تحریر: فہمی ہویدی، معروف مصری مصنف اور صحافی
اگر آپ نے بوسنیا میں جو کچھ ہوا اُسے نہیں سمجھا تو آپ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اُسے بھی نہیں سمجھ سکیں گے!
پہلے بوسنیا کو سمجھو، پھر غزہ اور وہاں ہونے والے واقعات کو سمجھو—پھر حیران نہ ہونا!
صربوں کی طرف سے بوسنیا کے مسلمانوں کے خلاف شروع کی جانے والی نسل کشی کی جنگ کے نتیجے میں 3 لاکھ مسلمان شہید ہوئے۔
60 ہزار عورتوں اور بچوں کی عصمت دری کی گئی۔
15 لاکھ افراد کو زبردستی اپنے گھروں سے بے دخل کیا گیا۔
کیا ہمیں یہ یاد ہے؟
یا ہم بھول گئے ہیں؟
یا ہمیں اس کا علم ہی نہیں؟
سی این این (CNN) کے ایک نشریاتی نمائندے نے بوسنیائی قتلِ عام کی یاد دہانی کرتے ہوئے مشہور صحافی کرسٹیان امانپور سے سوال کیا:
’’کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے؟‘‘
امانپور نے جواب دیا:
- ’’یہ ایک بالکل وحشیانہ جنگ تھی—قتل و غارت، محاصرے اور مسلمانوں کو بھوکا مارنے کی جنگ۔ یورپ نے مداخلت سے انکار کیا اور کہا: ’یہ بوسنیا کی داخلی خانہ جنگی ہے۔‘ اور یہ بہت بڑا جھوٹ تھا!‘‘
- یہ قتل عام تقریباً 4 سال تک جاری رہا۔
- صربوں نے 800 سے زائد مساجد تباہ کر دیں، جن میں بعض سولہویں صدی کی تھیں۔
- انہوں نے سارائیوو کی تاریخی لائبریری کو جلا دیا۔
اقوامِ متحدہ نے گوراژدے، سریبریںتسا اور زیپا جیسے مسلم شہروں کے لیے ’’حفاظتی علاقے‘‘ قائم کیے، مگر یہ علاقے حقیقی تحفظ نہ دے سکے—انہیں بھی محاصرے اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا! - ہزاروں مسلمانوں کو اذیت ناک کیمپوں میں رکھا گیا—انہیں اتنا بھوکا رکھا گیا کہ وہ صرف کھال اور ہڈی رہ گئے۔
- جب ایک صربی کمانڈر سے پوچھا گیا کہ وہ مسلمانوں پر اتنا ظلم کیون کر رہا ہے تو اس نے جواب دیا: ’’کیونکہ یہ سور کا گوشت نہیں کھاتے!‘‘
گارڈین اخبار نے ایک نقشہ شائع کیا جس میں مسلمان عورتوں کے 17 ریپ کیمپوں کے مقامات دکھائے گئے—ان میں بعض سربیا کے اندر ہی واقع تھے۔ - صرب فوجی بچوں تک کی عصمت دری کرتے تھے۔
- ایک 4 سالہ بچی کو ریپ کیا گیا—گارڈین نے لکھا:
’’ایک چھوٹی سی بچی جس کا واحد جرم مسلمان ہونا تھا۔‘‘
زیپا کے قصبے میں: - قاتل ملادیچ نے ایک مسلم رہنما کو بلایا، اسے سگریٹ دی اور ذرا ہنسایا…
- پھر اسی وقت اسے ذبح کر دیا۔
سریبریںتسا میں سب سے بڑا قتل عام ہوا: - اقوامِ متحدہ کے فوجی صربوں کے ساتھ کھاتے پیتے اور کھیلتے تھے۔
- بعض نے عورتوں سے جنسی تعلقات کے بدلے کھانا پہنچانے کا سودا بھی کیا۔
- سریبریںتسا دو سال تک محاصرے میں رہا۔
- صربوں نے خوراک کی سپلائیز ضبط کر لیں۔
- پھر مغرب نے مسلمانوں سے غداری کی:
انہیں سلامتی کے بدلے اپنے ہتھیار حوالے کرنے پر مجبور کیا!
مسلمان تھکے ہارے اور بھوکے تھے، انہوں نے اطاعت کر لی۔
لیکن اس کے بعد صربوں نے شہر پر حملہ کر دیا: - انہوں نے مردوں کو عورتوں سے الگ کر دیا۔
- 12 ہزار مرد اور لڑکے لے گئے— سب کو ذبح کیا اور بہیمانہ طور پر اذیتیں دیں!
بربریت کی شکلیں: - ایک صربی زندہ مسلمان پر پاؤں رکھ کر اس کے چہرے پر چھری سے صلیب کندہ کرتا تھا۔
- بعض مسلمان درد کی شدت سے جلدی قتل کیے جانے کی التجا کرتے تھے۔
- ایک ماں نے اپنے بچے کی جان بخشی کے لیے صربی کا ہاتھ پکڑا — اس نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، پھر بچے کو اس کی آنکھوں کے سامنے ذبح کر دیا۔
اور ہم مسلمان دیکھتے، سنتے، کھاتے، ہنستے اور معمول کی زندگی گزارتے رہے۔
سریبریںتسا کے قتلِ عام کے بعد قاتل راڈوان کاراڈِچ فاتح بن کر شہر میں داخل ہوا اور اعلان کیا:
’’سریبریںتسا ہمیشہ سے صربی رہا ہے — اب یہ ہمارے ہاتھ میں واپس آ گیا ہے!‘‘ - صرب مسلمانوں کی عورتوں کو ریپ کر کے انہیں اس وقت تک قید رکھتے جب تک وہ بچے نہ جن لیں۔
- مقصد کیا تھا؟ ان فوجیوں میں سے ایک نے کہا۔
’’ہم چاہتے ہیں کہ وہ صربی بچوں کو جنم دیں‘‘
ہم مسلمان جب ہم بوسنیا، سارائیوو، بانیا لوکا اور سریبریںتسا کو یاد کرتے ہیں…
تو بلند آواز سے کہتے ہیں: - ہم بلقان کو نہیں بھولیں گے۔
- ہم غرناطہ کو نہیں بھولیں گے۔
- ہم فلسطین کو نہیں بھولیں گے۔
- ’’بوتروس غالی‘‘ کا رویہ —
اقوامِ متحدہ کے مسیحی آرتھوڈوکس سابق سیکریٹری جنرل — نے کھلم کھلا اپنے صربی بھائیوں کا ساتھ دیا۔
مگر افسوس، 30 سال گزرنے کے باوجود ہم نے سبق نہیں سیکھا۔ - صرب نشانہ بناتے تھے:
علما، کو، ائمہ کرام کو، دانشوروں کو اور تاجروں کو۔ - انہیں قید کر کے ذبح کیا جاتا اور لاشیں دریاؤں میں پھینک دی جاتیں۔
اور آج وہ چاہتے ہیں کہ حماس یہودیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دے تاکہ وہ بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کر دیے جائیں—اور افسوس کہ بعض مسلم ریاستیں اس منصوبے میں شریک اور معاون ہیں۔
تاریخی قصے بچوں کو سلانے کے لیے نہیں سنائے جاتے، بلکہ مردوں کو جگانے کے لیے سنائے جاتے ہیں!
اللّه پاک مسلم امہ کو غیرت مند حکمران نصیب فرماۓ آمین
۔