جون 2025 تک ایک سال کے دوران ایک لاکھ 11 ہزار 84 افراد نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست دی جو 2001 کے بعد 12 مہینوں میں سب سے زیادہ ہے
سٹاف رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ
لندن:برطانیہ اس وقت اپنی تاریخ کی سب سے زیادہ پناہ گزینوں کی درخواستوں کا سامنا کر رہا ہے جبکہ ہزاروں تارکین وطن کو ہوٹلوں میں عارضی طور پر رکھنے کے معاملے پر سیاسی ہنگامہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔
امیگریشن ایک حساس مسئلہ ہے، خاص طور پر اس وقت جب لیبر پارٹی کے وزیر اعظم کئیر سٹارمر دائیں بازو کی سخت گیر جماعت ریفارم یو کے اور اس کے رہنما نائجل فراج کی بڑھتی ہوئی عوامی حمایت کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ریفارم یو کے کی مہم فرانس سے انگلینڈ تک غیر قانونی طریقے سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے ریکارڈ تعداد میں مہاجرین کے خلاف عوامی غصے کو بڑھاوا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
برطانوی وزارت داخلہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 تک ایک سال کے دوران ایک لاکھ 11 ہزار 84 افراد نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست دی، جو 2001 میں اعداد و شمار مرتب کرنے کے آغاز کے بعد کسی بھی 12 مہینوں میں سب سے زیادہ ہے۔
جون کے آخر تک32 ہزار 59 تارکین وطن ہوٹلوں میں مقیم تھے، جو پچھلے سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے، لیکن ستمبر 2023 کے اختتام پر 56 ہزار 42 کی بلند ترین سطح سے کہیں کم ہے۔
لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ ہوٹلوں کی تعداد دو سال قبل 400 سے کم ہو کر اب تقریباً 230 رہ گئی ہے۔
اخراجات میں کمی:
پناہ گزینوں پر خرچ ہونے والی رقم 2023-24 میں 5.38 ارب پاؤنڈر سے کم ہو کر 2024-25 میں 4.76 ارب ہو گئی ہے، جو 12 فیصد کم ہے۔
کئیر سٹارمر کے وزیراعظم بننے کے بعد سے اب تک 50 ہزار سے زائد افراد فرانس سے برطانیہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آ چکے ہیں، جن میں تقریباً 28 ہزار صرف اس سال آئے، جو 2018 میں ڈیٹا کا آغاز ہونے کے بعد اس وقت تک کی ریکارڈ تعداد ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق غیر قانونی طور پر آنے والوں میں 27 فیصد اضافہ ہوا، جن میں سے 88 فیصد کشتیوں کے ذریعے آئے۔