معروف دانشور اور ممتاز سماجی شخصیت رانا محمود کی لندن سے نوائے وقت کے لیے ایک انتہائی خوبصورت تحریر
جتنا بڑا نام
اُتنا بڑا استقبال
ایک ہجوم ہو گا اُسے دیکھنے والوں کا ۔
ابھی چند روز قبل شارجہ انٹرنیشنل بُک فیئر میں آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار وِل سمتھ (Will Smith) کا سیشن اٹینڈ کرنے والوں کا ایک جمِ غفیر تھا ۔
لیکن
موت ایک ایسی وادی ہے جس میں قدم رکھتے ہی انسان، امیر ہو یا غریب، حاکم ہو یا محکوم، دونوں کا انجام ایک سا کہ دونوں ہی نام سے بے نام ہو جاتے ہیں ۔ زندگی بھر ساتھ چلنے والا نام بھی یہاں پہنچ کر ساتھ چھوڑ جاتا ہے اور پھر ایک نئے نام سے موسوم کر دئیے جاتے ہیں۔
میت … اور پھر دفنائے جانے کے بعد رہتی دنیا تک “مرحوم” ۔
بس اتنا سا فاصلہ ہے
نام سے بے نام ہونے تک کا،
پھراگر مسلمان ہے تو قبرستان
اور گر ہندو ہے تو شمشان ۔
ابھی کل کی بات ہے کہ دھرمیندر بھارتی فلم انڈسٹری کا بڑا نام تھا لیکن آج اُسے جلا کر راکھ کر دیا گیا ۔
بس انجام یہی ہے
مَنوں مٹّی تلے یا پھر راکھ کی اِک چھوٹی سی ڈھیری ۔
میرے والد مرحوم جو ایک اُستاد تھے اور مجھے شرف رہا کہ میں اُنکا شاگرد تھا ۔ بی اے میں فارسی آپشنل اُن سے پڑھی ۔ لڑکپن میں ایک روز کسی کو دفنانے گئے تو مَیں بھی اُنکے ہمراہ تھا، جب “میت” کو دفنا چُکے اور لوگ اپنے اپنے گھروں کی راہ لے چُکے تو قبرستان کی نُکڑ پر کھڑے ہو کر میرے والد مرحوم نے نئی نویلی قبر کو اداس نظروں سے ٹُک دیکھا اور قمر جلالوی کا دل دہلا دینے والا یہ شعر پڑھا جومیرے دل پہ نقش کر گیا ۔
دبا کے قبر میں سب چل دئیے دعا نہ سلام ۔ ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو ۔
اور
زندہ ہوتے ہوئے، مَیں یہ تو مَیں وہ اور یوں اکڑ کر چلیں گے کہ زمیں ہی پھاڑ ڈالیں گے اور یہ بھول جاتے ہیں کہ حکم تو یہ ہے
وَلَا تَمْشِ فِى ٱلْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ ٱلْأَرْضَ (سورہ اسراء)
اور زمیں پر اکڑ کے مت چلو کہ تم ہر گز اسے پھاڑ نہ سکو گے ۔
لیکن کیا کریں ہماری فرعونیت ہی نہیں جاتی کہ جیسے ہمیں موت ہی نہیں آنی ۔ تاہم حقیقت وہی ہے جو کتاب اللّٰہ میں لکھ دی گئی کہ
كُلُّ شَىْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُۥ ۚ لَهُ ٱلْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُون (سورہ قصص)
ہر چیز کو ہلاکت ہے سوائے اُس (خدا) کے بزرگ و برتر چہرے کے ۔ حکومت اُسی کی اور حُکم بھی اُسی کا اور اُسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔
یاد رہے
جس دن “ صور” میں پھونکا جائیگا اور وہ جنکے اعمال نامے اُنکے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے وہ پکار اُٹھیں گے
مَآ أَغْنَىٰ عَنِّى مَالِيَهْ ۜ
هَلَكَ عَنِّى سُلْطَـٰنِيَهْ
نہ تو دولت ہمارے کام آئی اور نہ ہی ہماری حکومت ہمیں بچا سکی ۔
پھر حکم ہو گا
خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ۔ثُمَّ ٱلْجَحِيمَ صَلُّوهُ
اسے پکڑو اور زنجیروں میں جھکڑ دو اور جہنم میں جھونک دو”
(سورہ الحاقہ)
“فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَار”
جائے عبرت ہے دوستو جائے عبرت