کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے؟: اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کی ’غیر مجاز‘ رکن بھی اسمبلی پہنچ گئیں،لے کر جانے والے مکرگئے

خاتون کون ہیں، وہ وفد کے ساتھ کیوں ہیں اور میرے پیچھے کیوں بیٹھی تھیں؟ ان سوالات کا جواب صرف وزارتِ خارجہ دے سکتی ہے،وزیر دفاع خواجہ آصف

کوئی بھی سلامتی کونسل یا جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیر کے پیچھے نہیں بیٹھ سکتا جب تک کہ اسے حکومت کے سرکاری نمائندے کے طور پر تسلیم نہ کیا گیا ہو

ناقدین نے خاتون کے اسرائیل کی حمایت میں ٹوئٹس شیئر کردیئے، دوزارت خارجہ نے شمع جونیجو کی یو این ایس سی اجلاس میں شمولیت سے خود کو الگ کر لیا

شمع جونیو کو رواں ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک مباحثے کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھے ہوئے دیکھا گیا تھا

ڈاکٹر اختر گلفام ایڈیٹر انچیف نوائے وقت ، ڈائریکٹرنیوز ڈان ٹی وی

لندن: شمع جونیجو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے جانے والے پاکستانی وفد کا حصہ تھیں۔ خاتون کو رواں ہفتے سلامتی کونسل میں ایک مباحثے کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شمع جونیجو لندن سے وزیر اعظم شہباز شریف کے جہاز میں ان کے ساتھ تھیں۔

25 ستمبر کو وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے مصنوعی ذہانت کے موضوع پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کیا تھا، تاہم ان کی تقریر کی تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تیزی سے پھیل گئی تھیں، کیونکہ صارفین نے پس منظر میں شمع جونیجو کو بیٹھے ہوئے دیکھا اور ان کے پرانے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے، جن میں انہوں نے اسرائیل کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی کے بعد خواجہ آصف نے ایکس پر وضاحت کی کہ انہوں نے یہ خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی مصروفیات کی وجہ سے ان کی جگہ کیا تھا، وزیراعظم اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 80ویں اجلاس میں شریک تھے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ خاتون کون ہیں، وہ وفد کے ساتھ کیوں ہیں اور میرے پیچھے کیوں بیٹھی تھیں؟ ان سوالات کا جواب صرف وزارتِ خارجہ دے سکتی ہے، میرے لیے ان کی جگہ جواب دینا مناسب نہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ فرد ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ کے دستخط شدہ سرکاری لیٹر آف کریڈنس میں شامل نہیں تھا، جو پاکستان کے 80ویں یو این جی اے اجلاس کے وفد کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ اگر یہ درست ہے تو پھر شمع جونیجو کیسے اسمبلی میں پہنچیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیرِ دفاع کے پیچھے ان کی نشست ڈپٹی وزیراعظم/وزیرِ خارجہ کی منظوری سے نہیں تھی۔

ادھر، شمع جونیجو نے بھی ’ایکس‘ پر اپنے پرانے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے، جن میں انہوں نے غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کی مذمت کی تھی۔

عمومی طور پر کوئی بھی سلامتی کونسل یا جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیر کے پیچھے نہیں بیٹھ سکتا جب تک کہ اسے حکومت کے سرکاری نمائندے کے طور پر تسلیم نہ کیا گیا ہو۔ سوال ہی ہے کہ یہ کس نے ہونے دیا اور کیوں؟

دفتر خارجہ نے کہا کہ شمع جونیجو کا نام جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے لیے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے منظور شدہ سرکاری وفد کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔

لندن میں مقیم شمع جونیجو کو ماضی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں سوشل میڈیا پوسٹس پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔

اگست 2022 میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو سے ملاقات کرنا ان کے لیے ایک ’اعزاز‘ ہوتا اور وہ ان کے ساتھ تصویر کو اپنی پروفائل تصویر بناتیں۔

پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کے پاسپورٹ پر درج ہے کہ وہ تمام ممالک کے سفر کے لیے کارآمد ہے ’سوائے اسرائیل کے۔‘ حکومت نے ہمیشہ فلسطین کے حق میں سخت موقف اپنایا ہے، جس کی اس ہفتے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر حکام نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاسوں کے دوران پھر توثیق کی۔

25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ’مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی امن و سلامتی‘ کے عنوان سے ایک مباحثے میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان کی نمائندگی کی جبکہ شمع جونیجو ان کے بالکل پیچھے بیٹھی تھیں۔

جب اس موقعے کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں تو خواجہ آصف نے 26 ستمبر کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ انہیں خاتون کی موجودگی کا علم نہیں تھا اور یہ کہ نشستوں کا انتظام دفتر خارجہ کرتا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے لکھا: ’ان خاتون یا کس نے میرے پیچھے بیٹھنا ہے، یہ دفتر خارجہ کی صوابدید و اختیار تھا اور ہے۔‘

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں خاتون کا نام لیے بغیر کہا: ’متعلقہ فرد کا نام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے لیے پاکستانی وفد کی فہرست میں شامل نہیں تھا، جس پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ (اسحاق ڈار) کے دستخط ہیں۔ لہٰذا وزیر دفاع کے پیچھے ان کی نشست کو نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ کی منظوری حاصل نہیں تھی۔‘

کمیونٹی الائنس فار پیس اینڈ جسٹس کی ڈائریکٹر مِلحَقہ صمدانی نے کہا کہ ’شمع جونیجو اسرائیل اور تعلقات کی بحالی کے ایجنڈے کی حامی ہیں، انہیں پاکستان کے یو این جی اے وفد میں شامل کرنا ملک کے لیے اچھا تاثر نہیں ہے‘۔

دوسری جانب، صحافی احمد نورانی نے کہا کہ شمع جونیجو کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا یا ان کے سفارت کاری سے متعلق خیالات کی بنیاد پر انہیں ‘اسرائیل نواز’ قرار دینا شرمناک ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *