نوائے وقت نیوز ڈیسک ، ڈان ٹی وی رپورٹ
کابل:طالبان کے وزیر برائے توانائی و آبپاشی عبد اللطیف منصور نے کہا کہ ’پاکستان افغانستان میں کسی بھی قسم کی مستحکم مرکزی حکومت کا مخالف ہے، چاہے وہ طالبان کی ہو، مجاہدین کی یا کمیونسٹوں کی۔‘
عبد اللطیف منصور نے الزام لگایا کہ ’اسلام آباد جان بوجھ کر افغانستان میں اندرونی تقسیم اور بحران کو ہوا دیتا ہے تاکہ اپنے سیاسی اور معاشی مفادات حاصل کر سکے‘
افغانستان کی عبوری حکومت میں طالبان کے ایک سینیئر وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کابل میں ایک مضبوط یا خودمختار افغان حکومت نہیں دیکھنا چاہتا، چاہے قیادت کسی کے بھی ہاتھ میں ہو۔
طالبان کے وزیر برائے توانائی و آبپاشی عبد اللطیف منصور نے شمشاد نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الزام لگایا کہ ’پاکستان افغانستان میں کسی بھی قسم کی مستحکم مرکزی حکومت کا مخالف ہے، چاہے وہ طالبان کی ہو، مجاہدین کی یا کمیونسٹوں کی۔‘
عبد اللطیف منصور نے کہا: ’ہمارے کچھ پڑوسی، خاص طور پر پاکستان، افغانستان میں مستحکم حکومت نہیں چاہتے۔‘
افغان وزیر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز پاکستانی سیکورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کی افغانستان کے ساتھ سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک کارروائی میں 33 عسکریت پسندوں کو مار دیا تھا۔