ریحانہ ڈار جیسی بزرگ خاتون کو پنجاب پولیس نے جس طرح گھسیٹا، وہ انتہائی شرمناک منظر ہے، وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب پستی کے نئے درجے تک گرگئے ہیں، تحریک انصاف
سٹاف رپورٹرز، نمائندگان نوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ
لاہور ، اسلام آباد ، سیالکوٹ : سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کے باضابطہ آغاز کے بعد پارٹی کے متعدد لیڈروں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
عمران خان نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دی تھی، جو ان کی گرفتاری کو دو سال مکمل ہونے کے موقع پر آج اپنے ’عروج‘ پر پہنچنا تھی, پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ 5 اگست احتجاج کا نقطۂ آغاز ہے، مگر اسے ’آخری کال‘ نہ سمجھا جائے۔
پی ٹی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ریحانہ ڈار جیسی بزرگ خاتون کو پنجاب پولیس جس طرح گھسیٹ رہی ہے، وہ انتہائی شرمناک منظر ہے‘۔
پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کردہ ایک ویڈیو میں ریحانہ ڈار کو دکھایا گیا، جو 2024 کے عام انتخابات میں سیالکوٹ سے مسلم لیگ (ن) کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے خلاف امیدوار تھیں، اور پولیس اہلکار انہیں وین میں زبردستی بٹھا رہے ہیں۔
پارٹی نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اخلاقیات اور شرافت کے تمام اصول روند چکے ہیں اور پستی کے نئے درجے تک گرگئے ہیں۔
پی ٹی آئی بہاولپور کے اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے ضلع کوہلو میں احتجاج کرنے والے اس کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے، پارٹی کی طرف سے شیئر کی گئی تصاویر میں کارکنوں کو پولیس وین میں سوار ہوتے وقت فتح کا نشان بناتے ہوئے دکھایا گیا، جب کہ پولیس اہلکار لاٹھیوں سے لیس نظر آئے۔
پی ٹی آئی ملتان نے الزام لگایا کہ لاہور میں اس کے جلسے پر پولیس نے ’حملہ‘ کیا، جس میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، شیئر کی گئی تصاویر میں ایک گاڑی کی پچھلی کھڑکی کو ٹوٹا ہوا اور اس میں سوراخ دیکھا جا سکتا ہے۔
اسد قیصر نے گزشتہ روز کہا تھا کہ پنجاب اور کشمیر میں پولیس نے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی پنجاب میڈیا سیل کے سربراہ شیان بشیر نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے تقریباً 200 چھاپے مارے اور پارٹی کارکنوں کو حراست میں لیا، جنہیں مبینہ طور پر حلف نامے جمع کروانے کے بعد رہا کیا گیا۔
پی ٹی آئی کی سابقہ مشیر اطلاعات پنجاب کے گھر پولیس کا چھاپہ
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر پیغام دیتے ہوئے مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ رات پولیس نے ہمارے گھر پر ریڈ کیا جہاں انہوں نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا۔
صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ جمہوریت میں کوئی طبقہ احتجاج کرے اور سرکاری املاک کا نقصان کرے تو ادارے حرکت میں آتے ہیں لیکن یہاں احتجاج شروع بھی نہیں ہوتا اور پہلے ہی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہیں۔