ملک ذوالفقار بھٹی نوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ
شجاع آباد :راجہ رام کے رہائشی 50 سالہ خلیل احمد عرصہ دراز سے جگر کے عرصے میں مبتلا تھا اورجگر مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا ۔ ڈاکٹروں نے خلیل احمد کو ان کی زندگی بچانے کے لیے جگر کی پیوندکاری کا مشورہ دیا۔ خلیل احمد کا ایک بیٹا دو بیٹیاں ہیں۔ خلیل احمد جگر کی پیوندکاری کے لیے سندھ ہسپتال گمبٹ میں داخل ہوا۔ بڑی بیٹی بی ایس فائنل ائیر کی طالبہ مقدس خلیل کا جگر ان کے والد کے جگر سے میچ کر گیا۔ مقدس خلیل نے اپنا 60 فیصد جگر کا ٹکرا دیکر اپنے والد کی جان بچا لی۔ دونوں 15 روز سے سندھ کے ہسپتال گمبٹ میں زیر علاج تھے۔ باپ کی صحت کافی بہتر ہوگئی لیکن اپنا جگر باپ کو دے کر زندگی دینے والی اپنی زندگی کی بازی ہار گئی ۔ مقدس خلیل نے اپنا جگر دیکر ثابت کر دیا کہ بیٹیاں باپ کی جگر ہوتی ۔
چھ ماہ زندہ رہنے کے بعد باپ، بیٹی کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے آج دنیا فانی سے چل بسا۔ راؤ خلیل کے جنازے نے ایک بار پھر اس کی بیٹی مقدس کی قربانی کو لوگوں کے دلوں میں دوبارہ زندہ کر دیا۔ خلیل کے نماز جنازے میں اہل علاقہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ راؤ خلیل کی بیٹی کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی