ملک کے شہریوں، بشمول عام شہریوں، صحافیوں کے ساتھ ساتھ ممتاز اور عام سیاستدانوں کی غیر قانونی طور پر نگرانی جاری
“مسلح افواج اور آئی ایس آئی پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن فراہم کرنے والوں کے ذریعے آبادی کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی جاسوسی کرتی ہے
’لا فل انٹرسیپٹ مینیجمنٹ نظام کم از کم 40 لاکھ موبائل فونز ایک ساتھ ٹیپ ، ویب منیجمنٹ سسٹم 2.0 فائروال ایک مرتبہ میں 20 لاکھ انٹرنیٹ سیشنزبلاک کر سکتا ہے۔‘
پاکستان میں، آپ کے ٹیکسٹ، ای میلز، کالز اور انٹرنیٹ تک رسائی سب کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، لوگوں کو اس مسلسل نگرانی کا کوئی علم نہیں
ڈاکٹر اختر گلفام ایڈیٹر انچیف نوائے وقت ، ڈائریکٹرنیوز ڈان ٹی وی ، اوکے ٹی وی
لندن:ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں منگل کو انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستانی حکام نجی غیر ملکی کمپنیوں سے حاصل کیے گئے بڑے پیمانے پر نگرانی کے ٹولز کے ذریعے اپنے 40 لاکھ سے زائد شہریوں کی نگرانی کر رہے ہیں، جس سے ملک کے سائبر لینڈ سکیپ پر مزید سختی کی گئی ہے۔
اپنے نتائج میں، حقوق پر نظر رکھنے والے ادارے نے کہا کہ، “مسلح افواج اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن فراہم کرنے والوں کے ذریعے آبادی کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کے ایک اہم حصے کی نگرانی کے لیے قانونی مداخلت کے انتظام کے نظام (LIMS) کا استعمال کرتے ہیں۔”
رپورٹ، جس کا عنوان “کنٹرول کے سائے: پاکستان میں سنسرشپ اور بڑے پیمانے پر نگرانی” ہے، نے اپنے نتائج میں بتایا کہ پاکستانی حکام نے ملک کے شہریوں، بشمول عام شہریوں، صحافیوں کے ساتھ ساتھ ممتاز سیاستدانوں کی غیر قانونی طور پر نگرانی جاری رکھی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ’لا فل انٹرسیپٹ مینیجمنٹ نظام کے ذریعے کم از کم 40 لاکھ موبائل فونز ایک ساتھ ٹیپ کیے جا سکتے ہیں۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منگل کو ایک رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ پاکستان میں شہریوں کی بڑے پیمانے پر چينی ساختہ فائروال اور فون ٹیپنگ نظام کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی شہریوں کی یہ نگرانی چین اور مغربی ممالک سے حاصل کی گئی ٹیکنالوجی استعمال کر کے کی جا رہی ہے۔
ایمنٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسے اس رپورٹ سے متعلق حکومت پاکستان نے کسی بھی خط کا جواب نہیں دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ’لا فل انٹرسیپٹ مینیجمنٹ نظام کے ذریعے کم از کم 40 لاکھ موبائل فونز ایک ساتھ ٹیپ کیے جا سکتے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ کے مواد کو فلٹر اور سنسر کرنے کے لیے استعمال ہونے والا ویب منیجمنٹ سسٹم 2.0 فائروال ایک مرتبہ میں 20 لاکھ انٹرنیٹ سیشنز کو بلاک کر سکتا ہے۔‘
ایمنٹسی انٹرنیشنل نے تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ پاکستان نگرانی اور سنسرشپ کا یہ نظام چینی، یورپی اور شمالی امریکی کمپنیوں کی مدد سے چلا رہا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل ایگنس کیلامارڈ نے بیان میں کہا کہ ’پاکستان کا ویب مانیٹرنگ سسٹم اور قانونی انٹرسیپٹ مینجمنٹ سسٹم عام شہریوں کی زندگیوں پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔ پاکستان میں، آپ کے ٹیکسٹ، ای میلز، کالز اور انٹرنیٹ تک رسائی سب کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ لیکن لوگوں کو اس مسلسل نگرانی کا کوئی علم نہیں ہے۔ یہ خوفناک حقیقت انتہائی خطرناک ہے کیونکہ یہ سایے میں کام کرتی ہے، اظہار رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی کو شدید طور پر محدود کرتی ہے۔‘
عالمی تنظیم کے مطابق جہاں دفاعی اور انٹیلی جنس اداروں نے ان الزامات کی تردید کی ہے وہیں ٹیلی کام حکام نے اعتراف کیا کہ ’لافل انٹرسیپٹ منیجمنٹ سسٹم کو حکومتی حکم پر نافذ کیا گیا ہے۔‘
ایمنسٹی نے خبردار کیا کہ ’بڑے پیمانے پر کی جانے والی یہ نگرانی معاشرے میں خوف و ہراس پیدا کرتی ہے اور شہریوں کو اپنے بنیادی حقوق استعمال کرنے سے روکتی ہے۔‘
بین الاقوامی ادارے نے کہا کہ ’اس قسم کے نظام عالمی سطح پر بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں، جو پرائیویسی اور آزادی اظہار کے لیے خطرے کی علامت ہیں۔‘