سٹاف رپورٹر نوائے وقت ، ڈان ٹی وی
لاہور:معروف ٹک ٹاکر فیصل جٹ خواتین کو بلیک میل کرکے لاکھوں روپے بٹورنے کا بڑا اور مکروہ نیٹ ورک چلانے میں ملوث نکلا۔
نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم فیصل جٹ خود کو سائبر کرائمز ایجنسی کا افسر ظاہر کرکے خواتین سے ان کی نازیبا وڈیو ز اور تصاویر کا ڈیٹا ثبوت کے نام پر حاصل کرتا اور بعد میں انہیں بلیک میل کرنے کے لئے استعمال کرتا رہتا تھا۔
’’ڈیلی ڈان اور ڈان ٹی وی‘‘ کو این سی سی آئی اے سے ملنے والی معلومات کے مطابق گزشتہ ہفتے ملتان میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی ایک اہم کارروائی نے آن لائن دنیا میں سرگرم مجرمانہ نیٹ ورک کے حوالے سے چونکا دینے والے حقائق کو بے نقاب کیا۔ اس ضمن میں ایف آئی آر نمبر 173/2025 کے تحت مشہور ٹک ٹاکر فیصل جٹ کو گرفتار کیا گیا، جو بظاہر ٹک ٹاک پر ہراسانی کے خلاف آگاہی ویڈیوز بنا کر خواتین کا اعتماد حاصل کرتا تھا۔ لیکن دراصل وہ خود کو این سی سی آئی اے کا افسر ظاہر کرکے خواتین کو بلیک میل اور مالی طور پر ان کا استحصال کرتا رہا۔
تحقیقات کے مطابق، فیصل جٹ نے متاثرہ خواتین کو یہ باور کرایا کہ اس کے تعلقات قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ سے ہیں۔ اس جھوٹے تاثر کے باعث کئی خواتین نے اپنے مسائل اس کے ساتھ شیئر کیے۔ ایک خاتون کی شکایت میں بتایا گیا کہ بیرونِ ملک مقیم شخص کی جانب سے ہراسانی کے بعد اس نے فیصل جٹ سے مدد مانگی۔ فیصل جٹ نے اسے یقین دلایا کہ وہ نہ صرف ہراساں کرنے والے کو گرفتار کروا سکتا ہے بلکہ اس کے پاس موجود نازیبا مواد بھی ڈیلیٹ کروا دے گا۔ اس مقصد کے لیے اس نے خاتون سے تین لاکھ بیس ہزار روپے وصول کیے۔
ذرائع کے بقول یہی نہیں، فیصل جٹ نے متاثرہ کو مزید یہ دھوکہ دیا کہ ’’ثبوت‘‘ اکٹھا کرنے کے لیے اس کی ضرورت ہے کہ وہ کچھ نئی نازیبا ویڈیوز بھی ریکارڈ کرے تاکہ ان ویڈیوز کو بطور شہادت استعمال کیا جا سکے۔ متاثرہ خاتون شدید دبائو اور خوف کے عالم میں اس کے مطالبے کو ماننے پر مجبور ہوئی۔ بعد ازاں فیصل جٹ نے مزید یہ دعویٰ کیا کہ دیگر لوگوں کے پاس بھی یہ مواد پہنچ گیا ہے اور اگر ان کی گرفتاری درکار ہے تو مزید رقم ادا کرنی ہوگی۔ اس طرح اس نے مزید تین لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے اپنی جعلسازی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک فرضی حلف نامہ تیار کیا جس میں یہ ظاہر کیا گیا کہ ملزم کو پکڑ لیا گیا ہے اور مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ یہ حلف نامہ ایک جعلی شناختی کارڈ کے ذریعے بنایا گیا تھا اور متاثرہ کو اس جھوٹے کاغذ کے ذریعے یقین دہانی کرائی گئی۔ بعد ازاں جب این سی سی آئی اے نے کارروائی کی تو ملزم کے قبضے سے نازیبا ویڈیوز، جعلی دستاویزات، ایک موبائل فون اور مالی لین دین کے شواہد برآمد ہوئے۔ عدالت نے ملزم کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کیا تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں اور اس نیٹ ورک کے دوسرے ممکنہ متاثرین اور سہولت کاروں تک پہنچا جا سکے۔
این سی سی آئی اے کے ایک افسر کے مطابق یہ کیس پاکستان میں آن لائن بلیک میلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ایک کڑا ثبوت ہے۔ سائبر اسپیس میں ایسے درجنوں افراد اور گروہ موجود ہیں جو سادہ لوح صارفین خصوصاً خواتین کے اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھا کر انہیں مالی اور جذباتی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کا بنیادی طریقہ کار یہی ہوتا ہے کہ پہلے خود کو ہمدرد یا اداروں کا نمائندہ ظاہر کیا جاتا ہے، پھر متاثرہ کو خوفزدہ کرکے مزید ذاتی یا نازیبا مواد اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اور آخر میں بھاری رقوم بٹوری جاتی ہیں۔
این سی سی آئی اے کے مطابق یہ محض ایک کیس نہیں بلکہ ایسے کئی گروہ ٹک ٹاک، یوٹیوب، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر سرگرم ہیں۔ ان گروہوں کا ہدف زیادہ تر وہ خواتین اور نوجوان ہوتے ہیں جو پہلے ہی کسی ہراسانی یا بلیک میلنگ کا شکار ہوں اور فوری مدد کے خواہاں ہوں۔
واضح رہے کہ این سی سی آئی اے کا قیام 2025ء میں حکومتِ پاکستان نے سائبر کرائمز سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے کیا۔ یہ ادارہ ایف آئی اے کے سابقہ سائبر ونگ کے برعکس زیادہ وسیع اختیارات رکھتا ہے۔ این سی سی آئی اے کا باضابطہ آن لائن پورٹل بنایا گیا جہاں شہری براہِ راست شکایات درج کرا سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ لوگ جعلی ’’مددگاروں‘‘ یا نام نہاد ’’فکسرز‘‘ کے چنگل میں نہ پھنسیں۔ بلکہ براہِ راست قانونی ادارے کو رپورٹ کریں۔ جس کے بعد 2025 کی ترامیم کے بعد پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کو مزید موثر بنایا گیا۔ اب جھوٹی معلومات کی دانستہ اشاعت، ہتک آمیز یا نازیبا مواد کے ذریعے بلیک میلنگ اور سائبر اسٹاکنگ کے خلاف زیادہ سخت سزائیں متعین کی گئی ہیں۔ تاہم، ان قوانین کے نفاذ میں شفافیت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ فیصل جٹ کے خلاف درج دفعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایسے جرائم کو محض سائبر کرائم نہیں بلکہ سنگین فوجداری جرم تصور کیا جاتا ہے۔ پی پی سی کی دفعات 419 (شناخت چوری)، 420 (فراڈ)، 468 (جعلسازی)، 471 (جعلی دستاویز کا استعمال) اور 384 (بلیک میلنگ کے ذریعے رقم بٹورنا) کے ساتھ ساتھ PECA کی دفعات 20، 21 اور 24 ان جرائم کے مختلف پہلوئوں کو کور کرتی ہیں۔ این سی سی آئی اے اب نہ صرف ملزمان کو گرفتار کر رہی ہے بلکہ ان کے مالیاتی راستوں کو بھی ٹریس کر رہی ہے۔ نئی پالیسیوں کے تحت سائبر کرائم میں ملوث افراد کی جائیدادیں اور بینک اکائونٹس بھی منجمد کیے جا سکتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بلیک میلنگ اور جوئے کے نیٹ ورکس کی مالی کمر توڑی جائے تاکہ ان کا کاروبار ہی ختم ہو سکے۔