تحریر:یوسف غوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاہور
28 فروری 2026 کوگریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت کے دیوانوں نے اپسٹین فائیل کی بلیک میلنگ کے ذریعے ٹرمپ کو بیوقوف بنا کر ایران پہ حملہ کردیا، ٹرمپ جتنا بیوقوف نظر آتا تھا، اس سے کہیں زیادہ ہی نکلا، یا شائد بنا لیا گیا۔ ۔جنگ تو 1979 سے طاری تھی جب سے انقلاب ایران آیا تھا،انقلاب اسلام اسرائیل کے برداشت سے باہر تھا، امریکہ سے پابندیاں لگوائیں اور ایران 47 سالہ تنہا گھٹن، بے یارو مددگار، بے بسی کی زندگی گزارتا رہا۔کوئی اسلامی کانفرنس کی میٹنگ کال ہوئی نہ ایران نے کسی کو مدد کے لئے پکارا، تنہا دکھ سہتا رہا جنگ مسلط رہی، کبھی عراق سے لڑوا دیا کبھی کسی اور سے حملہ کروا دیا۔ انتقام کی آگ بھڑکتی ہی گئی۔ اسلامی انقلاب عدم برداشت کا شکار رہا۔یہ اسلام کی تجدید کبھی طاغوت کو پسند نہیں آتی، اور یہ حق و باطل کی جنگ ازل سے جاری تھی اس میں1881 کے بعد سے مزید شدت آتی گئی اور آخری انتہاؤں کو چھوتے ہوئے 28 فروری کو ایران پہ حملہ آور ہوگئی، ایران بھی اپنے جذبہ ایمانی کی طاقت مجتمع کر کے بیٹھا تھا اللہ ہہ بھروسہ کر کے جوابی کاروائی کرتا رہا۔اسرائیل اور امریکہ کی بمبارمنٹ مشین بارود برساتی رہی اور ایران کے تعلیمی و صحت کے ادارے شہری سہولتوں اور عمارتوں پہ بم برساتے رہے۔ ایران نے اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور امریکی ٹیکنالوجی کو دھول چٹا دی، بین القوامی تجاری گزرگاہ آبنائے ہُرمز بند کردی تو دنیا کو اس کی ہولناکی کا اندازہ ہوا۔اسرائیل اور ایران دونوں ایک دوسرے کو مٹا کر ختم کرنے کی حد تک جا پہنچے تھے۔دونوں طرف نقصان بہت ہوچکا تھا، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں یا شہادت کے مرتبے پہ پہنچ چکی تھیں۔نہ جانے کس کی جیت کا انتظار تھا۔ جنگ تو خود ایک شکست ہے۔ سب ہار چکے تھے۔
آخر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بہادر سپوت ہی کام آئے اور متحارب ملکوں میں سے ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پہ 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد بٹھا دیا۔ دو دن بات چیت رہی مگر مذاکرات لاحاصل رہے اوراسلام آباد سے کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہ آیا۔وہ ایک مسئلہ جس کا تقاضا امریکہ کی زبانی بہت زیادہ تھا یہ رہا کہ کسی صورت ایران کو ایٹم بم نہیں بنانے دیں گے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قیادت کا فرض تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کو بتا دیتے، ذرا حوصلہ دے دیتے، کہ ہمارا اسلامی بم بھی تو آپ ہی کا ہے، جب ضرورت پڑے لے جانا، ابھی ضد چھوڑ کر کوئی ایگریمنٹ کر لو اور جنگ ختم کرو۔ یہ مذاکرات کا ایسا سنہری موقع شائد دوبارہ نہ آئے، جس کے دوران چپکے سے ایرانی قیادت کو تسلی دی جاسکتی تھی ، کہ ہمارا اسلامی بم بھی تو ایران کا ہی ہے۔ کہہ دیتے، اور بات آگے بڑھ جاتی، مگر کہہ نہ سکے۔قصور وار تو ہماری قیادت ہوئی نا!اتنا بڑا سنہری موقع صدیوں میں ہاتھ آتا ہے۔ اب آپ ہی بتائیں ہم کیا کہیں؟ آپ ہی کچھ نہ کچھ کہہ لیں! دونوں کو ایک کمرے میں دو دن بند رکھا، نہ کچھ لیا نہ کچھ دیا، کھسرے نال کھسرا سوتا، نہ کچھ لیا نہ کچھ دتا۔پنجابی اکھان۔