بیوروچیف نوائے وقت ، ڈان ٹی وی
پشاور: خیبر پختونخوا پولیس میں ایک اور ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ایڈوانس کورس کے لیے منتخب کیے جانے والے انسپکٹرز میں زیادہ تر جونیئر نکلے جبکہ کئی سینئرز کو فہرست سے ہی باہر کر دیا گیا۔ سینٹرل پولیس آفس میں سینیئر افسران کے ساتھ مبینہ زیادتی نے پورے محکمے میں بےچینی کی لہر دوڑا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق 2007 اور 2008 میں اے ایس آئی پروموٹ ہوئے ان کو نظرانداز کرتے ہوئے 2009 اور 2010 جونیئرز کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ اس اقدام کو پولیس کے اندر “ہیرا پھیری” اور “پروموشن برائے فروخت” قرار دیا جا رہا ہے۔ منسٹریل اسٹاف پر الزام ہے کہ وہ میرٹ اور سینئرٹی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف پسند ناپسند اور ذاتی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کر رہے ہیں۔
افسران کا کہنا ہے کہ اس غیر شفاف عمل سے نہ صرف محکمے کے ایماندار اور محنتی اہلکاروں کی دل شکنی ہوئی ہے بلکہ مجموعی طور پر پولیس کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اندرونی ذرائع کے بقول فہرست میں کی گئی تبدیلیوں اور مشکوک انتخاب سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
محکمہ پولیس میں بڑھتی ہوئی بےچینی کے پیش نظر تجویز دی جا رہی ہے کہ آئی جی خیبر پختونخوا خود ایماندار اور غیرجانبدار افسران کی موجودگی میں تمام فہرستیں منگوا کر اس معاملے کی مکمل چھان بین کریں تاکہ حقائق منظرعام پر آسکیں اور محکمے میں پھیلی بےاعتمادی کا خاتمہ ہوسکے۔
پولیس اہلکاروں کے مطابق: “یہ وقت ہے کہ میرٹ کی بحالی اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے ورنہ محکمے کے اندرونی مسائل مزید بڑھ جائیں گے۔”