فردو، نطنز اور اصفہان پر حملہ مکمل منصوبہ بندی سے کیا گیا: امریکی میڈیا
جنرل رپورٹرنوائے وقت + ڈان ٹی وی رپورٹ
لندن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر انتہائی کامیاب فضائی حملے کا اعلان سامنے آنے کے بعد اس کارروائی کی تفصیلات بھی منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔
امریکی خبررساں ادارے “فاکس نیوز” کے مطابق ایران کے سخت ترین محفوظ مقام فردو پر حملے کے لیے امریکہ نے چھ بنکر بسٹربم استعمال کیے۔ ان کے ساتھ ساتھ 30 ٹوماہاک کروز میزائل بھی دیگر جوہری مراکز پر داغے گئے۔
دوسری جانب “سی بی ایس نیوز” نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے حملے سے ایک روز قبل ہفتے کے روز ایران سے سفارتی رابطہ کر کے واضح کیا تھا کہ یہ حملے صرف جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں اور ان کا مقصد تہران میں حکومت کی تبدیلی نہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے “رائٹرز” کو بتایا کہ اس کارروائی میں امریکہ نے B-52 بمبار طیارے بھی استعمال کیے۔ جبکہ ایک امریکی دفاعی اہلکار نے “العربیہ انگلش” کو بتایا کہ امریکہ کی بی-2 “اسٹیلتھ بمبارز” یعنی “شبح بمبار” طیارے بھی اس مشن میں شامل تھے، جو بحرالکاہل کے اوپر پرواز کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔
فضائی نگرانی کے ریکارڈ اور صوتی مواصلاتی اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ چھ B-2 طیارے ریاست مزوری میں واقع وائٹمین ایئربیس سے پرواز کر کے بحرالکاہل میں امریکہ کی گوام ایئربیس کی طرف روانہ ہوئے۔