لندن سے ممتاز دانشور رانا محمود ،وائس آف ٹائم کی نوائے وقت کی لیے خصوصی تحریر
پڑھا لکھا شریف نوجوان تھا
سات بہنوں کا اکلوتا بھائی
سب کا لاڈلا
صوم و صلوٰۃ کا پابند
پانچ وقت کا نمازی
ایک روز پتا چلا کہ قاضی نے بھری عدالت میں گواہوں کی موجودگی میں اُسے “ عمر قید” کی سزا سُنا دی ۔
پوچھا کہ ایسی کیا خطا ہوئی اُس نوجوان سے کہ عمر قید ہو گئی ۔
معلوم ہوا کہ اُس نوجوان کو ایک لڑکی پسند آ گئی جو کہ امیر گھرانے سے تھی اور پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن ۔
لڑکے والے اپنے کچھ رشتے داروں کے ہمراہ لڑکی کو رات گئے اُٹھا لائے اور لڑکے نے لڑکی کے ساتھ رات گُلزار کی ۔
اور ٹھیک نو ماہ بعد وہ “ اُٹھائی گئی لڑکی” ایک بچے کی ماں بن چُکی تھی ۔
ہم چونکہ پیشے سے وکیل ٹھہرے ، مزید تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ جس رات لڑکے والے لڑکی کو اُٹھا لائے تھے اُسی روز قاضی نے بھری عدالت میں گواہوں کی موجودگی میں اّن دونوں کے نکاح کا اعلان کیا تھا ۔
عمر قید یا عمر قید بامشقت
فیصلہ شوہر کا