ٹی ایل پی کی مرید کے میں پولیس جھڑپیں،25 کارکن مارے گئے، 200 سے زائد زخمی ، 50 کی حالت تشویش ناک ، 700 کو حراست میں لے لیا ، 100 اہلکار زخمی،پارٹی سربراہ سعد رضوی کے اہل خانہ گرفتار

ٹی ایل پی کا مریدکے اور سادھوکے میں دھرنا، موٹر وے اور اسلام آباد کی سڑکیں کھول دی گئیں

وفاقی دارالحکومت میں مارگلا روڈ، جناح ایونیو، سیونتھ ایونیو، کورنگ روڈ سے بنی گالا تک، جناح روڈ سے پارک روڈ تک کی سڑکیں کھل گئیں

سٹاف رپورٹرز،نمایندگان، نوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ

لاہور/مرید کے / اسلام آباد:جمعے سے لاہور میں پولیس اورٹی ایل پی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، جب کہ مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔

ہفتے کو پارٹی کارکنوں اور پولیس کے درمیان کالاشاہ کاکو اور مرید کے میں جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے مظاہرین کو رکاوٹیں توڑنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں فائر کیں۔

لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (آپریشنز) کامران فیصل نے آج پریس کانفرنس میں بتایا کہ مظاہرین نے تشدد کیا۔

’انہوں نے سرکاری گاڑیاں قبضے میں لے لیں، کئی کو نقصان پہنچایا اور ایک پولیس کی گاڑی کو مکمل طور پر جلا دیا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ 100 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تاہم ٹی ایل پی کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے اس کے 700 کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔

ٹی ایل پی کے ترجمان علی اعوان نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک ان کے 25 کارکن مارے گئے ہیں جبکہ 200 سے زائد کارکنان زخمی ہیں جن میں سے 50 کی حالت تشویش ناک ہے۔

ترجمان کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد بھی مارچ کے شرکا ہی دے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے پارٹی کے سربراہ سعد رضوی کے گھر میں گھس کر ان کے اہل خانہ کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

علی اعوان نے بتایا کہ مارچ آج رات کو مرید کے سے آگے قیام کرنے کے بعد اتوار کی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گا۔

صوبائی حکومت نے مارچ کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے گجرات، کھاریاں، سرائے عالم گیر اور جہلم پل کے قریب خندقیں کھود کر راستے بلاک کر رکھے ہیں۔

لاہور اور اسلام آباد آنے والے موٹر وے اور جی ٹی روڑ بند ہے جس سے شہریوں جو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

موٹر وے پولیس کے مطابق لاہور سے اسلام آباد موٹر وے، ملتان سے لاہور موٹروے، ملتان سے اسلام آباد موٹر وے، پشاور سے اسلام آباد موٹر وے اور اسی طرح لاہور سے اسلام آباد جی ٹی روڈ بھی ٹریفک کے لیے بند ہیں۔

جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور فیض آباد سمیت اسلام آباد کے داخلی و خارجہ راستوں پر کنٹنیرز لگا کر راستے بند کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ٹی ایل پی کے امیر سعد رضوی نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف جمعے (10 اکتوبر) سے لاہور سے اسلام آباد کی طرف ’لبیک یا اقصیٰ‘ مارچ کی کال دے رکھی تھی، لیکن پولیس اور انتظامیہ نے آٹھ اکتوبر کی رات ہی ٹی ایل پی کے مرکز مسجد رحمت اللعالمین کا گھیراؤ کر کے کنٹینر لگا کر کئی کارکن گرفتار بھی کر لیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *