت اپنے ہی اوپر استعمال کرنے پہ تلا بیٹھا ہے۔ عمران خان کی جیل میں موت ہماری حکومت کی خود کشی کی افواہیں کون پھیلا رہا ہے، کیا خان کی موت کے ایٹمی دھماکے سے ہونے والی تباہی کا متحمل ہمارا پیارا پاکستان ہو سکے گا؟ کیا عوام کو ذہنی طور پہ تیار کیا جارہا ہے؟؟؟ کس چوراہے پہ آ کھڑی ہے پوری قوم، گلگت بلتستان کا الیکشن چیخ چیخ کے بتا رہا ہے کہ خان ابھی زندہ ہے۔ جی بی حسینت کے ہیروکاروں کا ایک حساس علاقہ ہے، کرو انتظار آنکھیں بند کر کے،پھر فارم 47 آتا ہے یا فارم 45 نکلتا ہے!!!پاکستان دریائے چناب سے محروم ہوتا ہے تو بے شک ہو جائے۔ الیکشن تو ہاتھ سے نہ جائے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *