لاہور سے معروف تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائراخبار نوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے اہم تحریر
چلیں جنگ ختم، اب اپنی اپنی جنگ اپنے عوامی مسائل حل کرنے کے لئے لڑیں اورمہنگائی، جہالت اور غربت انصاف بجلی گیس کے لئے اپنے ملک کی فکر کریں، جنگ سے جو فائدہ جس نے اٹھانا تھا اٹھا لیا، جس نے جو عزت کمانی تھی کما لی، جس نے جو بیچنا تھا بیچ لیا، جس نے جو کردار نبھانا تھا نبھا لیا، جس نے جو ایوارڈ لینا تھا لے لیا۔جو صدمے برداشت کرنے تھے کرلئے۔ اپنے خسارے دیکھیں اور انہیں پورے کرنے کا سوچیں۔اب بس اپنے پرانے دھندھے پہ واپس آکر اپنی ڈیوٹی سنبھالیں۔ دو ماہ تک عوام نے کچھ نہیں پوچھا کہ قیاد تیں دنیا کے امن کے لئے کام کررہی ہیں۔ اب اپنے ملکی مسائل کے لئے امن مذاکرات کا اہتمام کریں۔عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔عوام کو دیوار سے مت لگائیں اور صبر کا پیمانہ ٹوٹنے سے پہلے پہلے کوئی ایران کے ساتھ گیس پیٹرول کے معاہدے پر عملی قدم اٹھائیں۔
ہوسکتا ہے بعض لوگوں کی مجبوری ٹرمپ کی گود میں بیٹھے رہنے سے ہو مگر اب عوام ملک کے فیصلے غیروں کی بجائے خود اپنے گھر میں اپنی غیرت و حمیت سے کرنا چاہتی ہے۔ چین روس اور دیگر ممالک پاکستان کی مدد کو آگے بڑھ رہے ہیں مگر امریکہ کی گود سے اٹھ کر اپنے پاؤں پہ خود کھڑے ہونے کے اسباب پیدا کریں۔دنیا ملٹی پولر سسٹم کی طرف لپک چکی ہے ، اپنا سسٹم خود بنائیں اور دنیا کو چلائیں۔ جتنی جغرافیائی اہمت عالمی سیاست میں درکار ہے وہ عطیہ خداوندی پاکستان کے پاس پہلے سے موجود ہے۔ جتنا اسلحہ بارود اور دیگر ہتھیار ضروری ہیں پاکستان کے پاس پہلے سے موجود ہیں اور جتنے دوست حمائت کے لئے چاہئیں وہ پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم کیوں وقت ضائع کریں اور ہر ایرے غیرے سے دوستی کر کے اپنا نقصان اور اس کا فائدہ کریں؟ ضرورت جن کو ہے وہ خود پاکستان آ جائیں گے۔ہم کیوں در در بھٹکتے پھریں؟دنیا والوں کو پاکستان کی ضرورت رہتی ہی ہے۔ اور یہ آئے روز مزید بڑھتی جاتی ہے۔ قدرت ایسے حالات پیدا کر چکی ہے جس کا فائدہ پاکستان کو ہوتا ہے۔ مگر ہماری قیادتیں کس کا فائدہ کرتی ہیں یہ ان کی مرضی ہے۔
اپنے ملک کے شہریوں کا فائدہ کرنا ہماری اپنی حکومتوں کا کام نہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے تو عوامی فلاح و بہبود کی جتنی بھی کوشش کی گئی ہے اس کا الٹا نقصان ہی ہوا ہے۔لوگوں کوانصاف نہیں مل سکا، مہنگائی کا جن لوگوں کا گلا گھونٹ کر انہیں ادھ موا کرچکا ہے۔ بے گناہ قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ طول پکڑ چکا ہے۔، آئین و قانون اور انصاف کی فراہمی ناممکن ہو چکی ہے۔میرٹ کی دھجیاں روئی کے گالوں کی طرح اڑا دی گئی ہیں۔ جنگل کا قانون اسی طرح چلتا رہا توجنگلی جانوروں کے علاوہ سب شہری نقل مکانی کر جائیں گے یا مر جائیں گے۔ ان حالات میں زندہ رہنا شہریوں کے لئے مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اہلیت و قابلیت کی بنیاد پہ باصلاحیت افراد کو مناسب معاوضے پہ ملازمتیں نہ مل سکیں۔ملکی دفاع مضبوط قوم سے ہوتا ہے یہ بات ایران نے تازہ مثال دیکر سمجھا دی ہے۔قوم کو مضبوط انصاف اور میرٹ سے کیا جا سکتا ہے۔ تعلیمی ادارے مضبوط ہوں تو اہلیت و قابلیت پرورش پاتی ہے۔ ورنہ تو جو ہورہا ہے اس کی بنیاد پہ صرف چوں چوں کا مربع بنتا ہے۔ اب مربع جات سے قومیں مضبوط نہیں ہوتیں۔سائنس اور ٹئکنالوجی کے شہر آباد کریں ، میرٹ کو متعارف کروائیں اور جدید دنیا میں عزت کے ساتھ جینے کی راہ نکالیں۔اوروں سے قرض لے کر اور قرض ادا کرنے کی عادت کو بدلیں۔ نئی نسل کو قرض کے خوف سے نجات دلائیں تو غیرت مند قوم اپنا دفاع خود کر لے گی!ہمارا دفاع اگرچہ بہت مضبوط ہاتھوں میں ہے مگر قوم مضبوط ہوگی تو دفاع کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔