لاہور سے معروف تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرکا ایوارڈ حاصل کرنے والےاخبار نوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے خصوصی تحریر
سائفر کی رائفل!
پاکستان میں غلامی کی تازہ مثال سائفر کا قضیہ ہے۔ “ریاست کی اصل اوقات سمجھنی ہو تو سائفر کیس کلاسک مثال ہے، ریاست تسلیم کرتی ہے کہ ایک منتخب حکومت کو ہٹانے کا حکم امریکہ سے آیا۔ اس حکم پر عمل بھی کیا گیا اس حرکت پر بجائے سازشی عناصر کے خلاف ایکشن لینے کے، الٹا سازش کو بے نقاب کرنے والے پر کیس چلادیا گیا ،سائفر کی رائفل بنا کر اسی پہ تان کر اسے زخمی کر دیا گیا۔کیا دنیا میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے؟ کیا دنیا میں ایسی کوئی ریاست وجود رکھتی ہے؟ یہاں ایسے لوگ ہیں جو امریکہ کی اس حرکت پر مشتعل ہونے کی بجائے، الٹا سلسلہ قادریہ بہادریہ مرشدیہ پیرآف اڈیالوی شریف سرکار پر گرم ہورہے ہیں کہ اس امریکی دھمکی کے حوالے سے خاموشی کیوں نہیں اختیار کی؟ من و عن تسلیم کیوں نہ کیا، بے چون و چرا اسے ہونے کیوں نہیں دیا؟ یعنی، فکری طور پر اس قدر کرپٹ ہوچکے کہ امریکہ انھیں پالتو کتے کی طرح ٹریٹ کرے تو انھیں منظور ہے۔ الٹا کہتے ہیں کہ امریکہ کا پردہ رکھنا چاہیے تھا کہتے ہیں کہ ایسی دھمکیاں تو پہلے بھی دی جاتی رہیں ہیں (اور ان پر عمل بھی ہوتا رہا ہے)۔ اس لیے ابھی بھی خاموشی اختیار کرنی چاہیے تھی،سرِ تسلیم ِ خم کر ناچاہئے تھا، میں ایسے لوگوں کے افکار پر حیران ہوتا ہوں۔ سوچتا ہوں کس ماحول میں ان کی تربیت ہوئی ہے۔ کیسے گھرانوں میں پلے بڑھے ہیں۔ یہ سارا دن اسٹیبلشمنٹ کو گالیاں دیتے ہیں پر ان کے بیانیوں کو دل و جان سے اپناتے بھی ہیں، فطرت فطرت، تربیت تربیت کی بات ہے ” (بشکریہ پرویز سونا) حد ہو گئی ایک خدا الرحمٰن والرحیم اور محسن انسانیت رحمت اللعالمین ﷺ کے ماننے والے لوگ اعلیٰ و ارفع ہونے کی بجائے اسفل السافلین کے گڑھے میں گرے لوگ کیا چھچھورے ہیں، کیا ہم چھچھوری قوم ہیں یا ہمارے لیڈر ہی چھچھورے ہیں؟ امریکہ نے پاکستان کے کون سے ادارے کے ذریعے اس بد بخت قوم کے جن کو اپنی بوتل میں بند کیا ہوا ہے۔ایک عام فضا بنی ہوئی ہے کہ ہماری فوج کا سپہ سالار بھی امریکہ کی مرضی سے بنایا جاتا ہے، اف اللہ یہ بھی کوئی کرنے کی بات ہے، ملک ہمارا ، فوج ہماری، چیف ہمارا، امریکہ کیسے اسے چن سکتا ہے؟ سنا ہے پچھلے 75 سالوں سے یہی ہوتا آیا ہے۔ پاکستان امریکہ کی رکھیل کے درجے پہ فائز ہو کر خوش ہوتا ہے۔اگر وہ اپنی رکھیل کے مرتبے سے ہٹا دے تو ہمارے حکمران پریشان ہوجاتے ہیں، کہ اب یہ وینٹی لیٹر پہ پڑی رکھیل سانس کیسے لے گی؟ سلسلہ قادریہ بہادریہ مرشدیہ پیرآف اڈیالوی شریف سرکار نے ان سب کا گھونگھٹ اتار کے گھناؤنا چہرہ بے نقاب کیا ہے، یہی اس کا جرم ہے، سمجھنے والے کیا خاک سمجھیں گے؟اب تو آئندہ کی مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں ڈونلڈ لو ایک ہیرو کے طور پہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ لارنس آف عریبیہ کے بعد ا سے سب سے بڑا اعزاز دیا جائے گا بڑے ہیرو کو بڑا اعزاز سے نوازا جائے گا۔یہ ریجیم چینج تاریخ کی کتابوں میں کسی سومنات کے مندر کی فتح کا سا منظر پیش کرے گا۔لکھ لو دوست!مجھے تو تاریخ کے جھروکوں سے بھی پردہ سرکتا صاف دکھائی دے رہا ہے۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے بس!! یہ کمبخت ماری،نصیبوں جلی حسینہ ہے یا ڈالر گرل! سب بھنبھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ کون کیا سمجھے، کیا کہے اور کیا سنے؟ شِٹ، ہر کام میں کنفیوژن!!! ہر کا م میں دگڑ دلے۔ ہر شاخ پہ طوطا، اور ہر گام پہ الو!! ایسا لگتا ہے وقت تھم سا گیا ہے، ایک ہی جگہ ٹھہر سا گیا ہے، ایک سے دن اور رات ہوگئے ہیں، دن کو رات سے الگ کر کے دیکھنا مشکل ہو گیا ہے۔وہ سیاہ اور سفید دھاگے کی دھاری کو الگ سےپہچاننا مشکل ہو گیا۔دن بھی رات ہی لگتے ہیں۔ سچ کوئی کہہ سکے نہ سن سکے۔ یہ بستی کیسی بستی ہے؟ جو بستے بستے لٹتی جا رہی ہے اور بچتے بچتے پستی کو جاتی ہے۔کیاکسی آسیب کا سایہ ہے یہاں؟سب ڈرے سہمے خوفزدہ ہیں۔ایک دوسرے کے سائے سے ہی ڈر جاتے ہیں۔ وہ چٹان کی طرح کھڑا شخص، پابند ِ سلاسل، ایساکون سا بھوت یا جن چھوڑ گیا ہے۔ہر طرف خوف ہی خوف کے مہیب سائے پھیلے ہوئے ہیں۔ایسا تو جنوں پریوں کی کہانیوں میں بھی نہیں تھا۔کون سا شہزادہ آکے کہے ،کوئی اسم اعظم پڑھے، کھُل جا سم سم اور سب بند دروازے کھلنے لگیں اور تھما ہوا وقت باد سر سرکی طرح سر سر چلنے لگے۔وقت کے تھپیڑے محسوس ہوں، زندگی کی رونق بحال ہو۔ہر طرف چھائی ہوئی نحوست ختم ہو۔جمود کا تعفن دور ہو، تازہ ہوا کے جھونکے پھر سے بہاروں کی آمد کی خبر دیں۔ موسم بدلے، رُت گدرائے ، اہل جنوں بے باک ہوں۔ٹھہرا ٹھہرا سا کاروبار ِ حیات کا میلہ سجے اور انسان اپنی زندگی کی پوٹلی پھر سے بچھائے اور گائے۔ہسے کھیلے کودے اور آگے چلے۔واہ ری قسمت !اتنا بھی نصیب میں نہیں تھا کیا!! بڑے بڑے ظالم بادشاہوں کا ذکر سنا تھا، مگر ہمارے ملک میں کس بادشاہ کی حکومت آ گئی ہے۔ ظلم و ستم بڑھتا ہی چلاجارہا ہے، یہ کیسا بادشاہ ہے؟ یہ کیسا وقت ہے؟ زن بچہ کولہو میں پلوانے والی کہانیاں تو سب پیچھے رہ گئیں، دوست!! اس بار کی عید بھی ایسی اداس و بے دلی سے گزررہی ہے۔کیا ہم اسی قابل ہیں؟ جو ہمارے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے؟ کیا بولیں اور کس سے بولیں؟ ہم بولیں گے تو بولو گے کہ بولتا ہے، کچھ لوگوں نےخوامخواہ دروغ گوئی کر کے پچھلے 77 سالوں سے عساکر پاکستان پہ سارا ملبہ ڈالنے کی سازشی تھیوری گھڑی ، اورقائداعظمؒ کے کھوٹے سکوں کےبعد یہ سب نا اہل سیاست دانوں کا کیا دھرا ہے۔ عساکرِ پاکستان نے ہیرے تراش کر اس وطن کی حفاظت میں قربان کئے ہیں اور اس ملک کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں، جنکا صلہ نااہل سیاستدانوں نے ان کو بدنام کر کے دیا ہے۔ ہر قدم پہ سیاستدانوں نے افواج پاکستان کو مداخلت کی خود دعوت دی اور انہیں سیاسی طور پہ استعمال کیا ہے۔سیاسی طور پہ استعمال کرکے سیاست میں فوج کی مداخلت کا ڈھونگ بھی رچایا، فوج اور عوام میں خلیج بھی انہیں سیاستدانوں نے کھودی ہے، اقتدار کے رسیا ،سیاستدان اپنے اقتدار کی خاطر کیا کیا کرجاتے ہیں، آپ ویسا سوچ بھی نہیں سکتے اور ویسا کر بھی نہیں سکتے۔ بس توبہ استغفار ہی بھلی!ایک پیشہ ور دنیا کی نمبر ون فوج کا بھی کم بخت مارے سیاستدانوں نےکیا کیا حشر نشر کردیا! نعوذ بااللہ من ذالک، یہ ریجیم چینج اگر تھا تو یہ اس کا پلٹنا بھی تو مزید ریجیم چینج ہی ہوگا۔ جسے ہٹایا گیا اسے ہی واپس پھر لگایا گیا تو آپ خود سمجھ جائیں کو ن اٹھا کے پٹختا ہے اور واپس پھر لا کے بٹھاتا ہے۔کون ہے وہ؟ آخر کون ہے وہ، بولو بولو کون ہے وہ؟یعنی جو حسبِ ضرورت اور حسبِ حال کسی کو اٹھاتا بٹھاتا یا کال کوٹھری میں پٹختا پھرتا ہے؟ کون ہے وہ؟بولو بولو کون ہے وہ؟؟؟میری جان ہے وہ او
مجھے تو زیادہ فکر اس بات کی ہے جس نے یہ ریجیم چینج جس مقصد کے لئے کروایا وہ مقصد بھی تو انہیں سہولتکاروں کے ذریعے سے حاصل کیا ہوگا،تاریخ منہ کھول کر بولنے لگی ہے کہ اس مقصد کے حصول میں یہی کارندے کام آئے ہیں اور وہ مقصد حاصل کرنے کی پوری کوشش کرنے کے باوجود ایران نے اس مقصد کے حصول کو ناممکن بنا دیا ہے۔ ورنہ ایران ڈٹ کے کھڑا نہ ہوتا تو پورے خطے کا ہی ریجیم چینج ہو جاتا اور آج پوری مسلم امت غلام بنا لی گئی ہوتی۔ ایک اکیلے ایران نے مسلم امت کو آزادی کا مژدہ سنایا ہے۔اور نئے دور کا آغاز ہونے لگا ہے۔الحمد لللہ، ثم الحمد لللہ پاکستان کے ریجیم چینج کے ثمرات اگرچہ ایران نے ظالموں کے ہاتھ نہیں آنے دئیے مگر پاکستانی عوام نے اس دوران جوناانصافی و ظلم سہا ہے اس کی بھی مثال کہیں نہیں ملتی۔