لاہور سے ممتاز تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرکا ایوارڈ حاصل کرنے والےاخبار نوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے خصوصی نقطہ نظر
صرف ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ امریکہ ایران اسرائیل جنگ کی اصل وجہ کیا ہے؟ اگر آپ اصل وجہ یا وجوہات تلاش کرنے پہ جائیں تو آپ حیران ہوتے جائیں گے۔کیونکہ اصل وجہ ایک مفروضہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا لے گا۔ کیسے بنا لے گا، کیونکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا لے گا جس کا اسرائیل کو خطرہ بڑھ جائے گا۔ پچھلے 47 سال سے یہی بات بار بار کی جاتی ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنائے گا اور اس سےاسرائیل کے لئے خطرہ بڑھ جائے گا۔مودی بھی نتن یاہو کو بتانے آیا تھا کہ نو من تیل افغانستان میں جمع کر لیا گیا ہے اور پاکستان کو انگیج کر لیا گیا ہے،اب تو رادھا گھنگرو توڑ کر ناچ سکتی ہے۔اس لئے اسرائیل نے پہلے 28 فروری کو امریکہ کو میدان میں چھوڑا اور پھر خود تیل کے ڈرم میں کود گیا۔ اسرائیل کو تیل سے ڈر ہے کہ نو من تیل امریکہ لے جائے گا تو کیا ہوگا۔رادھا ناچ ناچ کر پاگل ہوگئی ، مگر ایران نے ان کو تگنی کا ناچ نچا دیا ۔نتن یاہو ٹرمپ کو یقین دلاتا ہے کہ ایران ایٹم بم بنانے ہی والا ہے، بس عنقریب دھماکہ کر دے گا۔ یہ بات سب مفروضوں پہ مبنی ہے۔
دوسری بات ٹرمپ کو تیل دیکھ کر اس کی باچھیں کھِل جاتی ہیں اور منہ سے رال ٹپکنے لگتی ہے، اس لئے تیل پیدا کرنے والے ممالک اس کے ناشنے پہ ہیں،۔ ایران تیل کی پیداوار کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ ٹرمپ کی رال ٹپکتی ہے اور اسرائیل کو مستقبل کے خطرات گھیرتے ہیں تو حملے کا ارادہ پختہ ہوجاتا ہے۔ امریکہ کو تیل پہ قبضہ کرنا ہے اور اسرائیل کو اپنے پیشگی خطرے سے نمٹنا ہے۔ یہ اسرائیل کو کیا فرضی خطرہ ہے؟ کیونکہ اسرائیل اپنے مشرقِ وسطیٰ کے سب ممالک پہ قبضہ کرکے گریٹر اسرائیل بنا نا چاہتا ہے۔خطرہ تو خلیجی ممالک کو اسرائیل سے ہے۔ یہ اسرائیل کے اندر کا خوف ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے اس کا رستہ صاف ہو اور کوئی مزاحمت کے قابل ملک نہ ہو۔ یعنی مشرق ِ وسطیٰ میں ایک بھی ملک طاقتور نہ ہو جو اسرائیل کے عزائم کے راستے کی دیوار بنے۔نہ صرف دیوار نہ بنے بلکہ کوئی روکاوٹ بھی نہ کھڑی کر سکے۔ اسرائیل دراصل اپنے توسیع پسندی کے راستے ہموار کرنےکے لئے ساری دنیا سے اپنی مخالفت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ عراق کو ایسے ہی مفروضے بنا کرتباہ کیا، لیبیا کو برباد کیا، شام کو اجاڑ دیا، لبنان میں تباہی پھیر دی، اور اب ایران پہ انہی مفروضوں کے تعاقب میں یلغار کردی۔ایک لطیفہ یاد آرہا کہ ایک پاگل شخص اس کی پاگل پنے کی حرکتوں کی وجہ سے گھر والوں نے علاج کی خاطر مینٹل ہاسپیٹل میں داخل کرا دیا، کیونکہ وہ ایک ہی بات بار بار کہتا ،غلیل بناؤں گا، شکار پہ جاؤں گا اور چڑیاں مار کے لاؤں گا، پھر پیٹ بھر کے چڑیوں کے کباب تل کے کھاؤں گا۔ ہر گھڑی غلیل کی تکرار سے گھر والے تنگ آکر اسے مینٹل ہاسپیٹل جمع کرا دیتے ہیں، علاج شروع ہوا اور چھ ماہ بعد ڈاکٹروں نے اس کی صحت کی بہتری چیک کرنے کے لئے اس سے پوچھا ، ہاں بھئی اب کیا ارادہ ہے اگر چھٹی دی جائے تو، وہ بولا گھر جا کر نہاؤں گا کپڑے بدلوں گا ، پھر غلیل بناؤں گا اور شکار کروں گا۔ ڈاکٹروں نے علاج کی مدت اور بڑھا دی کہ ابھی کچھ ماہ اور دوا دارو کرتے ہیں، پھر تین ماہ بعد چیک کیا گیا تو پوچھنے پہ بول کہ یہاں سے جاکر اپنا کاروبار کروں گا ، ملازم رکھوں گا، اور جب کام چل جائے گا تو پھر غلیل بناؤں گا، جنگل میں جاؤں گا اور شکار کروں گا۔ ڈاکٹروں نے سوچا کچھ بہتری ہو گئی ہے، تین سال اور علاج جاری رہے تو مریض مکمل صحت یاب ہوسکتا ہے۔ تین سال مزید گزرنے پہ اس کا مکالمہ بڑا دلچسپ ہو گیا ، پوچھنے پہ کہنے لگا ، اب یہاں رہتے رہتے بوڑھا ہو گیا ہوں ، یہاں سے مر کر سیدھا قبر میں جاؤں ، گناہ تو کوئی ہے نہیں،وہاں سے جنت میں آزادی کی زندگی گزاروں گا اور پھر جنت میں غلیل بناؤں گا اور جنت کے پرندوں کا شکار کروں گا۔ یہی حال اسرائیل کا ہے، اور ہر بار پچھلے ہالوکاسٹ بھلا کے، پچھلی ماریں بھلا کے، پچھلی جنگیں بھلا کے نئی جنگ چھیڑ کر پھر گریٹر اسرائیل بناؤں گا ۔کہتا رہتا ہے۔ یہ ایسا پاگل ہے جس کے دماغ میں گریٹر اسرائیل کا خناس اسے تنگ کرتا ہے تو دنیا کو یہ تنگ کرتا ہے اور جنگ چھیڑ دیتا ہے۔مگر اس بار جو ایران نے مارا ہے، اب گریٹر اسرائیل کی بات پہ طبیعت سنبھل جانے کی توقع کی جا سکتی ہے۔مگر شائد مکمل صحت یاب نہ ہو!اب جنت میں جاکر ہی یہ کام کرے گا۔ایران سے اچھا ڈاکٹر شائد کبھی اس سےپہلے علاج کے لئے کبھی نہیں ملا تھا۔اسرائیل کی قسمت اچھی جو اس کا علاج ایران سے ہو گیا۔ ورنہ تو کب سے لا علاج ہی پڑا تھا۔
حالانکہ ایران کے رہبرِ معظم نے خود فتویٰ دے کر ایرانی قوم کو ایٹم بم بنانے سے روک دیا تھا۔ اے ای آئی اے بھی معائنہ کر چکی تھی اور کسی ایٹم بم کی تیاری کی عدم دستیابی کا سرٹیفیکیٹ دے چکی تھی۔یعنی ایٹم بم بنانے کے کوئی شواہد رپورٹ نہیں ہوئے، مگر پابندیاں جاری ہیں۔ مسئلہ کیا ہے؟ ایٹمی ہتھیار کا تو ایران کا ارادہ ہی نہیں تھا، یعنی ایک بے بنیاد جھوٹا پروپیگنڈا کر کے ایران کو بدنام کیا جاتا رہا کہ بس ایٹمی ہتھیار بنانے ہی والا ہے۔ اس کے پاس افزودہ یورینیم ہے۔ جس سے کسی وقت بھی ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے، دنیا کے نو ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں مگر ایران کے پاس نہیں ہونا چاہئے۔ کیوں؟ کیونکہ اسرائیل کو خطرہ لگتا ہے۔اسرائیل کو کیوں خطرہ لگتا ہے کیونکہ اسرائیل اپنے گریٹر اسرائیل کے منصوبے پہ عمل پیرا ہوتا ہے تو ایران سے ڈر لگتا ہے کہ ایران کی وجہ سے اسرائیل کا منصوبہ ناکام نہ ہو جائے۔ایران فلسطین کے مظلوموں کے حق میں بات کرتا ہے۔ یہی اس کا سب سے بڑا گناہ ہے جو غزہ کے معصوم بچوں کے لئے آواز اٹھاتا ہے۔مسلم ممالک میں ایک ایران ہی کو کیا تکلیف ہے جو اسرائیلی ظلم کے خلاف بات کرتا ہے۔ اسرائیلی توسیع پسندانہ عزائم کے سامنے روکاوٹیں کھڑی کرتا ہے، جبکہ خلیجی مسلمان ریاستیں ، سعودی عرب سمیت اسرائیل کو کبھی تنقید کا نشانہ تک نہیں بناتے۔اور تو اور وہ ساتویں ایٹمی طاقت بھائی بھی اسرائیل کے سامنے ڈھیر ہوجاتا ہے۔غزہ پیس بورڈ میں خوشی خوشی شامل ہو جاتا ہے۔ اوپر اوپر سے کھوکھلے بیانات دے کر اپنا فرض ادا کردیتا ہے، مگر ایران تو اسرائیل کےسامنے آکر مقابلے کے لئے للکار دیتا ہے۔ اصل خوف اسرائیل کو خود اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی ناکامی کا ہے۔اپنی ناکامی کے خوف سے وہ دوسروں پہ چڑھ دوڑتا ہے، اور امریکہ کو پہلے آگے لگاتا ہے اور پھر اس کے شانہ بشانہ خود حملہ آور ہو جاتا ہے۔توسیع پسندی اسرائیل کے خمیر میں شامل ہے۔اور ریموٹ کنٹرول سے امریکی کھلونے میں چابی بھر دیتا ہے، کبھی ویٹو کرواتا ہے کبھی حملے کرواتا، کبھی پابندیاں لگواتا ہے۔ کبھی کسیکو امریکہ سے دھمکیاں دلواتا ہے،سارا کھیل ریموٹ کنٹرول کے ایک بٹن سے ہی ہورہا ہے۔ہم امریکہ کو سپر پاور سمجھ کر امریکہ سے خوفزدہ رہتے ہیں اور اس کے ہر حکم کی تعمیل سے اپنی اپنی نوکریاں پکی کرتی ہیں۔خلیجی ممالک کو اپنی بادشاہتیں جان سے زیادہ عزیز ہیں جن کے تحفظ کا چکمہ امریکہ ان کو دے کر اسرائیل کو مزید محفوظ بنا دیتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کیا کھیل کھیلا جارہا ہے؟ اس کا پلئر کون ہے اور اس کا شکاری کون اور شکار کون ہے، کچھ سمجھ میں آیا؟گریٹر اسرائیل کا منصوبہ عربوں کو سمجھ نہیں آتا مگر ایران اور پاکستان کو صاف نظر آتا ہے۔جس جس کو یہ منصوبہ سمجھ میں آئے وہی اسرائیل کو اپنا دشمن لگنا شروع ہو جاتا ہے۔اس لئے پاکستان کا ایٹم بم بھی اسرائیل کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔اسرائیل اپنے ہی منصوبوں کی زد میں آکر پاگل ہوکر وہی بات بار بار کرتا ہے ، غلیل بناؤں گا اور گریٹر اسرائیل بناؤ گا۔پروجیکٹ فریڈم کی ہوگئی، ڈھم ڈھم ، غلیلیں بناؤ یا میزائل ایران بازی لے جا چکا ہے۔