وزارت کو بار بار تقرریوں کے لیے یاد دہانی کرواتے رہے، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی، اسی انتشار کے دوران سابق چیئرمین نے 20 جون کو اچانک استعفیٰ دے دیا، ذرائع
نوائے وقت انوسٹی گیشن سیل ، ڈان ٹی وی
(ر) جرنیلوں نے ادارہ تباہ کر دیا۔ملک کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ واپڈا اس وقت مستقل افسران کی غیر موجودگی کے باعث شدید انتظامی بحران کا شکار ہے، اہم عہدے 9 ماہ سے خالی ہیں جب کہ بڑے ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہو چکے ہیں اور ادارہ صرف ’نگرانی‘ کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے۔
واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)، جو کہ ملک کے سب سے بڑے سرکاری اداروں میں سے ایک ہے اور جس کا مالیاتی حجم تقریباً 70 ارب ڈالر ہے، اس وقت اہم فیصلہ ساز افسران کی غیر موجودگی کے باعث سنگین بیوروکریٹک رکاوٹوں کا شکار ہے۔
واپڈا کی گورننگ باڈی کے دو اہم عہدے گزشتہ نو ماہ سے خالی ہیں، جس کے باعث ادارے کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
یہ انتظامی مفلوجی اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ واپڈا اس وقت ملک کی تاریخ کے تین بڑے بجلی منصوبوں دیامر بھاشا، داسو اور مہمند ڈیم پر کام کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ واپڈا عملی طور پر انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے آپریشنل نظام کو بھی سنبھالتا ہے، جو وفاقی اکائیوں کے درمیان پانی کی تقسیم اور زرعی نظام کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔
تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ خود ارسا بھی اس وقت بورڈ کی تشکیل کے حوالے سے قانونی تنازعات کا شکار ہے، جہاں سندھ سے مستقل رکن کی تقرری تنازع کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
واپڈا ایکٹ کے تحت گورننگ باڈی میں تین مستقل ارکان پانی، بجلی اور مالیات اور ایک مستقل چیئرمین شامل ہوتا ہے، جو ہر سال سیکڑوں ارب روپے کے فنڈز کی نگرانی کرتا ہے۔
فی الحال، یہ باڈی پانی اور بجلی کے مستقل ارکان کے بغیر کام کر رہی ہے اور ان عہدوں کی ذمہ داریاں دو سینئر افسران سید علی اختر شاہ (پانی) اور محمد عرفان (بجلی) کو ’نگرانی‘ کے طور پر سونپی گئی ہیں۔
سید علی اختر شاہ اس سے قبل جنرل منیجر واٹر (جنوب) رہ چکے ہیں، جب کہ محمد عرفان نیلم،جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر بھی ہیں۔
جون میں جب سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی نے استعفیٰ دیا تو واحد مستقل رکن نوید اصغر چوہدری کو اضافی طور پر چیئرمین کی ذمہ داری بھی دے دی گئی۔
نوید اصغر چوہدری بنیادی طور پر مالیات کے رکن ہیں اور اس عہدے پر مستقل تقرری رکھتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ چار رکنی بورڈ اس وقت ایک مستقل رکن اور دو ’اضافی چارج‘ رکھنے والے افسران کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
نوید چوہدری اس سے قبل 2022 میں بھی عارضی چیئرمین رہ چکے ہیں، جب لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے ’ذاتی وجوہات‘ کی بنا پر استعفیٰ دیا تھا اور تین ماہ بعد یہ عہدہ لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی کو سونپ دیا گیا تھا۔
واپڈا کے سابق ڈائریکٹر جنرل برائے انسانی وسائل کے مطابق یہ ایک انتظامی بدنظمی ہے، جس کی قومی سطح پر بھاری قیمت ادا کی جا رہی ہے۔