معروف قلم نگار ، ممتاز صحافی اور سماجی شخصیت رانا محمود کی نوائے وقت لندن کے لیے خوبصورت تحریر،جسے آپ یاد رکھیں گے
ہمارےصحافی دوست غلام حسین اعوان کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہ الیکٹرانک میڈیا، یا یوں کہئے کہ بے لگام سوشل میڈیا کی دوڑ میں کیا پرنٹ میڈیا اپنی اہمیت کھو چکا، معروف ٹی وی اینکر آفتاب اقبال کا کہنا تھا کہ پرنٹ میڈیا کی اپنی ایک منفرد حیثیت ہے جو ہمیشہ برقرار رہے گی، تاہم اُنہوں نے دلچسپ “اعترافِ جرم” بھی کیا کہ جب سے وہ الیکٹرانک میڈیا کی “ نذر” ہوئے ہیں،اپنے کالمز کو وقت نہیں دے پا رہے ، جسکا گِلہ اُنکے دوست اور معروف بیوروکریٹ ظفر محمود نے بھی کیا کہ وہ دعاگو ہیں کہ آفتاب اقبال کے ٹی وی شوز بند ہو جائیں تاکہ وہ دوبارہ اپنے کالمز پر توجہ دے سکیں ۔ شاید یہ اُنکی دعا کا اثر ہے کہ آفتاب اقبال آجکل ٹی وی کی بجائے ، سوشل میڈیا پر زیادہ نظر آتے ہیں۔
مشرقی لندن میں معروف قانون دان رضوان سلہریا صاحب کی سجائی اِس علمی محفل میں اگرچہ میں بیک بینچر تھا، تاہم مجھے بھی اپنی بات رکھنے کاموقع ملا ۔ ایک اور ادب دوست اور نفیس انسان ظفر احمد صاحب جو کہ آفتاب اقبال کے میزبان تھے، وہ بھی میری طرح بیک بینچز پر ہی بیٹھے نظر آئے ۔ اب یہ کمال آفتاب اقبال کو ملنے کیلئے آنیوالوں کے رش کا باعث تھا یا پھر رضوان سلہریا صاحب کی ہنر مندی ، اِسکا فیصلہ آپ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔
بات ہو رہی تھی پرنٹ میڈیا کی ، یا یوں کہئے کہ قلم کی ۔
عربوں میں کہاوت ہے
السَّيْفُ وَالْقَلَمُ تَوْأَمَانِ
یعنی تلوار اور قلم جڑواں ہیں ۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے
وَأَنزَلْنَا ٱلْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌۭ شَدِیدٌۭ وَمَنَـٰفِعُ لِلنَّاسِ ۔ ہم نے لوہا اُتارا، جس میں شدیدسختی اور لوگوں کیلئے فائدہ ہے ۔ یعنی لوہا فیصلہ کُن ہے ، تلوار اور قلم دونوں کی صورت ۔ انسان کی تمام تر ترقی قلم کی ہی مرہونِ مِنّت ہے ، اگر انسانی ترقی میں سے تحریر کو نکال دیا جائے تو انسان پھر سے جہالت اور تاریکی کے گھڑوں میں جا گرے ۔
بہاؤالدین ذکریا کے داماد اور
ساتویں صدی ہجری کے معروف صوفی شاعر فخرالدین ابراہیم عراقی کے قلم سے ایک شاھکار نظم تخلیق ہوئی جسکا عُنوان اُس نظم کا پہلا مصرع ہے ۔
“ قلم گوید کہ مَن شاہِ جہانم”
قلم کہتا ہے کہ میں دُنیا کا بادشاہ ہوں ۔
اِس صوفی شاعر کی پیدائش تو ایران کے شہر کمیجان میں ہوئی لیکن معروف وہ “عراقی” کے نام سے ہوے کہ اُنکی پیدائش سے قبل اُنکے والد عبد الغفّار کمیجانی نے خواب میں حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ کو اُنکے چند بزرگ ساتھیوں کے ہمراہ دیکھا ۔ اتنے میں ایک شخص آتا ہے اور ایک بچے کو حضرت کے قدموں میں ڈال دیتا ہے ۔ حضرت علی اُس بچے کو اُٹھا کے عبد الغفار کی گود میں ڈالتے ہوے فرماتے ہیں “ ہمارے عراقی کو لو ، اسے خوب پڑھاؤ لکھاؤ کہ ایک دُنیا اِسے پہچانے گی” ۔
صرف نو ماہ کے عرصے میں جبکہ “عراقی” ابھی چھ سال کے ہی تھے ، قرآن حفظ کر لیا ۔ قرآن کی تلاوت اِس حلاوت سے کرتے کہ روز رات کو دہرائی کے وقت لوگ اُنکی تلاوت کا انتظار کرتے ۔ ایک روز جبکہ ابھی وہ کم سِنی میں ہی تھے ، حسبِ معمول تلاوت میں مصروف تھے ، کچھ یہودی پاس سے گُزر رہے تھے ،عراقی سورہ طٰہٰ کی اِس آیت پر تھے
وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّهِۦ ۚ وَلَعَذَابُ ٱلْـَٔاخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَىٰٓ ۔ یعنی ہم اسراف سے کام لینے والوں اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لانے والوں کو اِسی طرح سے سزا دیتے ہیں ، جبکہ آخرت کا عذاب بہت ہی سخت اور باقی رہنے والا ہے ۔ اِس آیت کا سُننا تھا کہ اُن یہودیوں پر رقّت طاری ہو گئی ۔عراقی کے قدموں میں گِر گئے ، تلاوت ختم ہونے کا انتظار کیا اور عراقی کے ہاتھوں مشرّف بہ اسلام ہوئے ۔ پورا شہر اُمڈ آیا، دوراہا کھڑے لوگوں نے فرطِ جذبات میں اُن نو مسلموں پر پیسوں کی بارش کر دی اور تکبیر کی صداؤں میں اُنہیں اُنکے گھروں تک پہنچایا ۔
لاہور کے باسی جانتے ہونگے کہ ڈی ایچ اے فیز 4 اور 5 کے سنگم پہ ایک قدِّ آدم “ قلم” اور کچھ کُتب نصب ہیں اور قلم کے نیچے “عراقی” کا یہی شاھکار مصرع درج ہے ۔
“ قلم گوید کہ مَن شاہِ جہانم”
“قلم کہتا ہے کہ وہ دُنیا کا بادشاہ ہے”
ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سچ بھی ٹرینڈ دیکھ کر بولا جاتا ہے اور خاموشی بھی الگورتھم کے تابع ہے، مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ اس نے کبھی شور کو یاد نہیں رکھا، ہمیشہ تحریر کو محفوظ کیا ہے۔ سوشل میڈیا لمحے بناتا ہے، جبکہ قلم زمانے تراشتا ہے ۔ اسی لیے آج بھی اصل خوف قلم سے ہے، کیونکہ تلوار یا بندوق کی گولی صرف جسم کو گراتی ہے اور قلم نظام کو ۔اور یہی وجہ ہے کہ لوہا اگر تلوار اور بندوق کی گولی کی صورت میں فیصلہ کُن ہے تو قلم شعور، تاریخ اور تہذیب کی صورت فیصلہ کُن ۔ وہ فیصلہ جو وقتی نہیں، بلکہ نسلوں تک اپنا اثر قائم رکھتا ہے ۔
تاریخ شور سے نہیں، تحریر سے بنتی ہے اور قلم اگر سچ لکھے، تو وہ تلوار سے زیادہ فیصلہ کُن ہوتا ہے ۔