ایران امریکا تاریخ کی انوکھی جنگ:مکروہ چہرے بے نقاب ،پاکستانی، قیدی 804 سے مذاکرات کی نوید سننا چاہتے ہیں

لاہور سے معروف تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرنوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے فکر انگیز تحریر

میوزیکل وار فئیر : اگرچہ جنگ تباہی لاتی ہے، جانوں کا نقصان ہوتا ہے، کئی گھر اجڑتے ہیں، عمارتیں تباہ ہوتی ہیں، اور آجکل گولہ و بارود میزائل، ڈرونز بمباری اور الیکٹرونک وار فئیر، سائبر وار فئیر ، معاشی جنگ اور زخمیوں کی بھیِڑ سے بہت خوفناک سماں بنتا ہے۔ مگر حالیہ جاری جنگ امریکی صدر نے کافی لطف اندوز بیانات کی وجہ سے میوزیکل وار فئیر میں تبدیل کردی ہے۔ الٹی میٹم کے انبار نے الٹی میٹم کی دہشت و خوف کو چھین لیا ہے۔ اب وارننگ ہو کوئی الٹی میٹم ہو جیسے مذاق ہو رہا ہے ہو۔ یہ الٹی میٹم کافی مزاحیہ ہوتے جارہے ہیں اور مذاکرات جیسے مذاق رات کی صورت اختیا ر کرتے جارہے ہیں۔ آئے روز ، آبنائے ہرمز کھل گئی ہے، آبنائے ہُرمز بند ہوگئی ہے۔ بند کھُل، کھلُ بند کوئی میوزیکل پروگرام بن گیا ہے۔ جہاز گزر گیا ، جہاز روک لیا، ایسے لگتا ہے جیسے گلی کے بچے کوئی گیم کھیل رہے ہوں۔ ٹرمپ نے عالمی سیاست و جنگ بھی ایپسٹین جزیرے کا کھیل سمجھ لیا ہے۔یہ میزیکل وار فئیر تاریخ کے کسی حصے نہ ہوا ہوگا نہ ہوگا، مگر امریکی صدر بضد ہیں کہ ایران سے افزودہ یورینیم چھین کر لے جائیں۔ ساری دنیا میں مختلف ممالک یورینیم افزودہ کریں یا فرسودہ کریں مگر ایران کی اس کوشش کو ممنوحات میں شامل کرنا پوری امریکی طاقت کی انا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ایک شدید مسئلہ ایران اور امریکہ کے درمیان ٹائم ذون کا مسئلہ ہے جو کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ جب ٹرمپ دھمکی لگاتا ہے تو ایرانی سورہے ہوتے ہیں اور جب ایرانی جواب دیتے ہیں تو ٹرمپ سورہا ہوتا ہے۔ اس سے بے شمار کیمونیکیشن کے مسائل پیدا ہوتے ہیں،اور جھگڑا بڑھتا رہتا ہے۔ فائر بندی ہو گئی ہے، جنگ شروع ہوگئی ہے، جنگ بند ہو گئی ہے۔ اس جنگ کے شروع ہونے یا بند ہونے کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ پنجاب کی نہریں اتنی جلدی بند نہیں ہوتیں اور چلنے لگتیں ، جتنی جلدی یہ جنگ بند یا شروع ہو جاتی ہے۔ جنگوں کی اپنی تاریخ ہے مگر اس جنگ کی کوئی تاریخ ساز حالت نہیں لگتی۔ یہ تاریخ کی انوکھی جنگ ہے جو جس کی جنگ ہے وہ قریب ہے اور جس کی نہیں وہ لڑنے مرنے پہ تلا بیٹھا سات سمندر پار سے ٹویٹ پہ ٹویٹ کر رہا ہے۔ کیا کسی نے کبھی نیتن یاہو کا ٹویٹ دیکھا ؟ جنگ بندی ہو ،مذاکرات ہوں یا آبنائے ہرمز کھل جائے ، لوگوں کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے۔ یہ جنگ تباہی تو کررہی ہے مگر وہ جنگی سماں پیدا کرتے نظر نہیں آتی جس کی دہشت ہولناکی و خوفناکی سے دل دہل جاتے ہیں۔ دنیا عالمی جنگ دیکھ چکی ہے مگر یہ سہ عالمی جنگ یعنی سہ ملکی جنگ اپنی نوعیت کی الگ ہی جنگ ہے۔ جس میں ساری دنیا اس جنگ کے مخالفت میں کھڑی ہے اور امریکہ و اسرائیل کو برا بھلا کہہ بھی رہی ہے۔ ایران دنیا کی اخلاقی حمائت جیت چکا ہے۔ اور باقی دونوں متحارب ملک دنیا کی اخلاقی حمائت سے محروم ہو چکے ہیں! یہ جنگ نہ ہوتی تو انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے مکروہ چہرے کبھی بے نقاب نہ ہوتے۔ دنیا کے باقی سب ممالک ایک روپ، ایک چہرہ اور ایک کردار کے ساتھ نکھر کر سب کے سامنے آ چکے ہیں۔یہ کرشمہ اس جنگ کی عنائت ہے۔اٹلی کی میلونی کس قدر روشن ضمیر خاتون ہیں جس نے باضمیر لوگوں میں ہلچل مچا دی۔یا الہٰی یہ معجزہ بھی دکھائے مجھے، سنگ اس پہ گریں زخم آئے مجھے۔اس جنگ کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان میں امن کو ہوا ہے۔ پاکستانی تو اس امن کے قیام کے لئے یہ جنگ ضروری ہے تو اسے جاری رہنا چاہئے، کی دعا کریں گے۔پاکستان کے سارے دشمنوں نے ایکا کرلیا ہے کہ جب تک ایران امریکہ اسرائیل جنگ جاری ہے، پاکستان میں کوئی گڑ بڑ نہیں ہونے دیں گے تاکہ چیف صاحب دنیا کے امن مذاکرات پہ پورا دھیان دیں سکیں! ایران امریکہ مذاکرات بھی مذاکرات کا سماں باندھے بغیر جان چھڑانے کے لئے خانہ پری لگ رہی ہے۔ دھمکیوں پہ دھمکیوں کی یلغار جاری ہے اور مذاکرات کے پکوڑے تلے جارہی ہیں۔ملک کی آبادی قیدی 804 سے مذاکرات کی نوید سننا چاہتی ہے مگر عالمی امن مذاکرات زیادہ اہم ہیں۔کیا ضروری ہے، کیا اہم ہے کیا قومی مفاد میں ہے، کیا حکمرانوں کی دلچسپی ہے سب اس اقتدار کی میوزیکل گیم سے ظاہر ہورہا ہے۔ دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام بھی حکمرانوں کی تعریف کرتی تو مزہ دوبالا ہو جاتا۔اپنے ہی وطن کا ایک طبقہ مذاکرات کی بھیک کب تک مانگتا رہے گا؟یہی سوال آپ کی خدمت میں عرض کیا جاسکتا ہے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *