لاہور:کالج فار ویمن یونیورسٹی میں “ہر کلائمیٹ کانفرنس” کلائمیٹ گالا 2025 اختتام پذیر ،رومینہ خورشید عالم ،سینیٹر بشریٰ انجم بٹ، صبیحہ شاہین اور دیگر کی شرکت

شہزادہ عالمگیر بیورو چیف نوائے وقت، ڈان ٹی وی

لاہور:کالج فار ویمن یونیورسٹی میں “ہر کلائمیٹ کانفرنس” کلائمیٹ گالا 2025 اختتام پذیر ۔

وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی برائے کلائمیٹ چینج و انوائرمنٹل کوآرڈینیشن رومینہ خورشید عالم کی خصوصی شرکت ۔

سینیٹر بشریٰ انجم بٹ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر برگد صبیحہ شاہین اور دیگر کی بھی شریک۔
وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی برائے کلائمیٹ چینج و انوائرمنٹل کوآرڈینیشن رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ حکومت ماحولیاتی تبدیلی (SDG-13) اور صنفی مساوات (SDG-5) کے اہداف کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہی ہے تاکہ وسائل تک منصفانہ رسائی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے نوجوان لڑکیوں پر زور دیا کہ وہ قومی ماحولیاتی پالیسیوں کے نفاذ میں فعال کردار ادا کریں اور توانائی، زراعت اور دیگر شعبوں میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے FDI اور برگد کے ساتھ وزارت کے اشتراک کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے خواتین کی شمولیت اور بااختیاری کے فروغ میں قابلِ قدر کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف ڈی آئی اور برگد کے باہمی اشتراک سے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں “کلائمیٹ گالا 2025” کے تحت دوسری “ہر کلائمیٹ کانفرنس” (HER Climate Conference) کے اختتامی سیشن میں شرکت کے موقع پر کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ ماحولیاتی تعلیم اور فرسٹ ریسپانڈر کورسز طلبہ کے لیے متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ ان پروگراموں میں بھرپور حصہ لیں کیونکہ خواتین عموماً خشک سالی اور سیلاب جیسے ماحولیاتی بحرانوں میں زیادہ متاثر ہوتی ہیں جو ان کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثرانداز ہوتے ہیں۔
صبیحہ شاہین، ایگزیکٹو ڈائریکٹر برگدو ایگزیکٹو ڈائریکٹر فورم فار ڈجنیٹی انی شئیٹٹو نے کہا کہ ہر کلائمیٹ کانفرنس” خواتین کے مخصوص ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرے گی اور انہیں فیصلہ سازی میں زیادہ فعال کردار دینے میں مددگار ثابت ہوگی تاہم کانفرنس کا مقصد پاکستان میں صنفی حساس ماحولیاتی اقدامات (Gender-Sensitive Climate Action) کو فروغ دینا ہے۔
عظمیٰ یعقوب، ایگزیکٹو ڈائریکٹر FDI، نے کہا کہ یہ کانفرنس پاکستان میں شامل اور صنفی حساس ماحولیاتی عمل کی بنیاد مضبوط کر رہی ہے۔ علی دادا نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی (FPCCI) کی جانب سے کاروباری اور پالیسی سطح پر ماحولیاتی آگاہی بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کانفرنس میں پینل ڈسکشن بعنوان “Breaking Barriers: Women Leading Climate Solutions in Pakistan” کے دوران
ڈاکٹر عائشہ سلیم نے کہا کہ معذور افراد کے لیے ماحولیاتی تعلیم کے مواد کو قابلِ رسائی بنایا جانا ضروری ہے تاکہ وہ ماحولیاتی چیلنجز کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عارفہ طاہر نے کہا کہ جامعات میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانا ناگزیر ہے کیونکہ یہ طلبہ کو عملی صلاحیتیں فراہم کرتی ہے اور انہیں ہنگامی حالات میں فرسٹ ریسپانڈر بننے کے قابل بناتی ہے۔ کانفرنس کے موقع پر “گرین بازار” میں 50 اسٹالز لگائے گئے جہاں مقامی سطح پر تیار کردہ ماحول دوست مصنوعات اور حل پیش کیے گئے۔ شرکاء نے ان اسٹالز کا معائنہ کیا اور پائیدار ماحول کے فروغ کے لیے مختلف ماڈلز، مصنوعات اور آئیڈیاز میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ کانفرنس میں 500 سے زائد طالبات، مذہبی رہنماؤں، پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم، سول سوسائٹی کے نمائندگان، نوجوان اور ماہرین ماحولیات بھی موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *