امریکا کا پاکستان کے دفاعی بجٹ کو پارلیمانی یا عوامی نگرانی کے دائرے میں لانے کا مطالبہ

فوجی اور انٹیلی جنس بجٹ مناسب پارلیمانی یا سول عوامی نگرانی کے تحت نہیں ہیں، امریکی محکمہ خارجہ کی 2025 فِسکل ٹرانسپیرنسی رپورٹ

پرویز انور نوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ

واشنگٹن:امریکا نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اور انٹیلی جنس بجٹ کو پارلیمانی یا سول عوامی نگرانی کے دائرے میں لایا جائے، اور اسے مالی احتساب اور شفافیت بہتر بنانے کا ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

یہ سفارش جمعہ کو جاری ہونے والی امریکی محکمہ خارجہ کی 2025 فِسکل ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں کی گئی ہے ، یہ سالانہ رپورٹ دنیا بھر کے بجٹ سازی کے عمل کا جائزہ لیتی ہے اور دیکھتی ہے کہ حکومتیں کس طرح عوامی فنڈز کو شائع، آڈٹ اور منظم کرتی ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ ’فوجی اور انٹیلی جنس بجٹ مناسب پارلیمانی یا سول عوامی نگرانی کے تحت نہیں ہیں‘، رپورٹ کے مطابق پاکستان مالی شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے جو اقدامات کر سکتا ہے ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ فوجی اور انٹیلی جنس اداروں کے بجٹ کو پارلیمانی یا سول نگرانی کے دائرے میں لایا جائے۔

رپورٹ میں حکومت کو بجٹ تجاویز بروقت شائع کرنے کا بھی کہا گیا تاکہ ان پر عوامی اور پارلیمانی سطح پر بحث ممکن ہو سکے، رپورٹ کے مطابق ’حکومت نے اپنی ایگزیکٹو بجٹ تجویز مناسب وقت میں شائع نہیں کی‘۔

رپورٹ میں قرضوں کے بارے میں کہا گیا کہ حکومت نے قرضوں کی ذمہ داریوں، خصوصاً سرکاری اداروں کے بڑے قرضوں کے بارے میں عوامی سطح پر محدود معلومات فراہم کیں، اس حوالے سے سفارش کی گئی ہے کہ ’حکومت کو قرضوں کی تفصیلات، بشمول سرکاری اداروں کے قرضے شائع کرنے چاہئیں‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *