موسم سرما کا آغا: خیبرپختونخوا کے پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی

بیوروچیف پشاور نوائے وقت ڈان ٹی وی

موسم سرما کا آغاز ہو چکا اور خیبرپختونخوا کے پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی، اس موسم میں ‏برفباری کے بعد جامع مسجد دارالسلام تھل کمراٹ کا منظر آنکھوں کو ٹھنڈک پخشتا ہے، جسے دیکھنے سیاحوں‌کا تانتا سالہاسال بندھا رہتا ہے.
یہ جامع مسجد دیر کوہستان کی سب سے آخری گاوں تھل میں واقع ہے، جو کہ دیر کوہستان کی سب سے مشہور اور قدیم مسجد ہے، جس کی تعمیر پہلی بار 1865ء میں کی گئی، تاہم 1930 میں‌آتشزدگی کے واقعے کے بعد اس مسجد کی دوبارہ تعمیر کی گئی.اس مسجد کے دو حصے ہیں، بالائی منزل جستی چادروں سے تعمیر کی گئی ہے، جبکہ زیریں حصہ 1865ء میں تعمیر کیا گیا، جامع مسجد دارالسلام تھل وادی کمراٹ کی ڈیڑھ سو سالہ قدیم جامع مسجد ہے، اِس مسجد میں آتشزدگی کے واقعہ کے بعد کچھ حصہ جل گیا تھا، جسے مقامی افراد نے دوبارہ تعمیر کیا تاہم اس کا اکثر حصہ پرانا ہی ہے۔
دریائے پنجکوڑہ کے کنارے واقع قدیم مسجد کو دیکھنے کے لئے ہر سال ہزاروں لوگ آتے ہیں، اور ہر بار لوگ اپنے ساتھ واپس جاتے ہوئے منفرد کہانیاں لے جاتے ہیں، جو موسم سے لے کر آبادی، ثقافت اور فن تعمیر کی کہانیوں سے بھری ہوتی ہیں.جس کے در و دیوار ایسے ہیں جیسے وہ خود ایک تاریخ بیان کر رہے ہوں، اخروٹ ک درخت یا دیودار کی لکڑی سے بنی مسجد کی دیواروں اور چھت پر نقش و نگاری مہارت کیساتھ کی گئی ہے۔
دیودار کی لکڑی سے بنی یہ تاریخی مسجد آج بھی اپنی مثال آپ ہے، اس تاریخی مسجد کی بیرونی دیوار کی لمبائی 45 فٹ اور ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ چوڑی شہتیر بغیر کسی جوڑ کے لگائے گئے ہیں۔ اس کے شہتیروں کو 2×2 فٹ چوڑے اور 8 فٹ بلند دیودار کے ستونوں سے سہارا دیا گیا ہے۔ ان ستونوں پر بھی بہترین نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔
اس مسجد کی تاریخ اور اس کی بناوٹ اپنی جگہ لیکن سیاح اسے دیکھ کر جو سب سے پہلا لفظ دیکھنے والے کے منہ سے نکلتا ہے تو وہ اس کی تعمیر، نقش و نگار اور خوبصورتی کی ستائش کے سوا کچھ نہیں ہوتے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *