لاہور سے معروف تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرکا ایوارڈ حاصل کرنے والےاخبار نوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے خصوصی تحریر
زوال ہی زوال۔۔۔۔۔
دوسری عالمی جنگ کے خاتمے 1945 کے بعد جو کچھ امریکہ نے طاقت و بالا دستی حاصل کی تھی اب 2026 میں وہ سب کچھ اس کے ہاتھ سے چھننے جارہا ہے۔ امریکی پِندار شکستہ کی کشتی دنیا نے بیجنگ میں ڈوبتے اپنی آنکھوں سے دیکھی ۔دنیا کا سب سے بدقسمت دورختم ہوتے دنیا دیکھ رہی ہے۔:کثیر قطبی یا دو قطبی نظام بین الاقوامی ریاستی نظام کے غیر یقینی دور کے بعد اب دنیا یکطرفہ یک قطبی چھتری تلے تاریخ کے بدترین اور غیر منصفانہ دور سے گزر کر آزادی کی طرف آگے بڑھی ہے۔زوال کی داستاں کے مصنف ،ٹرمپ کا شکریہ جس نے امریکہ کی بالادستی کو اپنے ہاتھوں سے مسل دیا۔ شائد امریکہ ڈرپوک نے ظلم و ناانصافی کو ہی پروان چڑھانے کا ہر حربہ استعمال کر کے چھوڑا ہے۔اگرچہ وسائل وافر مقدار میں دستیاب ہیں اور ٹیکنالوجی ترقی میں مزید پیشرفت میں معاون ثابت ہوسکتی ہے لیکن یکطرفہ پن اسے زخمی انسانیت کی بھلائی کے مرہم کےلیے استعمال نہیں کرسکا۔اس نے کھائیاں اور چوڑی کیں ہیں۔ اس نے زخمیوں کو مزید زخمی کیا۔ جنگوں اور سرد جنگ کے تناؤ کے بعد بہتر پیش رفت ہو سکتی تھی لیکن بدقسمتی سے یکطرفہ پسندی،بزدل یک قطبی نظام اس موقع کو صحیح طور پر مثبت انداز میں استعمال نہیں کر سکا اور تقریباً 40-35 تاریخی سالوں کی برکات و فیوض کو اندھے کنویں میں آگ و بارود کے ساتھ ڈبو دیا، تاریخ میں کبھی بھی تنہا طاقت یکطرفہ طور پر موجودہ دنیا میں واپس نہیں آئیں گی، نہ کبھی پہلے آئی تھی۔ تمام دستیاب وسائل کے ساتھ یکطرفہ قوت کے مواقع اور وقت کی ٹرین اب 2026-2025 میں ختم ہورہی ہے۔ سپر پاور کبھی بھی اس طاقتور چکر کو حاصل نہیں کر سکے گی اور نہ ہی اس کی طرف واپس آ سکے گی۔ افسوس، یہ ہمیشہ کے لیے بے فائدہ ہی کھو دیاگیا ہے۔طاقت فراصت ہی چھین لیتی ہے شائد؟ طاقت عقل و خرد کے قریب سے بھی نہیں پھٹکتی۔ اس سے زیادہ احمق و بد قسمت کون ہو گا؟ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ کرسکنے کی حماقت سر پھرےامریکہ کے علاوہ کون کر سکتا ہے؟ نہیں سمجھے؟ آسان کرتا ہوں، آپکے گھر پانی ہے، کھانا ہے، دودھ دینے کو گائے ہے، نوکر چاکر ہیں، مگر آپ یہ سب چھوڑ کر پڑوسی کے گھر میں تاک جھانک ، گالی گلوچ، توں توں میں میں میں لگے رہیں تو گائے کا دودھ کون نکالے گا، گھر میں کھانا کون سنبھالے گا، گھر کی ترتیب و تزئین کون کرے گا؟ خود تو وقت ضائع کیا پڑوسی کی توانائیاں بھی فضول کر دیں، یہ دنیا ہمارا گھر ہے اور ہم ہی اس کے رکھوالے ہیں۔گھر والے اپنے گھر کے کاموں میں لگے بھی رہیں تب بھی بیرونی لڑائیوں کے اثرات گھر والوں پہ ہی آئیں گے۔امریکیوں کو 1989 کے بعد جو دنیا میں یونی پولر سرپرستی بلا شرکتِ غیرے ہی ملی، اس سے وہ دنیا کا امن بحال کرسکتے تھے، دنیا امن کا گہوارا بن سکتی تھی،جو نہ کیا گیا۔بلکہ اور آگ بڑھکائی گئی۔ بلکہ ہر طرف آگ لگائی گئی؟ میں یہ بات گارنٹی سے کہتا ہوں کہ اگر امریکی دنیا میں قیام امن کا کام کر جاتے تو آج امریکیوں کی لوگ پرستش کی حد تک عزت دے رہے ہوتے۔ نہ نہ عزت تو چاہئے ہی نہیں، بس بے غیرتی ہی پھیلائی ہر ہر جگہ اور مار بھی کھائی ہر ایک سے، مگر ڈھٹائی و بے شرمی سے اسی راستے پہ چلتا رہا۔ بس تیل تیل تیل کرتے خود کو تیل میں ڈبو دیا اور آج بھی مرتے مرتے تیل تیل ہو رہی ہے۔باقی تاریخ اپنا کام کرتی رہے گی۔آپ اپنا کام جاری رکھیں!!!
یکطرفہ یک قطبی طاقت Unipolar بروقت مواقع کا مناسب انداز میں جواب نہیں دے سکی جیسا کہ عالمی برادری کے لیے مثبت انداز میں اس کی توقع اور ضرورت تھی۔، ، Multipolarism,Bipolarism بائی پولر ازم دو قطبی نظام کا نیا افق جلد ہی طلوع ہورہا ہےا اور زمین پر بہار کے موسم کے ساتھ زندگی کی بہتر حفاظت کے لیے کثیر قطبی نظام Multipolar کا رخ کر سکتا ہے۔جو دنیا کی سیاست کا محور ہو گا۔یہی ہونا ہے۔ ہماری کٹھ پتلیوں کو چڑھتے سورج کا پتہ ہوتے ہوئے بھی اشاروں پہ ناچنے کی عادت اتنی پختہ ہے کہ انہیں زمینی حقائق بدلتے ہوئے ہونے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ کسی کا کیا دوش ہے۔اپنے اقتدار سے آگے ، یا اپنی ناک سے آگے، کہاں ان کی سوچ جاتی ہے! یہ راز تو کھولنا پڑے گا۔
آپ سوچ سکتے ہیں کہ آدمی کو گرہ کاٹنے کے قابل ہونا چاہیے، کیونکہ ہر چیز کو کھولا نہیں جا سکتا۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ہر چیز کے لیے جو ضروری ہے اس کو کس طرح الگ کرنا ہے اسے زندگی کی ہر چیز کو یکساں طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہاں، یہ ایک آپشن ہو سکتا ہے اور تھوڑی دیر کے لیے غور کیا جا سکتا ہے۔زنجیریں کھلتی نہیں، کاٹنی یا توڑنی پڑتی ہیں۔بعض گرہیں کھلتی نہیں کاٹنی پڑتی ہیں۔ پنجابی میں بہت خوبصورتی سے یہ بات کہی گئی ہے، ہتھا ں نال دتیاں تے دنداں نال کھولیا ں ، یعنی ہاتھوں سے دی گئی گرہ دانتوں سے کھولنی پڑتی ہے۔ (مفہوم) یہی 76 سالوں کی زنجیروں کے ساتھ کرنا پڑے گا۔ اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اور زندانوں کی خیر نہیں، جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے۔اے خاک نشینوں اٹھ بیٹھو ، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے، جب تخت گرائے جائیں گے اور تاج اچھالے جائیں گے! (فیض)، فیض ایسے وقت کی تلاش نئی نسل کے حوالے کر گیا تھا۔ اب نئی نسل اپنا کام کرے یا نہ کرے۔مرضی کی مالک ہے، خاک نشینوں کے اٹھنے کا وہ وقت تو آن پہنچا ہے۔دستکیں دے رہا ہے!تھاڑ تھاڑ تھاڑ تھڑ! کانوں میں انگلیاں مت لیں اب!!!!یہ خاک نشینوں کے جاگنے کا وقت ہے۔ دنیا میں ہونے والے تمام مظالم یک قطبی نظام کی وجہ سے ہی ہوتے رہتے تھے۔ جو اب اپنی موت آپ مر چکا ہے اور مشرق سے ابھرتا ہوا نیا سورج طلوع ہو رہا ہے!!!