ایک مرد قلندر نے تاریخ کا دھارا پلٹ کے رکھ دیا،ایران نے جنگ سے مخلوق خدا کو آزادی دلوا دی!

خود ساختہ شہباز کے پرخچے اڑا گئے، بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ تو سنا تھا، مگر پرائی جنگ میں امریکہ دیوانہ، زمانے نے 2026 میں دیکھا

لاہور سے ممتاز تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرنوائے وقت کے لئے فکر انگیز خصوصی تحریر

ایک مرد ِ قلندر کی جنگ نے مخلوق خدا کو آزادی دلوا دی!
مذاکراتی شب باشی کے بعد اب وسوسوں نے آ گھیرا، اور رہ رہ کے خیال آنے لگا، کہ ابھی مذاکرات کا ایک دور ہوا ہے، کچھ رہ گیا ہے، یہ پہلی پہلی ملاقات تھی۔دوسری ملاقات کی تمنا بڑھنے لگی، ان کہے فسانے یاد آنے لگے! دھمکیاں اپنا کام کریں نہ کریں، ملاقاتوں اور باتوں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ بات چل نکلی ہے دیکھیں کہاں تک پہنچیے۔لگتا ہے یہ تحریر بھی تیزی سے بدلتے ہوئے حالات و واقعات کے ساتھ بدلتی اچھلتی کودتی ، اٹکھیلیاں کرتی رہے گی!
ممولے کو شہباز سے لڑنے کی حسرت حضرتِ اقبال کی شاعری میں سنی تھی، مگر ایران نے میدان جنگ میں خود ساختہ شہباز کے پرخچے اڑا کے شہباز شریف کے ہاتھوں اسلام آباد ایک مزاکراتی ٹیبل پہ لا کر بٹھا دیا۔ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ تو سنا تھا، مگر پرائی جنگ میں امریکہ دیوانہ زمانے نے اب 2026 میں دیکھا۔ 10 اور 11 اپریل کو مذاکراتی ٹیبل پہ کوئی حل نکل آتا مگر اسرائیلی لومڑی کو یہ قبول نہیں تھا۔ آخر وہی ہوا جو اسرائیل ڈوری ہلا رہا تھا، کچھ مار کُٹائی اور ہو جائے تو شائد پھر کسی ٹھہراؤ کی کیفیت طاری ہو، جے ڈی وینس نے کچھ بھی نہ کہا اور کچھ کہہ بھی گئے، کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے۔ اور کسی اگلی ملاقات میں واپس آنے کا اشارہ بھی دے گئے۔ مذاکرات کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستانی حکمرانوں کو ہوا، مذاکرات کی ڈھال میں پاکستانی عوام اپنے مسئلے بھول بھال کر اسلام آباد ہونے والی سرکس کا تماشہ دیکھنے میں گُم سُم مگھن ہوگئے اور حکمران مہنگائی کا ایٹم بم اپنے ہی وطن پہ چلانے اور فارم 47 کی حکومت چلانے سے بہت آگے نکل چکے تھے۔ خارجی حالات کے بدلاؤ میں مذاکرات کے شور میں داخلی استحکام کسی نعمت سے کم نہیں۔وہ گنتی کے چند مسائل جس ترتیب و شدت سے اٹھائے جا رہے تھے، ان کی گنتی ہی لوگوں کو بھول گئی یا بھلا دی گئی۔ امن کے ڈنکے بج اٹھے تھے،ہم ایک امن پسند قوم بن کر دنیا کی سیاست پہ چھا چکے ہیں اور ہماری مثالیں دی جارہی ہیں۔ ساری دنیا ہماری کوششوں کی معترف ہے۔ عوام کو خوش ہونا چاہئے کہ ہم دنیا میں باعزت قوم بن چکے ہیں۔ عزت کسے اچھی نہیں لگتی؟ ہماری قیادت کی کارکردگی سے ٹرمپ بھی خوش ہے اور دیگر عالمی رہنما بھی قطار اندر قطار فون کر کر کے ہمارے رہنماؤں کو شاباش دے رہے ہیں۔ ایران امریکہ جنگ ہو، یا روس افغانستان جنگ ہو، یا کوئی اور ہماری پاک فوج کی ایسی دھاک بیٹھ چکی ہے کہ عالمی اندھیرنگری میں سب ممالک کو پاک فوج ہی روشن ستارے کی مانند نظر آتی ہے۔ پاک فوج زندہ باد۔میری مانیں تو دنیا کی ساری افواج کو ختم کرکے ایک پاک فوج کو عالمی امن کا نگران مقرر کردینا چاہئے۔انتونیوگتروس کو چیف آف دا پاک فوج بنا دیا جائے تو دنیا امن کا گہوارا بن سکتی ہے۔ فیلڈ مارشل اگر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں تو یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گتروس کا ساتھ بھی نبھا سکتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستانی پی ایم اور فیلڈ مارشل نے مل کر کس طرح دنیا میں امن کی نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔
ساری دنیا امن کو پسند کرتی ہے مگر کچھ ہو جائے اسرائیل کو امن پسند نہیں، اور اگربنجمن نتنیاہو کو امن پسند نہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ کو کیسے ہو، اور اگر ٹرمپ کو امن پسند نہیں تو چاروناچار نیٹو کو بھی جنگ کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ مگر دنیا بدل گئی ہے اور پہلی مرتبہ دنیا نے نیٹو ممالک کو امریکہ کو ٹھینگا دکھایا ہے۔ لگتا ہے یوروپ اسرائیل سے آزادی حاصل کر کے اپنے خودمختارانہ حاکمیتِ اعلیٰ کا احساس کر چکا ہے۔ ورنہ تو جو ہدایات اسرائیل سے امریکہ اور امریکہ سے یوروپ اور خلیجی ممالک میں جاتیں ، وہی ہوتا رہا ہے۔ اس ایران امریکہ اسرائیل کی جنگ کا فائدہ تو خلیجی و یوروپی ممالک کو ہوا ۔ عالمی جنگ اکیلے ایران نے لڑی اور آزادی سب کو مل گئی۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پہ بہت سے ممالک آزاد ہوئے تھے اور دنیا دوقطبی نظام کے شکنجے میں آ گئی تھی۔ مکمل حقیقی آزادی تو اب ساری دنیا کے ممالک کے حصے میں آئی ہے۔جنگ ایران نے لڑی اور آزادی ساری مخلوق خدا کو ملی!سب خلیجی ممالک کو آزادی پلیٹ میں رکھ کر مل گئی۔ امریکی اڈوں کا مقصد اسرائیل کی حفاظت تھا، اور اس کا ہرجانہ خلیجی ممالک بھرتے رہے۔ سب ایران کا شکریہ ادا کریں اور پاکستان کا امن مذاکرات کا تشکر بجا لائیں۔اس تاریخی سنہری کامیابی پہ شادیانے بجائیں مگر مہنگائی کا ذکر زبان پہ مت لائیں!کیونکہ اس جنگ کو رکوانے میں ہمارے وسائل کچھ زیادہ ہی استعمال ہوئے ہیں!
انکل سام کی بادشاہت کا زمانہ ختم ہوا، اس کا سورج غروب ہوا اور مخلوقِ خدا اپنے حقیقی خالق و مالک کی بندگی سے نئی صبح کے طلوع سے زندگی گزار سکتے ہیں! طاغوت شکست کھا چکا ہے۔ ایک ہی مردِ حرُ ، مرد قلندر کی حریت پسند بہادری نے تاریخ کا دھارا پلٹ کے رکھ دیا ہے۔ اب افق پہ نیا سکرپٹ لکھا جا چکا ہے۔ اپنے اپنے حصے کا رول سمجھ کر چلیں!شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *