تصادم ، تناو اور قابض ہونے کی خطرناک آویزش

لاہور سے معروف تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرکا ایوارڈ حاصل کرنے والےاخبار نوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے اہم تحریر

امریکہ اسرائیل ایران جنگ سے ایک بہت اہم بات ثابت ہوگئی ہے کہ اگر دنیا میں امن کی تلا ش ہے تو . یوریشین ریاستوں کی کنفیڈریشن بنانا وقت کی پکار ہے: یوریشیا کی نئی کنفیڈریشن کے لیے پہلا قدم تجویز کیا جا سکتا ہے، جس میں یورپ، عراق، شام، قطر، ترکی، وسطی ایشیائی ریاستیں، روس، چین، شمالی کوریا، جنوبی کوریا، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، مالدیپ، میانمار، تائیوان، لاؤس، برونائی، ویتنام، سنگا پور، مکاؤ، جاپان، مشرقی تیمور، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، خلیجی ریاستیں،سعودی عرب، پاکستان یا اور جو بھی اس یوریشین اسٹیٹس کنفیڈریسی ESC Eurasian States confederacy میں شامل ہونے کے لیے آتا ہے، امن کے واحد مقصد کے لیے، گلوبل وارمنگ، پانی کی کمی، تجارت، نقل و حمل، ٹیکنالوجی، کرنسی، صنعتی ترقی، انفارمیشن میڈیا، صحت،زراعت،ایندھن ، تیل، خوراک ، خلائی تحقیق اور یقیناً دفاع کی ضروریات کوپورا کرنا۔ کنفیڈرل یوریشین ریاستیں پولرائزڈ ریاستی نظام اور اس کی سیاست کی دنیا میں امن اور خوشحالی کی بہترین امید لگتی ہیں۔ اگر یہ کنفیڈریشن مل کر کام کرے تو اس کا نتیجہ دنیا میں امن و ترقی کی صورت میں نکلے گا۔ یہ زمینی اور سمندری راستے کا جغرافیائی طور پر متصل حصہ ہیں، جو ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ ان کے درمیان بغیر جنگ No war Pact کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ باقی دنیا کے پاس اس عدم جنگی معاہدے میں شامل ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔اس جنگ سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ افغانستان،انڈیا ، اسرائیل اور امریکہ دنیا میں جنگ و فتنہ فساد برپا کرتے ہیں۔ جن ممالک نے اس جنگ کو برپا کرنے یا برپا کرنے کی سہولت کاری کی ہے ، سب واضح ہو چکے ہیں۔ ان چار ممالک کو چھوڑ کر دنیا کے اکثر ممالک اپنی یوریشین سٹیٹس کی اپنی امن پسند اکائی کے لئے ایک کنفیڈریسی تشکیل دے سکتے ہیں ، یاکم از کم امن معاہدہ کرسکتے ہیں۔ نو وار پیکٹ کر سکتے ہیں۔ اگلا قدم دنیا کے دیگر علاقوں کے لیے تجویز کیا جائے گا تاکہ عالمی برادری کے لیے سڑک، سمندری راستوں اور ریلوے کے ذریعے بند دروازے کھولے جائیں۔لاطینی امریکہ اور افریقہ کے ممالک صدیوں سے ناانصافیوں کا شکار ہیں۔سب ممالک مل کر جنگ نہ کرنے کا ایک بار عہد کر لیں اور اس پر کاربند رہیں ، تو دنیا کی غربت، بھوک ، افلاس، بیماری،نا انصافی اور جہالت سب ہوا میں کافور ہو جائے گی۔ یہ اتنی آسان بات حکمرانوں کو کیوں سمجھ نہیں آتی؟؟؟
ہم تصادم اور متضاد عناصر کا شکار ہیں جو دنیا میں تناؤ اور بحران پیدا کرتے ہیں جو ایک بڑے انسانی بحران کی طرف جاتا ہے۔زیادہ وسائل پہ قابض ہونے کی آویزش، تصادم کا بحران شیطان کا ایک منفی قوت کے طور پر اینٹی لائف Anti- Life ڈیزائن ہے۔ ہمارے پاس امن اور انصاف کے لیے اس راستے پر جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔ چیلنج کرنے والی قوتوں کے خوف کے ساتھ، ہم عام طور پراپنے مفاد، لالچ، اور انصاف، امن اور حقوق کو ٹالتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ تصادم سنڈروم یا عداوت،امن، تحفظ، زندگی اور انسانی ترقی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ محاذ آرائی سنڈروم جنگی ہسٹیریا کی طرف جاتا ہے۔ جزوی طور پر ہر کوئی حق پر ہے لیکن بڑی حد تک ہر کوئی ناحق ہے۔ حق اور ناحق کا فیصلہ بہت آسان ہے۔ اگر زندگی کی ترجیحی بنیادوں پہ انسانی احترام کی بنیاد پہ رکھا جائے اور ایک دوسرے کے حقوق کوہٹ دھرمی کے بغیر تسلیم کیا جائے۔جو چُنداں مشکل نہیں ۔سب کے جینے کا حق ماننا ہی امن کی بنیاد ہے۔جبکہ زندگی موت سب کے لئے برابر ہے۔دنیا کے صرف چار الف سے شروع ہونے والے بد بخت ممالک نے باقی ساری دنیا کا جینا حرام کر رکھا ہے۔
تمام جزوی طور پر صحیح منصفانہ عناصر کے درمیان ایک جائز توازن تلاش کرنے کے لیے تمام فریقوں کے درمیان جزوی طور پر غیر منصفانہ پر اتفاق رائے حاصل کرنا اور بڑے پیمانے پر غیر منصفانہ نکات کو پہلے مرحلے پر چھوڑنا آسان ہے۔ اور دھیرے دھیرے عدل و انصاف، سچائی، امن اور ایمانداری کو تلاش کریں۔ رسولوں، نبیوں علیہم السلام، اولیاء کرام، فلسفیوں، دانشوروں اور سائنسدانوں نے اپنا کام سچائی اور دیانتداری سے کیا ہے۔ رسول ؑیا انبیاءؑ اور سائنسدان انسانیت کے بہترین امن پسند اور حسین ترین لوگ ہیں۔ حکمران اشرافیہ ایک بڑا مسئلہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑا علاج بھی ہے کیونکہ ان سے استفادہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے لیے پائیدار ترقی، امن، ماحولیات، انصاف اور زندگی کی حفاظت کو برقرار رکھنے کی روشنی میں موجودہ حکمت اور علم کی مدد سےاپنے مسائل کو حل کرنے کے طریقے تلاش کرنا آسان ہے۔ 7/9 بلین لوگ یہ کر سکتے ہیں، جیسا کہ ہر کوئی مجھ سے زیادہ سمجھدار ہے، اور ہر کوئی امن اور خوشحالی کے لیے اپنے فلسفی، سیاست دان، اور رہنما کے لیے آزاد ہے۔ ہر کوئی اتنا سمجھدار ہے کہ ہر کوئی صحیح اور غلط کو درست طریقے سے سمجھنے اور پھیلانے کے لیے صحیح راستہ اختیار کر سکتا ہے تاکہ نظریات یا نظریات کے اختلاف کی بنیاد پر تصادم کی اس بیان بازی کو بدل سکیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کی مفاہمتی مساویانہ دھمکی دنیا کو اپنے ارد گرد انصاف اور امن کی تلاش سے کب تک بچا سکتی ہے؟ دنیا کے لیے ایٹم بم ڈیٹرنس کے ذریعے واحد نجات دہندہ زندگی کی حفاظت کرتا ہے جیسا کہ ماں بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ ایک بار جب یہ چنگاری بھڑک اٹھے تو کوئی بچانے والا پیچھے نہیں رہتا۔ اس حادثہ کے ہونے سے پہلے، ہم تخفیف اسلحہ کے معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں اور پہلے تباہ کن کو تباہ کر سکتے ہیں۔ جہاں نو دس ممالک ایٹمی ہتھیار بنا چکے ہیں وہاں ایران کو روکنا کونسی منطق ہے؟ شاید IAEA کے ساتھ NPTفائلوں کے انبار کے نیچے نامکمل دستاویزات میں جوہری عدم پھیلاؤ کا موضوع موجود تھا۔کون جانے وہ فائلیں اب کہاں ہے؟ اور اب تخفیف اسلحہ کی بحث کن بند کمروں میں بند ہے!
ہم نے ایک دوسرے کے لیے خوف اور اپنے نظریات کے لیے ڈر کو مدعو کیا۔ ہم اپنے نظریے سے محبت کرتے ہیں اور دوسروں سے نفرت کرتے ہیں۔ ہم نے کبھی بھی ایک دوسرے کے ساتھ احترام کے ساتھ رہنے کی کوشش نہیں کی، جو انتہا پسندانہ رویے کی پرورش کرتا ہے۔ آپشن پوشیدہ نظر آتا ہے، لیکن اگر ہم زمین پر زندگی کی حفاظت کی قیمت پر ہر ایک کے لیے قابل قبول اعتدال پسند معقولیت کا حل تلاش کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں توآپشنز ہر جگہ دستیاب ہیں۔بند آنکھیں اور بند دماغ کی کھڑکیاں کھولیں۔زندگی اور موت سب کے لئے ایک جیسی ہے۔انتخاب آپ کا اپنا ہے۔زندگی یا موت؟آبنائے ہُرمز زندگی یا موت کا نہیں اپنی اپنی سیاسی چوہدراہٹ کا مسئلہ ہے جو حل طلب ہے۔
ہم نے لاکھوں فوجی جوانوں اور لاکھوں بے ضرر شہریوں بالخصوص معصوم بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو قتل کیا ہے۔ ہم نے لاکھوں لوگوں کو مارنے کے لیے جنگوں پر کھربوں امریکی ڈالر خرچ کیے ہیں۔ پچھلی صدی میں پہلی جنگ عظیم اور دوسری عالمی جنگ ہوئی۔ ان عالمی جنگوں کے علاوہ، ہم نے دسیوں جنگیں کیں اور کھربوں خرچ کیے، اور لاکھوں مارے گئے۔ یہ جان کر خوش کیوں ہوں کہ یہ 21ویں صدی میں بھی جاری رہے گا۔ فتح یا شکست ایک مختصر مدت کے ہوا کے بلبلے کی طرح ہے۔ ہوا کا بلبلہ تیزی سے پھٹ جاتا ہے، اور پیچھے کچھ نہیں بچتا۔ جو بچ جائےوہ اپنے زخم چاٹتا ہے اور ان لوگوں کا رونا دھونا باقی رہ جاتا ہے جن کے عزیز و اقربا جنگ میں مارے گئے ہیں۔جنگوں پر خرچ ہونے والی رقم امن کے لیے خرچ کی جا سکتی ہے اور مخالف فریق کی افہام و تفہیم سےمدد کرکے اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ انصاف کا علم بلند کر کے انسانیت کو بچانے کے لیے ایران، کشمیر،یوکرین اور فلسطین میں جنگ بند کی جائے ورنہ وقت زمین پر موجود پوری زندگی و انسانی تہذیب کو تباہ کرنے کے لیے تیار کھڑا پر تول رہا ہے۔امریکہ کو ایسی دھمکیا ں دیتے دیکھا بھی گیا ہے۔امریکہ اسرائیل انڈیا اور افغانستان کو عالمی برادری امن کا سبق سکھانے کے لئے ان سے مکمل لا تعلق ہو گی تو نتائج امن کی صورت میں ظاہر ہونگے۔اگے تہاڈی مرضی! یہاں ایک اور نقطہ نظر بھی قابل غورہے کہ سچائی بہت تلخ محسوس ہوتی ہے۔، امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ امن ہے۔ چوا چن لینگ نے 24 مارچ 2023 کو کہا۔ہاں بعض لوگوں کے لئے امن ہی سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔
امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہمارا ملک چین نہیں دنیا کا امن ہے۔ دنیا میں امن اس شر پسند امریکی سلطنت کا خاتمہ کرے گا جو جنگ اور جنگی معیشت پر ہی قائم ہے۔ جب دنیا میں امن ہوگا تو امریکی ہار جائیں گے۔ وہ نہیں جانتے کہ جنگ نہ ہو تو کیا کرنا ہے، بہت سے لوگ جو صرف جنگوں کے لیے مشتعل ہونے کے لیے کام کرتے ہیں بے روزگار ہو جائیں گے۔ پورا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کاروبار سے محروم ہو جائے گا۔ دنیا میں تمام امریکی فوجی اڈے بے کار ہو جائیں گے، اسی طرح تمام طیارہ بردار بحری جہاز، فوجی ہوائی جہاز، ICBM، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار اور تمام معاون جنگی صنعتیں ختم ہو جائیں گی۔ لیکن امن ایک بڑا کاروباری موقع ہے۔ ہمیں صرف زمین پر لوگوں کی محبت، امن اور تعاون کے اس موقع کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جو ہم بدقسمتی سے نہیں سمجھ سکے۔ امن سے پاکستان جیسے ملکوں کو کوئی خطرہ نہیں مگر ہم پھر بھی جنگی مشین کا حصہ کیوں بنیں؟ ہمارا اندرونی لاء انیڈ آڈر تو کسی باہر کی فرمائش پہ خراب نہیں ہوتا بلکہ ہماری ریاستی مشینری یہ کام بڑے احسن طریقے سے خود ہی سرانجام دیتی ہے۔اور پھر خود ہی فتح حاصل کرتی ہے۔اور کانفرنس بھی کرتی ہے۔اندر کی خرابی خود اندر سے ٹھیک ہوتی ہے۔باہر سے نہیں۔باہر سے تو اس خرابی کو دکھا کر قرض لیا جاتا ہے اور پاکستانی بچے مزید مقروض ہوتے چلے جاتے ہیں۔ خرابی تو اندر کی ہے نا۔اسے کون ٹھیک کرے!
جب امریکی جنگی مشین غیر متعلقہ ہونے کی وجہ سے معذور ہو جائے گی تو روزگار امریکہ میں پہلا مسئلہ بن جائے گا۔ سی آئی اے کے تمام آپریٹرز کام سے باہر ہو جائیں گے۔ دھمکیوں اور دشمنوں سے متعلق تمام جھوٹی خبریں مذاق بن جائیں گی۔ تقریبا ایک ٹریلین امریکی ڈالر کا فوجی بجٹ جنگوں کے بغیر، دشمنوں کے بغیر مکمل طور پربے جا اصراف ہوگا۔ جب دنیا میں امن ہو گا تو امریکیوں کواپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے، خود کو ذمہ دار لوگوں کے طور پر معاشی اعتبار سےدوبارہ کارآمد بنانا ہو گا، جب جنگجو اور قاتل نہیں، جنگ کے سوداگر نہیں، توا ن کی مہنگی جنگی مشین خریدنے والا کوئی نہیں ہوگا، فوجی گینگ یا اتحادیوں کی مزید ضرورت نہیں ہوگی۔اسرائیل ، انڈیا اور افغانستان کی جنگجوعانہ روش بے کار ہو جائے گی۔امن کا فائدہ کل کائنات کو ہو گا ۔مخلوقِ خدا کو ہوگا اور سب خوشحال ہونگے۔سب خوشحال ہوں تو امن و محبت زندگی کو نصیب ہو!!!
ایران اور سعودی عرب کے درمیان چین کی ثالثی میں ہونے والے تازہ ترین امن معاہدے کی امریکیوں نے مذمت کرتے ہوئے اسے امریکی مفادات کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ کیا امن امریکیوں کے لیے اچھا نہیں ہے؟ ایران اور سعودی عرب کی دوستی امریکہ کو کیوں پسند نہیں؟ یہ دونوں کی دشمنی سے کیا فائدہ حاصل کر رہے ہیں ، یہ تو اب سب سمجھ چکے ہیں نا؟ امریکی اس امن معاہدے کو توڑنے کے لیے تیار ہیں۔ امریکی کتنے برے ہیں، جنگ کے لئے ، امن کے خلاف تیار ہیں۔ امن امریکیوں کے مفادات کے خلاف ہے، ایک شرپسندسلطنت جو جنگوں اور عدم استحکام پر پروان چڑھ رہی ہے اور مزید کاروبار کے لیے جنگوں میں قتل و غارت گری کے لیے ہتھیار بیچ رہی ہے۔کیا پاکستانی یہ صورتحال سمجھنے سے قاصر ہیں؟ یا ہم نے سوچنے سمجھنے کا کام امریکہ کو ٹھیکے پہ دے دیا ہے اور خود صرف اپنے شہریوں پہ حکومت کرنے کے نشے میں مدہوش رہنا چاہتے ہیں؟ غلاموں پہ غلاموں کی حکومت؟؟؟ اور مزے کی بات، ان غلاموں کو بھی آپس میں چودھراہٹ کی سیاست کرنی ہوتی ہے، اور ایک دوسرے سے بڑا چودھری بن کے دکھانا ہوتا ہے۔
پسماندگی، جہالت، غلط فہمی، بدنیتی، بدامنی، انتشار، تصادم اور بالآخر جنگ لڑنے کا سبب بننے والے مسائل کو ہم کیسے پہچان سکتے ہیں؟ جنگ چھیڑنے کو بہت سے لوگ شوق کے طور پر لیتے ہیں، کچھ اسے کاروباری موقع کے طور پر لیتے ہیں، اور کچھ اسے اختیار یا بالادستی کے اعزاز و شان و شوکت کے طور پر لیتے ہیں۔ کچھ جارحانہ ہوتے ہیں اور جو کچھ بھی غاصبانہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، جائز یا ناجائز طریقے سے حاصل کرنے کے لیے حملہ آور ہوتے ہیں۔ ہر عمل کے پیچھے محرک کام کرنے والی قوت خوف، عدم تحفظ، مایوسی، انتقام، لالچ، بیماری، اور دوسروں سے اپنے لیے بقا ءکا کنارہ تلاش کرنا ہے۔ آئیے ہم لالچ، احساسِ عدم تحفظ، خوف، حسد اور انتقام وغیرہ سب بیماریوں کے ڈھیر ساری لاشوںکو ایک ہی قبر میں دفن کر دیں اوراپنی زندگی کے دشمنوں کا مقبرہ بنائیں اور امن، محبت، عدل و انصاف کے قیام کا تہوار منا کرا س سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہر سال ایک مخصوص دن امن ڈے یا پیس ڈےپراپنی فتح کا جشن منائیں۔ یہ دن زمین پر ہمیشہ کے لیے امن، محبت، سلامتی اور خوشحالی لانے کا نشان بنے گا۔ زمین پر امن کا جشن منانے کے لئے ایک تاریخ طے کریں جیسے سالانہ ارتھ آور منایا جاتا ہے۔جس سے ارتھ آور بھی سج دھج سے منایا جا سکے، اور امن کا جشن بھی۔راستے ہیں، مگر ان راستوں پہ چلتا کوئی نہیں، یہی المیہ اب ختم ہو گا تو المیاتی ڈرامے اور سفاکانہ سانحات ختم ہونگے۔امن کا دن منانے کے جتنے امکانات اب روشن ہیں پہلے کبھی نہ تھے۔
ہم لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں، ہمارے (ہم) اور ان کے (ان) کے گروہ، (ہمارا گروہ اور تمہارا گروہ)( ہمارا، تمہارا) (ساڈا تہاواڈا)، قومی اور بین الاقوامی سطح پر تین یا زیادہ گروہوں میں خود ہی بانٹ کر بیٹھے ہیں۔ دنیا ایک ہے اور ہم سب اس مادرِ دھرتی کے تمام باشندوں کے لیے ایک ہی ایجنڈے کا مطالبہ کرتے ہیں، جیسے زمین پر کسی بھی اندرونی یا بیرونی حلقوں کے گروہوں سے بالاتر ہو کر مٹی کے بیٹے کی طرح۔ ہم سب زمینی مٹی کے بیٹے ہیں جیسے زندہ انسان زمین کے اوپر ہیں اور مر کر نیچے چلے جاتے ہیں۔ زمینی مسائل زمین پر رہنے والے ہی حل کر سکتے ہیں۔ یکجہتی میں مکمل طور پر چھوٹے جذبات اور چھوٹے مفادات کے بغیر دیکھا جا سکتا ہے جو انفرادی نقطہ نظر کو ایک متضاد راستے کی طرف لے جاتا ہے جو عدم تحفظ پیدا کرتا ہے۔ کیا ہم پوری طرح محفوظ، عالمی گاؤں کے شہری ہونے کے ناطے بڑی اور عظیم یگانگت Greater Brotherhood کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟ ہم ایک ہیں اور زمین ایک عالمی گاؤں کے طور پر ایک ہے۔ ہمیں ترقی، خوشحالی، سلامتی، امن، عدل و انصاف اور بقا ءکے لیے ایک ہی ایجنڈے پر آگے آنا ہو گا۔وقت ہمیں اسی موڑ پہ لے آیا ہے۔ یہی وقت کی آواز ہے۔وقت کی آواز پہ کان نہ دھرنا جہالتِ کُبریٰ کا کام ہے جو قیامت صغریٰ کا منظر پیش کررہی ہے۔ زمین پر پوری زندگی امن اور سلامتی کے لیے ایک ایجنڈے کے طور پر۔ ایک انسان، ایک زمین، اور کائنات میں ایک زندگی کے لیے ایک ایجنڈا ہی باہر نکلنے کا واحد راستہ ہے لیکن ہم نے کبھی یکجہتی محسوس نہیں کی جب کہ انسانیت زمین پر زندگی کے ایک عظیم جذبے کے ساتھ ایک جسد واحد ہے۔انسان کو ٹکروں میں بانٹنے والے بھی اس جہانِ فانی میں فنا کا شکا ر ہونگے۔ بس رہے گا نام اللہ کا۔
امریکہ اسرائیل ایران جنگ سے ایک بہت اہم بات ثابت ہوگئی ہے کہ اگر دنیا میں امن کی تلا ش ہے تو . یوریشین ریاستوں کی کنفیڈریشن بنانا وقت کی پکار ہے: یوریشیا کی نئی کنفیڈریشن کے لیے پہلا قدم تجویز کیا جا سکتا ہے، جس میں یورپ، عراق، شام، قطر، ترکی، وسطی ایشیائی ریاستیں، روس، چین، شمالی کوریا، جنوبی کوریا، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، مالدیپ، میانمار، تائیوان، لاؤس، برونائی، ویتنام، سنگا پور، مکاؤ، جاپان، مشرقی تیمور، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، خلیجی ریاستیں،سعودی عرب، پاکستان یا اور جو بھی اس یوریشین اسٹیٹس کنفیڈریسی ESC Eurasian States confederacy میں شامل ہونے کے لیے آتا ہے، امن کے واحد مقصد کے لیے، گلوبل وارمنگ، پانی کی کمی، تجارت، نقل و حمل، ٹیکنالوجی، کرنسی، صنعتی ترقی، انفارمیشن میڈیا، صحت،زراعت،ایندھن ، تیل، خوراک ، خلائی تحقیق اور یقیناً دفاع کی ضروریات کوپورا کرنا۔ کنفیڈرل یوریشین ریاستیں پولرائزڈ ریاستی نظام اور اس کی سیاست کی دنیا میں امن اور خوشحالی کی بہترین امید لگتی ہیں۔ اگر یہ کنفیڈریشن مل کر کام کرے تو اس کا نتیجہ دنیا میں امن و ترقی کی صورت میں نکلے گا۔ یہ زمینی اور سمندری راستے کا جغرافیائی طور پر متصل حصہ ہیں، جو ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ ان کے درمیان بغیر جنگ No war Pact کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ باقی دنیا کے پاس اس عدم جنگی معاہدے میں شامل ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔اس جنگ سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ افغانستان،انڈیا ، اسرائیل اور امریکہ دنیا میں جنگ و فتنہ فساد برپا کرتے ہیں۔ جن ممالک نے اس جنگ کو برپا کرنے یا برپا کرنے کی سہولت کاری کی ہے ، سب واضح ہو چکے ہیں۔ ان چار ممالک کو چھوڑ کر دنیا کے اکثر ممالک اپنی یوریشین سٹیٹس کی اپنی امن پسند اکائی کے لئے ایک کنفیڈریسی تشکیل دے سکتے ہیں ، یاکم از کم امن معاہدہ کرسکتے ہیں۔ نو وار پیکٹ کر سکتے ہیں۔ اگلا قدم دنیا کے دیگر علاقوں کے لیے تجویز کیا جائے گا تاکہ عالمی برادری کے لیے سڑک، سمندری راستوں اور ریلوے کے ذریعے بند دروازے کھولے جائیں۔لاطینی امریکہ اور افریقہ کے ممالک صدیوں سے ناانصافیوں کا شکار ہیں۔سب ممالک مل کر جنگ نہ کرنے کا ایک بار عہد کر لیں اور اس پر کاربند رہیں ، تو دنیا کی غربت، بھوک ، افلاس، بیماری،نا انصافی اور جہالت سب ہوا میں کافور ہو جائے گی۔ یہ اتنی آسان بات حکمرانوں کو کیوں سمجھ نہیں آتی؟؟؟
ہم تصادم اور متضاد عناصر کا شکار ہیں جو دنیا میں تناؤ اور بحران پیدا کرتے ہیں جو ایک بڑے انسانی بحران کی طرف جاتا ہے۔زیادہ وسائل پہ قابض ہونے کی آویزش، تصادم کا بحران شیطان کا ایک منفی قوت کے طور پر اینٹی لائف Anti- Life ڈیزائن ہے۔ ہمارے پاس امن اور انصاف کے لیے اس راستے پر جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔ چیلنج کرنے والی قوتوں کے خوف کے ساتھ، ہم عام طور پراپنے مفاد، لالچ، اور انصاف، امن اور حقوق کو ٹالتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ تصادم سنڈروم یا عداوت،امن، تحفظ، زندگی اور انسانی ترقی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ محاذ آرائی سنڈروم جنگی ہسٹیریا کی طرف جاتا ہے۔ جزوی طور پر ہر کوئی حق پر ہے لیکن بڑی حد تک ہر کوئی ناحق ہے۔ حق اور ناحق کا فیصلہ بہت آسان ہے۔ اگر زندگی کی ترجیحی بنیادوں پہ انسانی احترام کی بنیاد پہ رکھا جائے اور ایک دوسرے کے حقوق کوہٹ دھرمی کے بغیر تسلیم کیا جائے۔جو چُنداں مشکل نہیں ۔سب کے جینے کا حق ماننا ہی امن کی بنیاد ہے۔جبکہ زندگی موت سب کے لئے برابر ہے۔دنیا کے صرف چار الف سے شروع ہونے والے بد بخت ممالک نے باقی ساری دنیا کا جینا حرام کر رکھا ہے۔
تمام جزوی طور پر صحیح منصفانہ عناصر کے درمیان ایک جائز توازن تلاش کرنے کے لیے تمام فریقوں کے درمیان جزوی طور پر غیر منصفانہ پر اتفاق رائے حاصل کرنا اور بڑے پیمانے پر غیر منصفانہ نکات کو پہلے مرحلے پر چھوڑنا آسان ہے۔ اور دھیرے دھیرے عدل و انصاف، سچائی، امن اور ایمانداری کو تلاش کریں۔ رسولوں، نبیوں علیہم السلام، اولیاء کرام، فلسفیوں، دانشوروں اور سائنسدانوں نے اپنا کام سچائی اور دیانتداری سے کیا ہے۔ رسول ؑیا انبیاءؑ اور سائنسدان انسانیت کے بہترین امن پسند اور حسین ترین لوگ ہیں۔ حکمران اشرافیہ ایک بڑا مسئلہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑا علاج بھی ہے کیونکہ ان سے استفادہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے لیے پائیدار ترقی، امن، ماحولیات، انصاف اور زندگی کی حفاظت کو برقرار رکھنے کی روشنی میں موجودہ حکمت اور علم کی مدد سےاپنے مسائل کو حل کرنے کے طریقے تلاش کرنا آسان ہے۔ 7/9 بلین لوگ یہ کر سکتے ہیں، جیسا کہ ہر کوئی مجھ سے زیادہ سمجھدار ہے، اور ہر کوئی امن اور خوشحالی کے لیے اپنے فلسفی، سیاست دان، اور رہنما کے لیے آزاد ہے۔ ہر کوئی اتنا سمجھدار ہے کہ ہر کوئی صحیح اور غلط کو درست طریقے سے سمجھنے اور پھیلانے کے لیے صحیح راستہ اختیار کر سکتا ہے تاکہ نظریات یا نظریات کے اختلاف کی بنیاد پر تصادم کی اس بیان بازی کو بدل سکیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کی مفاہمتی مساویانہ دھمکی دنیا کو اپنے ارد گرد انصاف اور امن کی تلاش سے کب تک بچا سکتی ہے؟ دنیا کے لیے ایٹم بم ڈیٹرنس کے ذریعے واحد نجات دہندہ زندگی کی حفاظت کرتا ہے جیسا کہ ماں بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ ایک بار جب یہ چنگاری بھڑک اٹھے تو کوئی بچانے والا پیچھے نہیں رہتا۔ اس حادثہ کے ہونے سے پہلے، ہم تخفیف اسلحہ کے معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں اور پہلے تباہ کن کو تباہ کر سکتے ہیں۔ جہاں نو دس ممالک ایٹمی ہتھیار بنا چکے ہیں وہاں ایران کو روکنا کونسی منطق ہے؟ شاید IAEA کے ساتھ NPTفائلوں کے انبار کے نیچے نامکمل دستاویزات میں جوہری عدم پھیلاؤ کا موضوع موجود تھا۔کون جانے وہ فائلیں اب کہاں ہے؟ اور اب تخفیف اسلحہ کی بحث کن بند کمروں میں بند ہے!
ہم نے ایک دوسرے کے لیے خوف اور اپنے نظریات کے لیے ڈر کو مدعو کیا۔ ہم اپنے نظریے سے محبت کرتے ہیں اور دوسروں سے نفرت کرتے ہیں۔ ہم نے کبھی بھی ایک دوسرے کے ساتھ احترام کے ساتھ رہنے کی کوشش نہیں کی، جو انتہا پسندانہ رویے کی پرورش کرتا ہے۔ آپشن پوشیدہ نظر آتا ہے، لیکن اگر ہم زمین پر زندگی کی حفاظت کی قیمت پر ہر ایک کے لیے قابل قبول اعتدال پسند معقولیت کا حل تلاش کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں توآپشنز ہر جگہ دستیاب ہیں۔بند آنکھیں اور بند دماغ کی کھڑکیاں کھولیں۔زندگی اور موت سب کے لئے ایک جیسی ہے۔انتخاب آپ کا اپنا ہے۔زندگی یا موت؟آبنائے ہُرمز زندگی یا موت کا نہیں اپنی اپنی سیاسی چوہدراہٹ کا مسئلہ ہے جو حل طلب ہے۔
ہم نے لاکھوں فوجی جوانوں اور لاکھوں بے ضرر شہریوں بالخصوص معصوم بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو قتل کیا ہے۔ ہم نے لاکھوں لوگوں کو مارنے کے لیے جنگوں پر کھربوں امریکی ڈالر خرچ کیے ہیں۔ پچھلی صدی میں پہلی جنگ عظیم اور دوسری عالمی جنگ ہوئی۔ ان عالمی جنگوں کے علاوہ، ہم نے دسیوں جنگیں کیں اور کھربوں خرچ کیے، اور لاکھوں مارے گئے۔ یہ جان کر خوش کیوں ہوں کہ یہ 21ویں صدی میں بھی جاری رہے گا۔ فتح یا شکست ایک مختصر مدت کے ہوا کے بلبلے کی طرح ہے۔ ہوا کا بلبلہ تیزی سے پھٹ جاتا ہے، اور پیچھے کچھ نہیں بچتا۔ جو بچ جائےوہ اپنے زخم چاٹتا ہے اور ان لوگوں کا رونا دھونا باقی رہ جاتا ہے جن کے عزیز و اقربا جنگ میں مارے گئے ہیں۔جنگوں پر خرچ ہونے والی رقم امن کے لیے خرچ کی جا سکتی ہے اور مخالف فریق کی افہام و تفہیم سےمدد کرکے اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ انصاف کا علم بلند کر کے انسانیت کو بچانے کے لیے ایران، کشمیر،یوکرین اور فلسطین میں جنگ بند کی جائے ورنہ وقت زمین پر موجود پوری زندگی و انسانی تہذیب کو تباہ کرنے کے لیے تیار کھڑا پر تول رہا ہے۔امریکہ کو ایسی دھمکیا ں دیتے دیکھا بھی گیا ہے۔امریکہ اسرائیل انڈیا اور افغانستان کو عالمی برادری امن کا سبق سکھانے کے لئے ان سے مکمل لا تعلق ہو گی تو نتائج امن کی صورت میں ظاہر ہونگے۔اگے تہاڈی مرضی! یہاں ایک اور نقطہ نظر بھی قابل غورہے کہ سچائی بہت تلخ محسوس ہوتی ہے۔، امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ امن ہے۔ چوا چن لینگ نے 24 مارچ 2023 کو کہا۔ہاں بعض لوگوں کے لئے امن ہی سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہمارا ملک چین نہیں دنیا کا امن ہے۔ دنیا میں امن اس شر پسند امریکی سلطنت کا خاتمہ کرے گا جو جنگ اور جنگی معیشت پر ہی قائم ہے۔ جب دنیا میں امن ہوگا تو امریکی ہار جائیں گے۔ وہ نہیں جانتے کہ جنگ نہ ہو تو کیا کرنا ہے، بہت سے لوگ جو صرف جنگوں کے لیے مشتعل ہونے کے لیے کام کرتے ہیں بے روزگار ہو جائیں گے۔ پورا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کاروبار سے محروم ہو جائے گا۔ دنیا میں تمام امریکی فوجی اڈے بے کار ہو جائیں گے، اسی طرح تمام طیارہ بردار بحری جہاز، فوجی ہوائی جہاز، ICBM، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار اور تمام معاون جنگی صنعتیں ختم ہو جائیں گی۔ لیکن امن ایک بڑا کاروباری موقع ہے۔ ہمیں صرف زمین پر لوگوں کی محبت، امن اور تعاون کے اس موقع کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جو ہم بدقسمتی سے نہیں سمجھ سکے۔ امن سے پاکستان جیسے ملکوں کو کوئی خطرہ نہیں مگر ہم پھر بھی جنگی مشین کا حصہ کیوں بنیں؟ ہمارا اندرونی لاء انیڈ آڈر تو کسی باہر کی فرمائش پہ خراب نہیں ہوتا بلکہ ہماری ریاستی مشینری یہ کام بڑے احسن طریقے سے خود ہی سرانجام دیتی ہے۔اور پھر خود ہی فتح حاصل کرتی ہے۔اور کانفرنس بھی کرتی ہے۔اندر کی خرابی خود اندر سے ٹھیک ہوتی ہے۔باہر سے نہیں۔باہر سے تو اس خرابی کو دکھا کر قرض لیا جاتا ہے اور پاکستانی بچے مزید مقروض ہوتے چلے جاتے ہیں۔ خرابی تو اندر کی ہے نا۔اسے کون ٹھیک کرے!
جب امریکی جنگی مشین غیر متعلقہ ہونے کی وجہ سے معذور ہو جائے گی تو روزگار امریکہ میں پہلا مسئلہ بن جائے گا۔ سی آئی اے کے تمام آپریٹرز کام سے باہر ہو جائیں گے۔ دھمکیوں اور دشمنوں سے متعلق تمام جھوٹی خبریں مذاق بن جائیں گی۔ تقریبا ایک ٹریلین امریکی ڈالر کا فوجی بجٹ جنگوں کے بغیر، دشمنوں کے بغیر مکمل طور پربے جا اصراف ہوگا۔ جب دنیا میں امن ہو گا تو امریکیوں کواپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے، خود کو ذمہ دار لوگوں کے طور پر معاشی اعتبار سےدوبارہ کارآمد بنانا ہو گا، جب جنگجو اور قاتل نہیں، جنگ کے سوداگر نہیں، توا ن کی مہنگی جنگی مشین خریدنے والا کوئی نہیں ہوگا، فوجی گینگ یا اتحادیوں کی مزید ضرورت نہیں ہوگی۔اسرائیل ، انڈیا اور افغانستان کی جنگجوعانہ روش بے کار ہو جائے گی۔امن کا فائدہ کل کائنات کو ہو گا ۔مخلوقِ خدا کو ہوگا اور سب خوشحال ہونگے۔سب خوشحال ہوں تو امن و محبت زندگی کو نصیب ہو!!!
ایران اور سعودی عرب کے درمیان چین کی ثالثی میں ہونے والے تازہ ترین امن معاہدے کی امریکیوں نے مذمت کرتے ہوئے اسے امریکی مفادات کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ کیا امن امریکیوں کے لیے اچھا نہیں ہے؟ ایران اور سعودی عرب کی دوستی امریکہ کو کیوں پسند نہیں؟ یہ دونوں کی دشمنی سے کیا فائدہ حاصل کر رہے ہیں ، یہ تو اب سب سمجھ چکے ہیں نا؟ امریکی اس امن معاہدے کو توڑنے کے لیے تیار ہیں۔ امریکی کتنے برے ہیں، جنگ کے لئے ، امن کے خلاف تیار ہیں۔ امن امریکیوں کے مفادات کے خلاف ہے، ایک شرپسندسلطنت جو جنگوں اور عدم استحکام پر پروان چڑھ رہی ہے اور مزید کاروبار کے لیے جنگوں میں قتل و غارت گری کے لیے ہتھیار بیچ رہی ہے۔کیا پاکستانی یہ صورتحال سمجھنے سے قاصر ہیں؟ یا ہم نے سوچنے سمجھنے کا کام امریکہ کو ٹھیکے پہ دے دیا ہے اور خود صرف اپنے شہریوں پہ حکومت کرنے کے نشے میں مدہوش رہنا چاہتے ہیں؟ غلاموں پہ غلاموں کی حکومت؟؟؟ اور مزے کی بات، ان غلاموں کو بھی آپس میں چودھراہٹ کی سیاست کرنی ہوتی ہے، اور ایک دوسرے سے بڑا چودھری بن کے دکھانا ہوتا ہے۔
پسماندگی، جہالت، غلط فہمی، بدنیتی، بدامنی، انتشار، تصادم اور بالآخر جنگ لڑنے کا سبب بننے والے مسائل کو ہم کیسے پہچان سکتے ہیں؟ جنگ چھیڑنے کو بہت سے لوگ شوق کے طور پر لیتے ہیں، کچھ اسے کاروباری موقع کے طور پر لیتے ہیں، اور کچھ اسے اختیار یا بالادستی کے اعزاز و شان و شوکت کے طور پر لیتے ہیں۔ کچھ جارحانہ ہوتے ہیں اور جو کچھ بھی غاصبانہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، جائز یا ناجائز طریقے سے حاصل کرنے کے لیے حملہ آور ہوتے ہیں۔ ہر عمل کے پیچھے محرک کام کرنے والی قوت خوف، عدم تحفظ، مایوسی، انتقام، لالچ، بیماری، اور دوسروں سے اپنے لیے بقا ءکا کنارہ تلاش کرنا ہے۔ آئیے ہم لالچ، احساسِ عدم تحفظ، خوف، حسد اور انتقام وغیرہ سب بیماریوں کے ڈھیر ساری لاشوںکو ایک ہی قبر میں دفن کر دیں اوراپنی زندگی کے دشمنوں کا مقبرہ بنائیں اور امن، محبت، عدل و انصاف کے قیام کا تہوار منا کرا س سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہر سال ایک مخصوص دن امن ڈے یا پیس ڈےپراپنی فتح کا جشن منائیں۔ یہ دن زمین پر ہمیشہ کے لیے امن، محبت، سلامتی اور خوشحالی لانے کا نشان بنے گا۔ زمین پر امن کا جشن منانے کے لئے ایک تاریخ طے کریں جیسے سالانہ ارتھ آور منایا جاتا ہے۔جس سے ارتھ آور بھی سج دھج سے منایا جا سکے، اور امن کا جشن بھی۔راستے ہیں، مگر ان راستوں پہ چلتا کوئی نہیں، یہی المیہ اب ختم ہو گا تو المیاتی ڈرامے اور سفاکانہ سانحات ختم ہونگے۔امن کا دن منانے کے جتنے امکانات اب روشن ہیں پہلے کبھی نہ تھے۔
ہم لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں، ہمارے (ہم) اور ان کے (ان) کے گروہ، (ہمارا گروہ اور تمہارا گروہ)( ہمارا، تمہارا) (ساڈا تہاواڈا)، قومی اور بین الاقوامی سطح پر تین یا زیادہ گروہوں میں خود ہی بانٹ کر بیٹھے ہیں۔ دنیا ایک ہے اور ہم سب اس مادرِ دھرتی کے تمام باشندوں کے لیے ایک ہی ایجنڈے کا مطالبہ کرتے ہیں، جیسے زمین پر کسی بھی اندرونی یا بیرونی حلقوں کے گروہوں سے بالاتر ہو کر مٹی کے بیٹے کی طرح۔ ہم سب زمینی مٹی کے بیٹے ہیں جیسے زندہ انسان زمین کے اوپر ہیں اور مر کر نیچے چلے جاتے ہیں۔ زمینی مسائل زمین پر رہنے والے ہی حل کر سکتے ہیں۔ یکجہتی میں مکمل طور پر چھوٹے جذبات اور چھوٹے مفادات کے بغیر دیکھا جا سکتا ہے جو انفرادی نقطہ نظر کو ایک متضاد راستے کی طرف لے جاتا ہے جو عدم تحفظ پیدا کرتا ہے۔ کیا ہم پوری طرح محفوظ، عالمی گاؤں کے شہری ہونے کے ناطے بڑی اور عظیم یگانگت Greater Brotherhood کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟ ہم ایک ہیں اور زمین ایک عالمی گاؤں کے طور پر ایک ہے۔ ہمیں ترقی، خوشحالی، سلامتی، امن، عدل و انصاف اور بقا ءکے لیے ایک ہی ایجنڈے پر آگے آنا ہو گا۔وقت ہمیں اسی موڑ پہ لے آیا ہے۔ یہی وقت کی آواز ہے۔وقت کی آواز پہ کان نہ دھرنا جہالتِ کُبریٰ کا کام ہے جو قیامت صغریٰ کا منظر پیش کررہی ہے۔ زمین پر پوری زندگی امن اور سلامتی کے لیے ایک ایجنڈے کے طور پر۔ ایک انسان، ایک زمین، اور کائنات میں ایک زندگی کے لیے ایک ایجنڈا ہی باہر نکلنے کا واحد راستہ ہے لیکن ہم نے کبھی یکجہتی محسوس نہیں کی جب کہ انسانیت زمین پر زندگی کے ایک عظیم جذبے کے ساتھ ایک جسد واحد ہے۔انسان کو ٹکروں میں بانٹنے والے بھی اس جہانِ فانی میں فنا کا شکا ر ہونگے۔ بس رہے گا نام اللہ کا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *