نقطہ نظر:ثمینہ رحمت منال -انگلینڈ
الحمدللہ اردو کی طویل غزل سے متاثر ہو کے اس سے زیادہ طویل غزل کہہ دی ہے اب اس طوالت کو اپنی مرضی پہ اور خدا کی مرضی پہ لا کے ختم کر دوں گی اور آپ سب کتابی شکل میں پڑھ لیجئیے۔ مجھے پتا ہے کون کون سے پبلشرز بکاؤ ہیں اور میرا بتیس سال کا کلام چوری کر کر کے کس کس کے نام سے چھپوا تے ہیں مگر اب جھوٹ کا مقابلہ سچ سے ہوگا ۔ بزدل کا مقابلہ بہادر سے ہو گا۔ چور کا مقابلہ سعد سے ہو گا ۔ حق کا مقابلہ باطل سے ہو گا۔ خدا کی ودیعت کردہ تحفے کا مقابلہ چوروں کے جھوٹ ان کی دولت ان کی سازش اور ان کے چہرے پہ پڑے ہوئے ان نقابوں سے ہوگا جن کے اترنے کی دیر ہے۔ وہ لوگ پوری دنیا میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے- آ جاؤ میدان میں – اور ہاں میرے عہد میں زندہ کوئی شاعر یا ادیب یا شاعرہ یا ادیبہ اپنے آپ کو مرنے کے بعد فیض احمد فیض بنوانے کی کوشش نہ کرے کیونکہ میں اپنی زندگی میں سب کو للکار چکی ہوں کہ جو شاعر اور ادیب اصلی شاعروں کو لاپتہ بنوا کے انہیں پاگل خانوں میں پھینک کے ان سے بچے چھین کے شاعر اور ادیب نہیں بنا وہ عدالت کا رخ کرے اور اپنے آپ کو شاعر و ادیب ثابت کرے ۔ ایسا کسی نے نہی کیا کیونکہ یہ سب ادبی چکلے ادبی دلالوں کی مرضی سے حکومتوں کی زیر نگرانی چلائے جاتے ہیں – اپنی مرضی کے جھوٹے شاعر و ادیب پیدا کئے جاتے ہیں میرے جیسوں کی لاشوں پہ۔ اگر لاش زندہ ہو سکتی ہے تو باقی معجزے بھی ہوں گے اور انُ معجزوں کا انتظار کرو _ خدا کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں اور خدا کی لاٹھی بے آواز ہے مگر گھڑی کی سوئیاں ٹک ٹک ضرور کرتی ہیں بس اس پہ نظر رکھو –