محمد موہت نوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ
ڈھاکہ:بنگلہ دیش کی حکومت نے نئے کرنسی نوٹ جاری کر دیے ہیں جو شیخ حسینہ واجد کے والد اور ملک کے پہلے صدر شیخ مجیب الرحمان کی تصویر والے نوٹوں کی جگہ لیں گے۔
ملک میں اس وقت عبوری حکومت چل رہی ہے جو حسینہ واجد کے ملک سے نکل جانے کے بعد قائم کی گئی تھی۔
حسینہ واجد کے خلاف اتوار سے ایک مقدمہ بھی شروع کیا گیا ہے جس میں ان پر حکومت کے خلاف احتجاج کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
اگست 2024 کے بعد سے بھی ملک میں اب تک حسینہ واجد کے والد کی تصویر والے نوٹ چل رہے ہیں جن کی قیادت میں بنگلہ دیش پاکستان سے الگ ہوا تھا اور ان کو 1975 میں ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میں قتل کر دیا گیا تھا۔
بنگلہ دیش بینک کے ترجمان عارف حسین خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’نئے نوٹس میں کسی انسان کی تصویر شامل نہیں ہو گی تاہم اس میں قومی یادگاریں اور قدرتی منظر شامل ہوں گے۔‘
نوٹ میں آرٹسٹ زین العابدین کا آرٹ ورک بھی شامل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے برطانوی دور میں آنے والے قحط کی منظرکشی کی تھی۔
اتوار کے روز مختلف مالیت رکھنے والے 9 میں سے تین نوٹ جاری کیے گئے۔
بینک کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’نئے نوٹ مرکزی بینک کے ہیڈکوارٹر سے جاری ہوں گے اور اس کے بعد ملک بھر میں اس کے دفاتر کو مہیا کیے جائیں گے۔‘
موجودہ نوٹس اور سکے بھی نئے نوٹس کے ساتھ قابل استعمال رہیں گے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سیاسی صورت حال میں تبدیلی کے بعد نوٹوں کے ڈیزائن تبدیل کیے گئے ہوں۔
پاکستان سے الگ ہونے کے بعد 1972 میں نئے نوٹ جاری کیے گئے تھے اور نام مشرقی پاکستان سے تبدیل کر کے بنگلہ دیش رکھ دیا گیا تھا اور نوٹ پر اس کا نقشہ بھی نمایاں تھا۔
اس کے کچھ عرصے بعد نوٹوں پر شیخ مجیب الرحمان کی تصویر لگائی گئی اور ان کی بیٹی حسینہ واجد نے اس سلسلے کو اپنے 15 سالہ دور اقتدار کے دوران بھی جاری رکھا۔
پچھلے ماہ ان کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی لگائی گئی اور اس کی قیادت پر مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔