لاہور سے معروف تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرکا ایوارڈ حاصل کرنے والےاخبار نوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے خوبصورت تحریر
کسے خبر تھی کہ 28 فروری کو شروع ہونے والامعرکہ حق و باطل کی دنیا ایک نئی تاریخ رقم ہوتے دیکھے گی۔ اور دنیا کی طاقت ور ترین قوم اور مڈل ایسٹ کی ایٹمی ہتھیاروں سے لیس اپنے دفاع پہ غرور کرنے والی اکلوتی قوم مل کر حملہ آور ہونگے۔45 سالا پابندیوں میں جکڑے ہوئے ایران کے حوصلے و ہمت ، دلیری و حکمت اور غیرت کا مظاہرہ اکیسویں صدی کی تاریخ میں ایک روشن باب کا اضافہ ثابت ہوگا۔ایران بحیثت قوم دنیا کی ممتاز فاتح قوم بن کر فخرکے اسباب سمیٹے دشمن کو جھکنے پہ مجبور کررہی ہے۔دشمن کے پاس میدان چھوڑ کر بھاگنے کے علاوہ باقی کچھ نہیں بچا۔جذبہ و ہمت سب سے بڑی طاقت بن کر دنیا میں ابھرے اور 80 سالہ باطل کا غرور خاک میں ملا چکے ہیں۔حق غالب آ چکا ہے اور باطل ملیا میٹ ہو چکا ہے۔شاباش ایران، امت مسلمہ کو فخرکا لمحہ بہت عرصے بعد نصیب ہوا ہے۔ شاباش ایران، شاباش ایرانی قوم ، شاباش پاسدرانِ انقلاب،شاباش ایرانی حکمران، شاباش رہبر معظم و محترم !!!
دنیا کی ایسی عجیب و غریب پہلی ملٹی فیسز جنگ ہے جس میں لڑا ایران، مار اسرائیل نے کھائی، شکست امریکہ کی ہوئی،برباد امارات ہوگیا،بے عزت بھارت ہوا، پیٹرول و ڈیزل پاکستان میں مہنگے ہوئے، اور پاکستانی حکمران ہیرو بن گئے۔ جبکہ فتح چین کو ملی۔ ہم شاباش ایران کو دیں اور سلام پاکستان کو کریں اور لعنت بھارت پہ بھیجیں مبارکباد چین کو دیں، شکریہ روس کا ادا کریں اور دوستی امریکہ سے نبھائیں، ہم کھڑے سعودی عرب کے ساتھ ہیں ، سفارت کاری ایران سے امریکہ کی کر رہے ہیں،امن مذاکرات اسرائیل کے لئے کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیل مذاکرات کا حصہ ہی نہیں۔ اتنی تہہ در تہہ ملٹی پولر، ملٹی ڈائمینشنل اور ملٹی فیسز جنگ اس صدی کی یاد گار جنگ بن گئی ہے۔جو کبھی شروع اور کبھی بند ہو جاتی ہے۔کبھی تیز تو کبھی ہلکی ہو جاتی ہے۔ کبھی رُک جاتی ہے کبھی چل پڑتی ہے۔جنگ مشرق وسطیٰ میں ہو رہی ہے اور عالمی مارکیٹیں بحران کا شکار ہو رہی ہیں۔نہ یہ صلیبی جنگ ہے، نہ مصالحہ جات کی تجارت کی جنگ، نہ یہ عالمی تجارت کی جنگ ہے، کیا ہے یہ؟ اس جنگ کا کیا نام رکھیں؟؟ کس نام سے پکاریں؟ ایران اسرائیل جنگ کہیں یا امریکہ ایران جنگ کہیں؟؟ کوئی رنگ تو دو میرے چہرے کو، پھر زخم اگر ہو جاؤ تو کیا!کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا! (عبید اللہ علیم)۔