محمد ابرار نوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ
سری نگر:انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت کی جانب سے 25 کتابوں پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد پولیس کتابوں کی دکانوں پر چھاپے مار رہی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ چھاپے جمعرات کو مارے گئے ہیں۔
حکام نے ان کتابوں پر پابندی کی وجہ ’علیحدگی پسندی کے جذبات اکسانا‘ قرار دیا ہے۔
ممنوعہ قرار دی گئی ان کتابوں میں بُکر پرائز جیتنے والی معروف مصنفہ اور انسانی حقوق کی کارکن ارون دھتی رائے، کشمیری صحافی انورادھا بھسین اور کچھ عرصہ قبل گزر جانے والے معروف انڈین ماہر قانون اے جی نورانی کی کتابیں بھی شامل ہیں۔
حکومت نے ان 25 کتابوں سے متعلق الزام عائد کیا ہے کہ ان کے مصنفین کشمیر سے متعلق ’غلط معلومات‘ پھیلا کر ’نوجوانوں کو انڈیا کے خلاف گمراہ کرنے میں اہم کردار‘ ادا کر رہے ہیں۔