لاہور سے معروف تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرنوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے خصوصی تحریر
زندگی کے دوست اور زندگی کے دشمنوں کی جنگ: ساری دنیا امن کو پسند کرتی ہے مگر کچھ ہو جائے اسرائیل کو امن پسند نہیں، اور اگربنجمن نتنیاہو کو امن پسند نہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ کو کیسے ہو، اور اگر ٹرمپ کو امن پسند نہیں تو چاروناچار نیٹو کو بھی جنگ کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ مگر دنیا بدل گئی ہے اور پہلی مرتبہ دنیا نے نیٹو ممالک کو امریکہ کو ٹھینگا دکھایا ہے۔ لگتا ہے یوروپ اسرائیل سے آزادی حاصل کر کے اپنے خودمختارانہ حاکمیتِ اعلیٰ کا احساس کر چکا ہے۔ ورنہ توگزشتہ 80 برسوں سے جو ہدایات اسرائیل سے امریکہ اور امریکہ سے یوروپ اور خلیجی ممالک میں جاتیں ، وہی ہوتا رہا ہے۔ اس ایران امریکہ اسرائیل کی جنگ کا فائدہ تو خلیجی و یوروپی ممالک کو ہوا ۔ ورنہ توانکارکی صورت میں جان ایف کنیڈی امریکی صدرتک کو قتل کیا جا چکا تھا۔ عالمی جنگ اکیلے ایران نے لڑی اور آزادی سب کو مل گئی۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پہ بہت سے ممالک آزاد ہوئے تھے اور دنیا دوقطبی نظام کے شکنجے میں آ گئی تھی۔ مکمل حقیقی آزادی تو اب ساری دنیا کے ممالک کے حصے میں آئی ہے۔جنگ ایران نے لڑی اور آزادی ساری مخلوق خدا کو ملی!سب خلیجی ممالک کو آزادی پلیٹ میں رکھ کر مل گئی۔ امریکی اڈوں کا مقصد اسرائیل کی حفاظت تھا، اور اس کا ہرجانہ خلیجی ممالک بھرتے رہے۔ سب ایران کا شکریہ ادا کریں اور پاکستان کا امن مذاکرات کا تشکر بجا لائیں۔اس تاریخی سنہری کامیابی پہ شادیانے بجائیں مگر مہنگائی کا ذکر زبان پہ مت لائیں!کیونکہ اس جنگ کو رکوانے میں ہمارے وسائل کچھ زیادہ ہی استعمال ہوئے ہیں!مہنگائی تو ہونی ہی تھی!عوام کی قسمت میں قربانی کا بکرا بننا ازل سے ہی لکھ دیا گیا ہے شائد!
انکل سام کی بادشاہت کا زمانہ ختم ہوا، اس کا سورج غروب ہوا اور مخلوقِ خدا اپنے حقیقی خالق و مالک کی بندگی سے آزادی کی نئی صبح کے طلوع سے اپنی زندگی گزار سکتے ہیں! طاغوت شکست کھا چکا ہے،چالیس روزہ جنگ کے ایک ہی جھٹکے میں یونی پولر دنیا ملٹی پولر نظام کی طرف رواں دواں ہو چکی ہے۔۔ ایک ہی مردِ حرُ ، مرد قلندر کی حریت پسند شہادت گہہ الفت نے تاریخ کا دھارا پلٹ کے رکھ دیا ہے۔ اب افق پہ نیا سکرپٹ لکھا جا چکا ہے۔ اپنے اپنے حصے کا رول سمجھ کر چلنا ہر عقل مند انسان کا کام ہے۔ دراصل یہ جنگ دو گروہوں کی جنگ ہے، ایک طرف حکمت و دانش ہے تو دوسری جانب طاقتور جہالت ہے۔
کسی طاقتور ملک کا سربراہ ہونا ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ہر کوئی اپنے ملک کا سربراہ ہونے کی خوبیاں بھی نہیں رکھتا۔بعض ملکوں میں ایسے ایسے حکمران بھی بنا دئیے گئے جنہیں دیکھ کے باقاعدہ گھِن آتی ہے۔ ایسے ایسے نفیس انسان خدا نے پیدا کئے ہیں مگر ان کا نصیب اتنا اچھا نہیں بنایا۔مگرمحوِ حیرت ہوں کہ بعض جانوروں کی خصوصیات والے لوگ حکمران بن جاتے ہیں، گو کہ آج کا نظام عوام کی پسند ناپسند پر مبنی لگتا ہے اور اپنے حکمران کا انتخاب بھی عوام ہی کرتے نظر آتے ہیں، مگر یہ حکمران کہاں سے آتے ہیں، بہت مشکل سوال ہے، ان کا سمجھنا آسان نہیں!کوئی زمانہ تھا بڑے قابل ذہین محنتی بہادر افراد کو حکمران بنایا جاتا تھا۔جس کے نتیجے میں ابراہیم لنکن امریکہ کا صدر بنا، غریب مگر ذہین اور اعلیٰ دماغ کا انسان جس نے امریکی سوسائیٹی کو درست خطوط پہ استوار کیا، اور اب امریکیوں نے ایک ایسے دولتمند شخص کا انتخاب کیا جس کے پاس دولت تو بہت ہے مگر اعلیٰ انسانی قدریں اور ذہانت نہیں ۔ وقت نے کیا کیا امریکی عوام کو دیکھنے پہ مجبور کر دیا تھا۔
ایران امریکہ اسرائیل جنگ کے پیش منظر دوران پس منظر میں اصل جنگ دو طاقتوں کے درمیان رہی۔ ایک طاقت تمام مسلمان ممالک کو آپس میں لڑوانے کی کوشش کر رہی تھی اور ایک دوسری طاقت مسلمان ممالک کو صبر کرنے اور لڑائی سے باز رہنے کی تاکید کرتی رہی۔ آکر امن پسند طاقت کی فتح ہوئی اور مسلم ممالک کے درمیان صلح و امن قائم رہا،تو یہی جنگ پسند طاقت کی شکست تھی۔ کیونکہ اس کا یہ منصوبہ ناکام ہو چکا تھا اور شیعہ سنی کا جھگڑا پیدا نہیں ہوا،اِکا دُکا ناعاقبت اندیش مسلمان عالم، جس کے بھی کہنے پہ، شیعہ سنی کے تفرقے پہ کام کرتے رہے مگر ان کی کسی نے ایک نہ سنی۔ ان کا چورن نہ بکا۔ ان حالات میں یہ چورن بے کار ہو چکا تھا۔ امن پسند قوت کی جیت سوائے دو ملکوں کے ساری دنیا کے ممالک کو پسند آئی اور امن پسند طاقت کو ساری دنیا نے سراہا!
اس جنگ کو عالمی جنگ بنانے کی تمنا رکھنے والے بھی اپنی کوششیں کرچکے اور ابھی بھی ہوائیں دے رہے ہیں کہ کسی طرح یہ تیسری عالمی جنگ بن جائے اور دنیا تباہ ہوجائے۔ دنیا کو تباہ کرنا بھی اسی دھرتی کے چند لوگوں کی آرزو رہی ہے۔ اگر دنیا کے ممالک اس مخمصے سے صاف بچ کے نکل گئے تو امن کی جیت ہوگی اور فتنہ و فساد کی شکست رقم ہو جائے گی۔ اب اس کرہ ارض پہ بسنے والے تمام انسانوں کو سمجھ آنا مشکل نہیں کہ کون فتنہ پرور اور کون امن پسند ہے!ان کے نام لوگوں کی ٹپس پہ آچکے ہیں ۔ کھوٹے کھرے، منافق غنڈے، بے ایمان، لچے لفنگے سب صاف نطر آنے لگے۔ انسانیت کے دوست اور انسانیت کے دشمن جتنی صراحت و وضاحت سے آج سب کے سامنے بے لباس ہوئے، ایسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
ایک اور قضیہ اس جنگ کی طوالت کی وجہ بن سکتا ہے کہ کسے فاتح اور کسے شکست خوردہ کہا جائے۔ اس جنگ میں ہر لڑاکو ملک فاتح بننا چاہتا ہے فتح و شکست کا سوال جنگ سے بڑا ہے اور باوجود اتنے نقصانات اور جانوں کے چلے جانے سے کوئی بھی ہار کے بھی، ہارا ہوا محسوس نہیں ہونے دینا چاہتا۔ دنیا جانتی ہے کون ہارا کون جیتا، جنگ میں کوئی بھی فاتح نہیں ہوتا۔مگر بھوت سوار ہے کہ فتح کا جھنڈا لہرا کے دکھائیں! حالانکہ فتح کی مبارکباد ایران کا حق ہے جو اسے ملنی چاہئے! جن ملکوں نے اس جنگ سے خود کو بچا لیا ، ان کو مبارک ہو، جن ملکوں نے امن کی بات کی ان کو مبارک ہو اور جن لوگوں نے حق سچ کا ساتھ دیا ان کو مبارک ہو!جن لوگوں نے شیعہ سنی فساد پیدا نہیں ہونے دیا ان کو مبارک ہو۔ یہ سب لوگ جیتے ہوئے ہیں اور طاغوت یہ جنگ ہار چکا ہے۔آپ کو انسانیت کی جیت مبارک ہو!