2022 کے آغاز سے اب تک برطانوی شہریوں یا برطانیہ میں مقیم افراد کے خلاف قتل یا اغوا کی کم از کم 15 کوششیں کی گئیں، انٹیلیجنس سیکیورٹی کمیٹی
سٹاف رپورٹر نوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ
لندن:برطانیہ کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران 2022 سے اب تک برطانیہ میں مقیم افراد کو قتل یا اغوا کرنے کی کم از کم 15 کوششیں کر چکا ہے جبکہ تہران سے درپیش خطرات نمایاں طور پر بڑھ گئے۔
’اے ایف پی‘ کے مطابق پارلیمنٹ کی انٹیلیجنس اور سیکیورٹی کمیٹی نے رپورٹ نے بتایا کہ لندن کا ردعمل صرف ’بحران کے حل‘ پر مرکوز رہا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات نے بہت زیادہ توجہ حاصل کی۔
تہران نے فوری طور پر ان الزامات کو بے بنیاد، سیاسی اور دشمنی پر مبنی قرار دے کر سختی سے مسترد کر دیا۔
لندن میں ایرانی سفارت خانے نے بیان کہا کہ کمیٹی کے دعوے بے بنیاد، غیر ذمہ دارانہ اور ایران کے جائز علاقائی اور قومی مفادات کو بدنام کرنے کے ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران مارچ میں وہ پہلا ملک بن گیا جسے برطانیہ کی نئی فارن انفلوئنس رجسٹریشن اسکیم کے ایک سخت تر زمرے میں شامل کیا گیا تھا، جس کا مقصد خفیہ غیر ملکی اثرات کے خلاف قومی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
اس اسکیم کے تحت ایران، اس کی انٹیلیجنس سروسز یا پاسدارانِ انقلاب کے لیے ملک میں کام کرنے والے تمام افراد کو ایک نئی فہرست میں رجسٹر ہونا لازم ہے، بصورت دیگر قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واچ ڈاگ کمیٹی کے چیئرمین کیوان جونز نے رپورٹ میں کہا کہ ایران برطانیہ، برطانوی شہریوں اور مفادات کے لیے ایک وسیع، مستقل اور غیر متوقع خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جارحانہ کارروائیوں کے دوران خطرہ مول لینے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتا ہے، اور اس کی انٹیلیجنس ایجنسیاں بڑی حد تک وسائل سے لیس اور قوت کی حامل ہیں۔