کارروائی میں امریکہ نے B-52 بمبار طیارے بھی استعمال، ایرانی حکام کی فردو، نطنز اور اصفہان میں جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کی تصدیق
وار رپورٹرزنوائے وقت + ڈان ٹی وی رپورٹ
تہران :امریکی فوج نے اسرائیل کی جنگ میں براہِ راست شامل ہوتے ہوئے اتوار کی صبح ایران میں تین مقامات پر حملے کیے ہیں۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ حملوں میں ملک کے فردو، اصفہان اور نطنز میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج نے اسرائیل کی جنگ میں براہِ راست شامل ہوتے ہوئے اتوار کی صبح ایران میں تین مقامات کو نشانہ بنایا ہے تاکہ تہران کے جوہری پروگرام سے لاحق خطرے کے پیش نظر دشمن کو کمزور کیا جا سکے۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلے ان حملوں کا اعلان کیا۔ ایرانی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ حملوں میں ملک کے فردو، اصفہان اور نطنز میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکہ کو براہِ راست میں جنگ میں شامل کرنے کا فیصلہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر ایک ہفتے سے زائد جاری رہنے والے حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایران پر حملوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ کچھ دیر پہلے امریکی فوج نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ۔
’ہمارا مقصد ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت کو ختم کرنا اور دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی دنیا کی نمبر ون ریاست کی جانب سے جوہری خطرے کو روکنا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’آج رات میں دنیا کو بتا سکتا ہوں کہ حملے ایک شاندار فوجی کامیابی تھے۔ ایران کی اہم جوہری افزودگی کی تنصیبات کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’مشرق وسطیٰ کے بدمعاش ایران کو اب امن قائم کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو مستقبل میں حملے کہیں زیادہ ہوں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ 40 برس سے ایران کہہ رہا ہے کہ امریکہ مردہ باد اسرائیل مردہ باد۔