لاہور سےممتاز تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرکا ایوارڈ حاصل کرنے والےاخبار نوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے اہم تحریر
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ، اور اسلامی برادر ممالک کے دکھ درد کو بہت محسوس کرتا ہے، ان کے لئے دعائیں کرتا ہے اور مسلمانوں کو باہم متحد رکھنے اور ملتِ اسلامیہ کو آپس میں صلح صفائی کے ساتھ رہنے کی بات کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تھا تو فلسطین کے مسلمانوں جشن منایا تھا اور سمجھا تھا کہ اب فلسطینی محفوظ ہونگے۔سعودی عرب اور ایران کو دوست بنانے میں پاکستان اور ہمارے دوست چین کا بہت حصہ ہے۔اپنے اسلامی بھائی ایران کی امریکہ سے جنگ میں امریکہ اور ایران کی صلح صفائی کرانے اور امن قائم کرنے کی بھرپور سفارتکاری سے پاکستان دنیا میں ایک امن پسند ملک کے طور پہ ابھر کر سامنے آیا ہے، جس کی وجہ سے دنیا کے ممالک پاکستان کی بہت عزت کرتے ہیں۔جمہوریت کا مثالی وطن ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے جمہوری ممالک کے ساتھ سفارتی جمہوری تعلقات قائم رکھتا ہے، اس لئے عوامی جمہوریہ چین پاکستان کا سب سے گہرا دوست ہے، اور پاک لوگوں کی ایک جدید ریاست ہے، پاکستان دنیا کے امن کی سب سے بڑی سفارتکاری کا واحد نمائندہ ہے، مگر پرابلم یہ کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ساتھ پاکستان کی نہیں بنتی، کیونکہ بھارت اپنے افواج کی جمہوری حق غصب کر لیتا ہے اور فوج کو کوئی سیاسی جمہوری رو رعائت نہیں دیتا ، جو پاکستان کو بہت برا لگتا ہے، اس لئے بھارت کی اس غاصبانہ روش کی وجہ سے پاکستان بھارت سے دوستی بھی کرنا گوارا نہیں کرتا، پاکستان جدید دور کا ایک مخلص دوست اور یاروں کا یار ملک ہے۔دنیا کے تمام اچھے ممالک سے دوستی رکھتا ہے اور سب چھوٹے بڑے میں مساوات کا مظاہرہ کرتا ہے۔ برے ملکوں سے دور رہتا ہے اور برے ملکوں کا ساتھ بھی نہیں دیتا۔جیسے اسرائیل اور انڈیا۔شروع سے ہی پاکستان کو امریکہ پسند آ گیا تھا، روس کی دعوت کو ٹھکرا کر پاکستان نے امریکہ کے ساتھ دوستی 1948 میں ہی شروع کر لی تھی۔پاکستان طاقتور ملکوں سے بہت ہی اچھے تعلقات قائم رکھتا ہے اور ان کی ہر جائز ناجائز خواہش کا احترام کرتا ہے۔پاکستان کمزور ملک نہیں مگر امن پسند ہونے کی وجہ سے اور بڑوں کی احترام کی وجہ سے بعض عاقبت نااندیش اسے معاشی کمزوری کا شکار ملک سمجھتے ہیں ، حالانکہ ہمارے امیر لوگوں جیسے لوگ دوسرے ملکوں میں کہاں پائے جاتے ہیں۔ ہماری عوام ضرور کمزور ہے اور عوام تو ہر ملک کی ایسی ہی ہوتی ہے مگر ہماری عوام کو ٹیکس دینے کا بہت شوق ہے جس کی وجہ سے حکومت اپنے دل پہ بھاری بھاری پتھر رکھ کر پتھردل ہوتے گئے ہیں مگر عوام کا شوق پورا کرنے کی خاطر آئے روز ٹیکس لگا لگا کر لیویز بڑھا بڑھا کر مجبورا” مہنگائی کرتے ہیں جسے عوام خوشی خوشی قبول کر لیتی ہے،کوئی چوں چراں بھی نہیں رتا۔ سچی ایسی عوام دنیا کے کسے دوسرے ملک میں نہیں پائی جاتی جیسی عوام ہمارے ملک کے حکمرانوں کو نصیب ہوئی ہے۔اس خوشی میں ہمارے حکمران گھرانے باہر کے ملکوں میں بھی چھوٹے چھوٹے منیِ پاکستان بنانے کے لئے جائدادیں خرید لیتے ہیں جس سے پاکستان کا نام بہت روشن ہوتا ہے۔ کسی بڑے سے بڑے ملک کے صدر یا وزیر اعظم کی مجال نہیں جو پاکستان میں اپنا گھر بنا سکے، مگر ہمارے صدر یا وزیر اعظم کی ہر ملک میں کچھ نہ کچھ جائداد ضرور ہوتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے بچے چھوٹی عمر سے ہی جائدا خریدنا شروع کردیتے ہیں اور بڑے بزنس ٹائکون بن جاتے ہیں۔۔پاکستانی محنتی جفا کش قوم ہے۔ دنیا ان کی جفا کشی اور دلیری کی قدر دان ہے۔ وردی کی بہت عزت کرتے ہیں اور سکولوں کالجوں میں سب کو وردی پہننا لازمی ہوتا ہے۔ہمارے حکمران اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور امریکہ سے ذرا بھر نہیں ڈرتے۔ ہمارے حکمران اپنی زندگی میں فرعونیت سے متاثر ہیں اور یزیدیت کے پیروکار ہیں مگر عوام کوفہ کی گلیوں میں بے بس و لاچار نظر آتے ہیں۔بادشاہ محلوں میں رہتے ہیں اور محلاتی سازشیں بنتے رہتے ہیں۔ صرف عیش و آرام سے زندگی بسر کرنے کے دلدادا ہیں۔ غریب عوام کے لئے حکم جاری کرتے ہوئے دل پہ بھاری پتھر رکھ لیتے ہیں اور پھر وہ پتھر عوام کی طرف اچھا ل دیتے ہیں۔ پتھر کے بوجھ سے عوام کی جان نکل جاتی ہے اور شہنشاہ عوام کا خون چوسنا شروع کر دیتے ہیں۔جتنا خون ہماری عوام کا چوسا جاتا ہے اس سے ایک عالمی بلڈ بینک قائم ہو سکتا ہے۔اس لئے ہمارے ملک کی لائف لائن باہر کے ملکوں سے آتی ہے۔اور ہماری ورکر عوام کی لائف باہر کے ملکوں میں محنت کرتے خون پسینہ بہاتے گزر جاتی ہے۔ جس سے ہمارے زرِ مبادلہ میں بہت اضافہ ہوتا ہے۔اور ہمارے ہاں قدرے خوشحالی بھی آتی ہے۔پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور دو قومی نظرئیے پہ ابھی تک قائم ہے، ایک حکمران قوم اور دوسری غلام قوم۔وہ تو انگریز کا بھلا ہو اس نے دو قومی نظریہ مان کر ان کو آزادی کی نعمت سے نوازا تھا۔ تاکہ ہم یہاں اپنی مذہبی اور جمہوری آزادی کے ساتھ دونوں قوموں کی زندگی کی ضمانت دے سکیں۔ دونوں قومیں اپنی اپنی زندگی میں مگن ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بڑے احترام سے رہتی ہیں۔دنیا کے ممالک ہماری عوامی آزادی کی مثالیں دیتی ہے۔عدلیہ کی آزادی تو فقید المثال ہےہمارے حکمرانوں نے تمام ملک کے مسائل پہ قابو پالیا ہے۔ صحت، غربت ، روزگار، مہنگائی، زرعی ترقی ، صنعتی ترقی، برآمدات، غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، اور تعلیم وغیرہ پہ ترقی کے باوجود ایک مسئلہ اٹکا ہوا ہے اور وہ ایک بہت ہی ضدی قسم کے قیدی کا سوال ہے۔ ہم دنیا بھر میں مذاکرات کی میز سجا لیتے ہیں مگر اپنے گھریلو مسائل پہ مذاکرات کے لئے میز نہیں ملتی۔ جس دن یہ مذاکراتی میز سج گئی اس دن بہت سے لوگ شکرانے کے نفل پڑھیں گے اور بہت سوں کو غشی کے دورے پڑیں گے۔ مگر یہ میز ابھی تک تیار نہیں ہو سکی اس لئے راوی چین لکھتا ہے، تو لکھنے دو اسے۔