3پنکیوں کا دیس،کھولے کیا کیا بھید اور3مولوی، ان کو دیکھ کرشرمایئں ہنود و یہود

بےنظیر بھٹو پہلی پنکی، دوسری پنکی بشریٰ بی بی اب تیسری پنکی انمول، علما میں مولانا فضل الرحمان، مولانا خادم حسین رضوی اور مولانا طاہر اشرفی، ان کو دیکھ کر ہنود و یہود شرماتے ہیں

لاہور سے ممتاز تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرکا ایوارڈ حاصل کرنے والےاخبار نوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے موازناتی تحریر

پنکیوں کا دیس،کھولے کیا کیا بھیس، نشے کا راج
مولانا ابوالکلام آزاد کے پاکستان کے متعلق فرموداتِ عالیہ کا حوالہ دئیے بغیر اور غالب کا بادہ خوارہونا الگ رکھتے ہوئے ہی اگر ہم صرف آئے روز ہمارے دیس میں پیدا ہونے والی پنکیوں اور پنکوں کے کھلتے ہوئے بھیس کا بنظر غائر ایک جائزہ لیں تو کئی قسم کے راز افشا ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک کی تعمیر و ترقی، بودو باش، افزائش دولت، پرورشِ لوح و قلم، معاشرت و ثقافت و معیشت و سیاست اور انتظام و انصرام، آئین و قانون اور آئینی ادارے، عدلیہ، سیکیورٹی ادارے اور دیگر ایجینسیوں کی اٹھان، نمو اور کارکردگی کی نہ صرف جھلک بلکہ پوری فلم چل پرتی ہے اور ہمارے نشریاتی ادارے دن رات بار بار تفریحی پروگرام کی مانند نشر کر کے ناظرین و سامعین کےشوق کی تسکین کا سامان مہیا کرتے اور دل بہلاتے ہیں۔تو عجیب محسوس نہیں ہوتا۔
ہمارے دیس نے جہاں تین پنکیاں پیدا کی ہیں وہاں تین ایسے عالم پیدا کئے ہیں جن کا ذکر کئے بغیر پنکیوں کے دیس کی کہانی مکمل نہیں ہوتیَ جہاں تینوں پنکیوں نے ہمارے سماج پہ اپنے اپنے انداز میں اپنی اپنی طرز پہ گہرے صدمات لئے اور گہرے اثرات چھوڑے ہیں وہیں ان تین عالموں نے بھی ہمارے سیاست پہ گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ بے نظیر بھٹو پہلی پنکی ہے جس نے اپنے والد ذولفقار علی بھٹو کی شہادت کا دکھ سہا اور اپنے دور کی مخالف سیاست کی سخت دشوار گزار راہوں پہ چل کر اپنے پارٹی کو سیاست کی پٹڑی پہ واپس چڑھا کر اس خار دار راستے پہ چلتے چلتے جامِ شہادت نوش کیا اور امر ہوگئی۔ دوسری پنکی بشریٰ بی بی پنکی پیرنی کے نام سے مشہور ہوئی اور اپنے مرید عمران خان نیازی کی زوجہ بن گئی اور پی ٹی آئی کے دورِ اقتدار کی سب سے طاقتور خاتون بنی۔ اب تیسری پنکی انمول کوکین کوئین بن کر اس وقت میڈیا پہ چھائی ہوئی ہے۔ تینوں پنکیاں بہادر، نڈر اور اپنے اپنے نصب العین کی پکی اوراپنی کوشش سے اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب رہیں۔پنکیوں کا باہمی پنکی ہونے کے حوالے سے اگرچہ کوئی مقابلہ یا موازنہ نہیں مگر پاکستان پنکیوں کا دیس کہلا سکتا ہے جو اس طرح کی خواتیں کو پیدا کرتا ہے اور ان کی ذہانت کو چیلنج دے کر انہیں بھیس بدلے ہوئے معاشرے پہ اثر انداز ہونے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ہمارا معاشی، انتظامی، سیاسی اور ثقافتی سٹرکچر ایسے نامور لوگ پیدا کرتا ہے اور خصو صی طور پہ خواتین کو مکمل آزادی دیکر کر انہیں اپنی صلاحتیں و ذہانت آزمانے کی دعوت دیتا ہے، چھپے ہوئے راز افشا ہوتے ہیں اور وہ یہ سماجی بے راہ روی قبول کر کے اپنا اپنا رنگ جما لیتی ہیں۔
اسلام کے نام پہ قائم ہونے والے پاکستان میں دین کے نام سے تین علمائے کرام پیدا ہوئے ہیں جو سیاست کے میدان میں اپنا اپنا الگ الگ مقام رکھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان، مولانا خادم حسین رضوی اور مولانا طاہر اشرفی۔ یہ تینوں علما ہمارے ملک میں دین اسلام شریعت کی سیاسی و اخلاقی و روحانی اعلیٰ ظرفی کی منہ بولتی تصویریں ہیں اور دین اسلام کی خدمت میں پیش پیش ہیں، ان کو دیکھ کر ہنود و یہود تو شرماتے ہی ہیں،ان کو دیکھ کرمذہب کی جو تشریح بن سکتی وہ آپ اپنے اپنے خیال کے مطابق سمجھ سکتے ہیں۔ایک دانا آدمی نے ایسے ہی شخصیات کو دیکھ کر مذہب کو نشہ قرار دے دیا تھا۔پہلی پنکی نے سیاست کو نشہ بنایا ، دوسری نے عمران کا سہارا لیا اور تیسری پنکی کوکین کوئین نے نشے کا جادو کاروبار سے کیا۔
ٹرمپ کو تیل کا نشہ ہے، نتنیاہو کو گریٹر اسرائیل کا نشہ ہے، مودی کو اکھنڈ بھارت کا نشہ ہے، پاکستانی حکمرانوں کو عوام کے خون پینے کا نشہ ، نشہ ہی نشہ ہے۔ ایران کو فلسطین کا نشہ، شہباز کو اقتدار کا نشہ، زرداری کو کمیشن کا نشہ، انمول پنکی کو کوکین کی دولت کا نشہ، سارا سماج ہی کسی نہ کسی نشے پہ لگا ہوا ہے۔ نشے میں سارا جہاں ڈوبا ہوا ہے۔ اس لئے عقل دانش بھی نشے کا شکار ہورہے ہیں۔ نشے میں سارا جہاں جل گیا ہے۔آنے والی نسلیں بھی نشے کا شکار ہو رہی ہیں اور گھر اجڑ رہے ہیں، بستیاں اجڑ رہی ہیں، انسانیت سسک رہی ہے اور مقتدر حلقے اپنے اقتدار کے نشے میں دھُت ہیں۔ یہ ملک پنکیوں کا دیس اور بھنوروں کا راج بن گیا ہے۔ انمول پنکی کا شکریہ جس نے رہا سہا پردہ بھی چاک کر دیا یے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی ان کا پردہ تار تار کرکے ان کو ننگا کرتا ہے اور خود بھی ذلیل ہوتا ہے۔ پردہ رہے تو کچھ بچتا ہے اور اگر پردہ نہ رہے تو کچھ نہیں بچتا۔ جو بچتا ہے وہ کفِ افسوس مَلتا رہا ہے۔آؤ سب مل کر کسی دن افسوس کا دن منائیں اور ان نشئیوں پہ ایک ساتھ دھاوا بولیں، ورنہ تو نشہ سر چڑھ کے راج کرتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *