سٹاف رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ
مریدکے :پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے شہر مریدکے میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی، ان کے بھائی انس رضوی اور جماعت کے متعدد رہنماؤں کے خلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پنجاب پولیس نے پیر کی صبح مریدکے میں ٹی ایل پی کے مارچ کے شرکا کے خلاف کارروائی کر کے مظاہرین کو منتشر کر دیا تھا۔
اس کارروائی کے دوران ٹی ایل پی نے متعدد کارکنوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق تصدیق نا ہو سکی۔
پنجاب پولیس نے صرف تین مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کی، جبکہ ایک پولیس انسپکٹر کے جان سے جانے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔
تھانہ مریدکے سٹی میں درج کیے گئے مقدمے (ایف آئی آر) کے مطابق ’سٹیج پر موجود سعد رضوی نے اپنے قریب پڑا ہوا پسٹل اٹھا کر ایس ایچ او فیکٹری ایریا پر جان سے مار دینے کی نیت سے سیدھی فائرنگ کی جس سے ایس ایچ او کو پیٹ میں فائر لگے اور وہ زخمی ہو کر گرے۔‘
مقدمے کے اندراج پر تاحال ٹی ایل پی کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں واقعے کی تفصیلات درج کرتے ہوئے مزید بتایا گیا ہے کہ ’اسی دوران انس رضوی نے بھی اپنی رائفل سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پولیس افسران کو فائر لگے اور وہ زخمی ہوئے۔‘
ایف آئی آر کے مطابق ایس ایچ او فیکٹری ایریا کو ریسکیو کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان سے چلے گئے۔