لاہور سے معروف تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرکا ایوارڈ حاصل کرنے والےاخبار نوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے تحریر
21 ویں صدی لوگوں کی صدی ہے۔ ہم ہزاروں جنگوں میں خونریزی کے طلاطم خیزطوفانی سفر سے گزر چکے ہیں،ہم نے آگ اور خون کے دریا کئی بار عبور کئے۔ہم نے دنیاوی وسائل کے لیے کروڑوں درختوں، پودوں جانوروں، , مردوں، عورتوں اور معصوم بچوں کو ذبح کیا ہے۔ ہم نے قبائلیت، جاگیرداری، آمریت اور بادشاہتیں دیکھی ہیں۔ حکومت کے مختلف نظام اور نسل پرستی، انتہا پسندی، مذہب پسندی، اور جمہوریتیں، سوشلزم یا کمیونزم۔ سب کا تجربہ کیا ہے۔تیل اور تجارت کی جنگیں لڑی ہیں۔ مگر انسانی بنیادی مسائل کا پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔اگر بنیادی انسانی مسائل کا پرنالہ وہیں کا وہیں ہے تو پھر وہ نظام ہائے حکومت ، جن پہ ہم کٹتے ، لڑتے، مرتے رہے، تو پھر وہ کیا تھے؟ اگر وہ صحیح تھے تو انسانی دکھوں کا پرنالہ وہیں کا وہیں کیوں ہے؟؟؟ کیا ہم نےاپنی جوانیاں محض برباد کی ہیں؟؟کیا ہم صرف کھلونا بنے رہے ہیں؟ کھلونا ہونا کوئی اتنی بڑی بات نہیں، انسان کھلونا ہی ہے، مگر ہم تو ان دانشور کھلونوں کے کھلونے بنے جو سمجھتے تھے بس اب افغان ثور انقلاب آ گیا اور پاکستان کے دروازے پہ دستک دے رہا ہے، بس تیار رہو اپنے اپنے عہدوں کا حلف اٹھانے کے لئے۔ اور افروایشیا کانفرنسیں شروع ہو چکی تھیں۔ حکومتوں کی تبدیلی انقلاب نہیں تھی اور ہوتی بھی توکیاعوامی مسائل کا پرنالہ وہیں پہ نہ رہتا ۔ یہ مسئلہ ہے کہ پرنالہ کیسے ہٹے اور مسئلے حل ہوں۔ ہم نظریاتی بنتے پھرتے، کامریڈ بنے پھرتے، روٹی روزی کی تلوار چلی تو سارا بھرکس نکال باہر کیا۔ روٹی تو پیٹ مانگتا ہے نا، روٹی کا ہی تو مسئلہ ہے جو آج تک دانشور نہ حل کر سکے نہ کوئی حکومت، نہ جمہوریت۔بس حکمران بدلتے ہیں۔ غریب عوام کو پیسنے کا نظام وہیں رہتا ہے۔وہیں کا وہیں ہے۔حکمران تو خود بھیڑئیے ہیں اور اپنی بھیڑوں کو اپنی عیاشی کیلئےٹیکس لگا لگا کر نوچتے بھنبھوڑتےجاتے ہیں۔
ہم میں سے بہت سے لوگ برسوں سے نوآبادیاتی حکمرانی کے غلام رہے ہیں، اب نوآبادیاتی حاکموں کا طلوع و غروب آفتاب کہاں ہے؟ نوآبادیاتی طاقتوں نے بالآخر دولت لوٹ لی اور اپنی زمینوں میں واپس جاکرپناہ لی۔ جیوسٹریٹیجک تھیوری کے مطابق، جوسمندروں پر حکمرانی کرے گا دنیا پر حکمرانی کرے گا، کی اب بھی اندھی پیروی ہو رہی ہے۔ یورپ پر حکمرانی کرنے والا دنیا پر راج کرے گا، اب پاکستان کی نئی سٹریٹجک اہمیت کو تیزی سے تبدیل کیا جا رہا ہے، کیونکہ پاکستان پر حکمرانی کرنے والا دنیا پر راج کرے گاشائد اس بات کی سمجھ سب سے زیادہ جسے آئی ہے اب اس میں پاک فوج پیش پیش ہے۔۔ لیکن، ہمیشہ دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھنا ایک مضحکہ خیز خیال ہے جس پر حکمران صدیوں سے عوام کے کسی مفید کام کے کئے بغیر ہی چلے آرہے ہیں۔ بس وسائل پہ نظر ہے عوامی مسائل پہ نظر مرکوز نہیں۔نہ اب تک ادھر دھیان کسی کا گیا ہے۔ بس اقتدار ملے، جیسے بھی ملے، جتنا بھی ملے۔عوام کی زندگی جن مشکلات، مصیبتوں، دکھوں اور زخموں سے چوُر چوُر ہے اسے حکمران کیا جانے کہ کس طرح عوام کتنی مشکل سے روح و جسم کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے کیا کیا پا پڑ بیلتے جتن کرتی ہیں۔ حکمرانوں کو ایک بار تمام وسائل و سہولیات سے محروم کر کے عوامی زندگی جینے کا موقع لازمی دینا چاہئے تاکہ وہ پبلک لائف کا ذائقہ محسوس کریں اور اپنے بھوُسے بھرے دماغ سے عوام کے بہتر دماغ کے موازنہ سے بہتری کی فکر کریں۔مگر یہ ناممکن لگتا ہے۔
یہ لوگوں کی صدی ہے،عوام سے عوام کے رابطے، محبت اور امن کی صدی ہے، عدل و انصاف کی صدی ہے، حکمرانوں کی جانب سے عوام کے خلاف ہر قسم کے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اقتدار کے بھوکے حکمرانوں نے بھوکے انسانوں کو زمین پر امن، محبت، خوشحالی، انصاف، تحفظ اور انسانی ہمدردی کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع نہیں دیا ۔ ہم سب اس زمین کے مساوی شہری ہیں، مساوی حیثیت، احترام اور حقوق کے ساتھ۔ زندگی اہم ہے اور اسے بچایا جا سکتا ہے، اس کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے اور اس کا احترام کیا جا سکتا ہے، لیکن حکمران کبھی بھی زمین پر لوگوں اور ان کی زندگی کا نہیں سوچتے۔ وہ صرف ذرائع و وسائل کی چھینا جھپٹی کی زبان کو سمجھتے ہیں۔اقتدار کے بھوکے ہیں اور اقتدار کو طول دینے کی فکر میں جیتے مرتے ہیں۔ ان کے لئے، بھوکے عوام کی کیا حیثیت ہے! بھونکوں کا کیا قصور! لیکن قصوروار بھی عوام ہی ہوتے ہیں۔ سری لنکا اور بنگلا دیش کی عوام نے حکومتی اختیار ہاتھ میں لیے ہیں اور حکمرانوں کی چھُٹی بھی کرائی ہے۔ کیا یہ صدی ہجوم کی سیاست بنے گی؟؟ عوامی سمندر کی لہریں حکمرانوں کے فیصلے کریں گی؟ ؟ حالات یہاں تک پہنچا دئے گئے ہیں، اب کس کی باری ہے؟ لوگ سوچ رہے ہیں۔عوامی دھڑکنیں تیز ہورہی ہیں۔عوامی نبض پہ کس کا ہاتھ ہے؟وقت خود بولتا ہے۔
اکثر حکمرانوں نے عوام پر اس قدر انا پرستی کی حکومت کرنے کے لیے خود غرضی کا مظاہرہ کیا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ اس اکیسویں صدی کو اہل دنیا کی صدی، عوام کی صدی قرار دیا جائے تو، زمین کے وسائل انسانوں کے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر ریاست کے ذریعے لوگوں کی حفاظت، احترام اور ان کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے۔ ورنہ حکمران ریاست اور اس کے عوام کے لیے بے کار ہیں۔ جو ریاست اپنے ہی عوام سے جینے کا حق چھین لے، ایسی ریاست کی کیا اور کیوں ضرورت ہے؟ ریاستیں عوام کو حقوق دینے کے لئے بنتی ہیں یا حقوق چھیننے کے لئے؟؟عالمی امن عوام کی بنیادی ضرورت ہے اور قوانین کو روئے زمین کے لوگوں کا نوٹس لینے سے کوئی دلچسپی نہیں، یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ اس صدی کو عوام کے ذریعے لوگوں کے لیے زمین پر زندگی کے لیے عالمی امن کو برقرار رکھنے کے لیے بنائیں جس میں تمام شامل حکمران اور عوام زمین پر وسائل کی یکساں طور پر منصفانہ تقسیم کے ساتھ ہوں۔ تاکہ عام لوگوں کے گلے میں پڑا صدیوں پرانا غلامی کا طوق اتارا جا سکے۔اور انسان مکمل طور پر آزاد ہو سکے۔مخلوقِ خدا راج کرے۔ وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے، ہم دیکھیں گے۔ انسان کی مکمل آزادی پہ تکمیل انسانیت ہوگی۔ورنہ جو مرضی نعرے لگاتے رہو، سب بکواس ہے، سب فراڈ ہے، جوصدیوں سے عوام کے ساتھ ہوا ہے، یہ صرف درندگی ہے، بربریت ہے، اذیت ہے، ذلالت ہے اور ظلم ہے۔جو اب ختم ہونا چاہئیے۔ بس بہت ہوگیا اب!!! آپ کیا کہتے ہیں جی؟ آپ بھی تو عوام ہیں نا! کیا اکیسویں صدی عوامی سورج کے ساتھ طلوع ہو کر جگمگائے یا یو نہی حکمرانوں کی عیاشیوں کا سامان بنا رہے گا؟؟؟ عوام کو اپنے انسان ہونے کا احساس کب جاگے گا؟ خاک نشین کب اٹھیں گے؟امریکہ کا عالمی سٹیج پہ گرتا ہوا عروج اس راستے کا پہلا قدم ہو سکتا ہے۔ امریکی بالا دستی کے تمام ٹاؤٹ اپنا مقام کھو چکنے کے بعد نیا سامراج تلاش کریں گے یا ڈوب مریں گے۔کیونکہ کہ نئے عالمی نظام میں ان ٹاؤٹس گماشتوں کی گنجائش کم ہوگی ۔اس لئے 21 ویں صدی تاریخ کا نیا ورق پلٹ رہی ہے اور فرسودہ نظام منوں مٹی تلے دبنے جارہا ہے۔