“امریکہ نے سائفر ہی نہیں , سور خریدنے کے لئے نقدی بھی بھیجی ، پیسہ زرداری، نواز شریف اور مولوی ڈیزل کے ذریعے تقسیم “پاکستان میں زبان زد عام

لاہور سے معروف تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرکا ایوارڈ حاصل کرنے والےاخبار نوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے نقطہ نظر

ملکی سیاسی ماحول:
حافظ حمداللہ نے بڑی سادہ مگر بہت اہم بات بتائی کہ ” ہم چور لٹیرے توعمران خان سے ڈر کے ملک چھوڑ کے بھاگ گئے تھے مگر ایک جرنیل نے ہمیں واپس بلا کر خزانے کی چابیا ں ہمارے حوالے کر دیں،” ایک اور سینئر جرنلسٹ نے کہا کہ “امریکہ نے صرف سائفر ہی نہیں بھیجا بلکہ سور خریدنے کے لئے نقدی بھی بھیجی ، یہ پیسہ زرداری، نواز شریف اور مولوی ڈیزل کے ذریعے تقسیم کیا گیا۔ یہ اور اس قسم کے بیانات اکثر پاکستانی سیاسی فضا میں زیر بحث رہتے ہیں، کبھی فارم 47 کی جعلی حکومت کی باز گشت سنائی دیتی ہے۔ 8 اپریل ، 9 مئی اور 8 فروری کو ہونے والے ستم بالائے ستم کے گمبھیر واقعات کا تسلسل اور پھر 28 فروری 2026 کو ایران پہ حملہ ، اور پاکستان کا امن مذاکرات کا چیمپئین بن کر ابھرنا ، سب کو ایک لڑی میں پرو کر سارے ڈاٹس ملا کر کوئی لائین تو بنتی ہے۔کوئی تجزیہ اور تحقیق کی راہ کھلتی ہے۔ جس سےایک شہری کی سمجھ بوجھ کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔تحقیق و جستجو جتنی آگے بڑھتی ہے اور حقائق کی جتنی معلومات ہوتیں ہیں قومیں اتنی ہی زیادہ تیزی سے ترقئ کا سفر کرتی ہیں۔ حقائق چھپا نے سے جہالت پسماندگی اور بددیانتی بڑھتی ہے جو پاکستان میں ہوا ہے۔سچ کی تلاش جاری رہتی ہے تو ہی سچ جھوٹ کی پرکھ ہوتی ہے۔ ورنہ سب گول مال ہو جاتا ہے اور قوم کنفیوژن کا شکار ہوجاتی ہے۔، اور یہی کنفیوژن ایک طاقتور طبقے کا ہتھیا ر بنتی ہے۔
پاکستان میں ایک تاریخ ساز واقعہ ریجیم چینج کا ہوا، اسے کسی نے کروایا اور کسی نے اس کی سہولت کاری کی اور کسی نے اس کا فائدہ اٹھا کر حکومت حاصل کی اور حکومت نے اپنا فرض ِ منصبی سمجھ کر ایران امریکہ جنگ میں امن مذاکرات کی سہولت کاری انجام دی۔جس نے یہ ریجیم چینج کروایا اس نے اپنے مقاصد حاصل کئے اور اس طرح تاریخ کے اوراق پہ یہ پورا قصہ درج ہو گیا۔ ایک عام پاکستانی شہری کو یہ جاننے کا حق ہے کہ یہ سارا کھیل کیا تھا؟ ایک مثال سے سمجھاتا ہوں، فرض کیا پاکستان میں ایک ع کی حکومت تھی جس کی موجودگی میں اسرائیل و امریکہ کا ایران پہ حملہ کا پلان فیل ہونے کا ڈر تھا، باقی ممالک کو یا تو کمزور کردیا گیا تھا یا وہاں پہ ریجیم چینج کے ذریعے اپنی پسند کے حکمران مقرر کردئیے گئے تھے، ایک پاکستان کے وزیر اعظم کا خوف انہیں ایران پہ حملہ کرنے سے روکے ہوئے تھا۔ چنانچہ ہمارے پاکستان میں ریجیم چینج پلان الف نے نافذ کیا اور ن ، ز، ف اور چ اس کام میں کام آئے ۔ پھر یہی خزانے کی چابیوں کے امین بن گئے ، ملک ڈوبتا گیا،اقتدار بڑھتا گیا،الف نے جس مقصد کے لئے ان کو بھرتی کیا تھا وہ کام امن مذاکرات کروا کے حاصل بھی کیا ، خود بھی ناکام رہا اور ان سہولت کار مقتدرہ کی قسمت میں ناکامی ہی رہی۔ناکام و نامراد ٹولہ ملک کو گھٹنے کے بل لا چکا تھا۔جھوٹ پھیلنے لگا ، حتیٰ کہ ملک ہی جھوٹا ملک بن گیا ، جھوٹے الیکشن ، جھوٹے مالیاتی اعداد و شمار، جھوٹ ہی جھوٹ سے بھری سیاست اور جھوٹے حکمران جعلی حکمران، یہ محسن نقوی کس جماعت کا ہے کہاں کا ایم این اے ہے کہاں سے ووٹ لے کر آیا ہے۔ سارے ملک کا کرتا دھرتا کس طرح بن گیا؟ ہے کوئی قاعدہ ، کوئی قانون اس ملک میں؟
ہمارے ملک نے گالیوں میں خود کفالت کے درجے تک ترقی کر لی ہے، اور موجودہ حکومت ساری گالیاں اکیلے ہی ہضم بھی کر لیتی ہے۔نتِ نئی گالیاں پیٹرول کی قیمت بڑھانے یا کم کرنے پہ پڑتی ہیں۔ پاکستان اللہ کے فضل سے پچھلے 78 سالوں میں اب ڈوب مرنے کے مقام تک خیر سے پہنچ ہی گیا ہے۔کچھ تو ایسا ہوا ہے کہ ملاں اسلام کو بھول گیا، پی پی بے نظیر کو بھول گئی، ن لیگ زرداری کے پیٹ پھاڑنے کو بھول گئی،اے این پی اپنی قومیت کو بھول گئی، عدالتیں انصاف کرنا بھول گئیں، قومی ادارے اپنے فرائض انجام دینا بھول گئے،اور صحافی صحافت کو ہی بھول گئے۔استاد تعلیم دینا بھول گئے، ڈاکٹر علاج کرنا بھول گئے اور پولیس قانون و آئین کو بھول گئی۔گھر کی آگ بجھانا بھول کر محلے داروں کی آگ بجھانے نکل کھڑے۔ کچھ تو ایسی گڑ بڑ ہوئی ہے ، جہاں ہر طرف اتھل پتھل ہو گئی ، ریاست اپنا ملک ہی نہیں لگتا، ہر کوئی زندہ بھاگنے کی فکر میں دوڑ رہا ہے۔یہ ابتری، یہ انتشار، یہ دورآشوب، یہ حالات یہ معاشی بدحالی یونہی تو نہیں ہوگئی، اس کے پیچھے اہل جاہ حشم کے کرتوت ہیں ، غریب تو چکی میں پستا چلا آیا ہے مگر اتنے بڑے کرتوت نہیں کر سکتا جس سے ملک کا نقصان ہو۔ یہ نقصان تو مقتدرہ لوگ ، وسائل پہ قابض افراد ، اختیارات کے مالک و مختار ہی کرتے ہیں۔غریب آدمی تو دو وقت کی روٹی کی فکر سے باہر نہیں آتا۔ڈنڈا بردار فورس کی مار کھا کھا کر بے جان ہوا پڑا ہے۔ارشد شریف شہید کو دیکھ کر کتنے صحافی ملک چھوڑ کر جان بچا کر راہِ فرار اختیار کر گئے۔ کتنے لوگ جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہیں، اپنی ہی قوم اور عام شہریوں کو 9 مئی کے دن جتنے غدار اور دہشت گردبنائے گئے ، اتنے تو محبِ وطن محافظ بھی وہاں نہیں تھے۔کیا کیا کھلواڑ اس ملک میں روا رکھا گیا، الحفیظ الامان!
آپ کے سامنے ایک ایسا معاشرہ ہو جس میں دستگیری، تونگری، فیاضی، دریا دلی۔استعانت،ہم
آہنگی، میل جول،اشتراک و اتفاق،اتحاد مددگارلوگ،آسرا اورسہارا دینے والے لوگ ہوں، باہمی تعاون ہو، ہمہ گیریت وعالمگیریت ہو ،اجتماعیت اور اجتماعی سوچ ہو، ،محبت و شفقت،رحم دلی و رحمت کا سایہ ہو، درگزر، اعتدال پسندی،صبرو شکروبرداشت، سکون و اطمینان،انکساری و عاجزی، خاکساری، ادب احترام،مساوات، انصاف، عدل، توازن، دیانتداری، ایمانداری،اخلاق و اعلیٰ ظرفی، روحانیت، ہمت افزائی، حوصلہ افزائی، ہاتھ بٹائی، حفاظت، دیکھ بھال، تربیت و پرورش،باہم ایک دوسرے کا خیال رکھنا، رواداری، بردباری، احساس کرنا، عزت و احترام کرنا، تہذیب و نفاست، اعتماد و اعتبار، خلوص و بے لوث خدمت،دلگیری و دل جوئی،بے خوفی و خدا خوفی،آئینی و قانونی عملداری و پاسداری،معاشرتی یکجہتی،ترقی پسندی، روشن خیالی،روشن ضمیری، استحکام و استقلال،اخوت و بھائی چارہ،یگانگت،معاشرتی و معاشی حرکت پذیری،توحید و وحدانیت، اپنا پن،سب موجود ہو تو ایسا معاشرہ ترقی کرے گا اور عوام سکون و اطمینان سے خوشحال ونہال رہیں گے۔
لیکن اگر کسی معاشرے میں کم ظرفی،
لالچ، طمع، خوف نا انصافی، ظلم،جبر، آئین شکنی، تبدیلی کوشدید مزاحمت کا سامنا ہو،فریب دہی، بددلی، بیزاری، مایوسی، ناامیدی، لاوارثی، پسماندگی، نا خواندگی،جہالت، منافقت، شرک، فرعونیت ،سماجی جمودو تنزلی،بے ایمانی، بد دیانتی، ملاوٹ، ناشکری،مفاد پرستی، غربت و افلاس، بے اعتدالی، عدم تحفظ، آئین شکنی و لا قانونیت،ہیرا پھیری،لوٹ کھسوٹ، افراتفری، انتشار، انتہا پسندی، دہشت گردی، دھونس دھاندلی، ظلم وجبر، کرپشن، چوری چکاری، یہ سب کچھ موجود ہو تو وہ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ اصل ترقی تو ریاست کے عوام کی فلاح و بہتری ہوتی ہے۔
آپ کو ان دونوں میں سے کون سا معاشرہ پسند ہے؟ غور کریں اور سوچیں کہ ہمیں کیسا معاشرہ، کیسی ریاست درکار ہے؟ عوام اور سیاسی ورکرز جس دن جیسا فیصلہ کر لیں گے، ہم وہی حاصل کر لیں گے۔حکمرانوں کے کرنے کا یہ فیصلہ نہیں، نہ وہ کریں گے، عوام نے جس دن اپنا فیصلہ سنا دیا تو پھر وہ دن فتح و کامیابی کا دن ہوگا اور پھر ہم جشن آزادی منائیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *