افغانستان کا علاقہ “واخــان” جیو پولیٹیکلی کیوں اہم ہے؟

بیوروچیف نوائے وقت ، ڈان ٹی وی

پشاور:واخــان کوریڈور افغانستان کے شمال مشرق میں واقع دنیا کے انتہائی دشوار گزار، بلند اور سرد پہاڑی خطّوں میں شمار
ایک تنگ زمینی پٹی ہے۔ جہاں ہندوکش، پامیر، اور قراقرم کے عظیم پہاڑی سلسلے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

واخان کی لمبائی تقریباً 350 کلومیٹر اور چوڑائی 15 سے 65 کلومیٹر کے درمیان ہے۔ یہ افغانستان کے صوبہ بدخشاں کا حصہ ہے۔ یہ خطہ دنیا کے اُن چند جغرافیائی مقامات میں سے ہے جو چار ممالک، افغانستان، تاجکستان، چین اور پاکستان کے سنگم پر واقع ہیں۔ اس کا شمال تاجکستان، جنوب پاکستان (گلگت بلتستان)، اور مشرق چین کے صوبہ 𝑿𝒊𝒏𝒋𝒊𝒂𝒏𝒈 سے متصل ہے۔

واخان میں داخل ہونے کا بنیادی راستہ تاجک سرحد کے قریب درّہ اشکاشم (𝑰𝒔𝒉𝒌𝒂𝒔𝒉𝒊𝒎 𝑷𝒂𝒔𝒔) ہے، جو فیض آباد (بدخشاں) سے واخان جانے والا مرکزی راستہ ہے۔ اسی کو واخان کا دروازہ یا 𝑮𝒂𝒕𝒆𝒘𝒂𝒚 سمجھا جاتا ہے۔

یہ علاقہ انتہائی پسماندہ ہے یہاں سڑک، بجلی، اسپتال، اور تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہاں فارسی النسل واخی قوم اباد ہے، جو “واخی” بولتی ہے۔ موجودہ آبادی تقریباً 15 تا 20 ہزار نفوس ہے۔ ان کی معیشت کا دار و مدار یَک، بھیڑ، بکریوں اور محدود زراعت پر ہے۔

واخان کوریڈور قدیم سلک روٹ (𝑺𝒊𝒍𝒌 𝑹𝒐𝒖𝒕𝒆) کا ایک ذیلی راستہ تھا۔ اسی راستے سے چینی زائر ہسوان سانگ (𝑿𝒖𝒂𝒏𝒛𝒂𝒏𝒈) نے ساتویں صدی عیسوی میں برصغیر کا سفر کیا۔ انیسویں صدی میں برطانوی ہند اور روسی سلطنت کے درمیان وسطی ایشیا میں اثر و رسوخ کی کشمکش کے دوران، واخان کو ایک 𝑩𝒖𝒇𝒇𝒆𝒓 𝒁𝒐𝒏𝒆 کے طور پر تشکیل دیا گیا تاکہ دونوں سلطنتیں براہِ راست آمنے سامنے نہ ہوں۔

سنہ 1883 تا 1896 کے درمیان ہونے والے انگلوروسی معاہدے (𝑨𝒏𝒈𝒍𝒐–𝑹𝒖𝒔𝒔𝒊𝒂𝒏 𝑨𝒈𝒓𝒆𝒆𝒎𝒆𝒏𝒕) کے تحت واخان کو افغانستان کا حصہ قرار دیا گیا۔ اس طرح یہ علاقہ روس اور برطانوی ہندوستان کے درمیان ایک غیرجانبدار پٹی بن گیا۔

واخان کی سرحدی گزرگاہیں؟

  1. واخان پاکستان گزرگاہیں

واخان جنوب میں پاکستان کے چترال اور گلگت بلتستان سے متصل ہے۔ یہ سرحد دنیا کی سب سے دشوار اور ناقابلِ عبور (impassable) حدود میں سے ایک ہے۔ اہم درّے:

▪️درّہ درواز (𝑫𝒐𝒓𝒂𝒉 𝑷𝒂𝒔𝒔)، تقریباً 4,300 میٹر بلند، تاریخی تجارتی راستہ لیکن اب عسکری طور پر بند۔

▪️درّہ برغیل (𝑩𝒂𝒓𝒐𝒈𝒉𝒊𝒍 𝑷𝒂𝒔𝒔)، 3,798 میٹر بلند، وادی بروغل سے واخان تک واخی چرواہوں کا صدیوں پرانا راستہ۔

▪️درّہ سرِقول (𝑺𝒂𝒓𝒊𝒌𝒐𝒍 𝑷𝒂𝒔𝒔)، تقریباً 4,700 میٹر بلند، گلگت بلتستان اور واخان کے ملاپ پر واقع ہے۔

ان درّوں پر کوئی باضابطہ سرحدی کراسنگ یا تجارتی مرکز موجود نہیں۔ سردیوں میں مکمل طور پر بند رہتے ہیں، جبکہ گرمیوں میں صرف مقامی واخی قبائل محدود نقل و حرکت کرتے ہیں۔

  1. واخان تاجکستان گزرگاہیں

واخان شمال میں تاجکستان کے گورنو بدخشاں خودمختار علاقے (𝑮𝒐𝒓𝒏𝒐–𝑩𝒂𝒅𝒂𝒌𝒉𝒔𝒉𝒂𝒏 𝑨𝒖𝒕𝒐𝒏𝒐𝒎𝒐𝒖𝒔 𝑹𝒆𝒈𝒊𝒐𝒏) سے ملتا ہے۔ یہ سرحد زیادہ تر دریائے پنج کے ساتھ ساتھ چلتی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان قدرتی سرحد بناتا ہے۔ اہم درّے:

▪️قزل رباط پاس (𝑸𝒊𝒛𝒊𝒍 𝑹𝒂𝒃𝒂𝒕 𝑷𝒂𝒔𝒔)، 4,300 میٹر بلند، قدیم تجارتی راستہ۔

▪️کش گُروم پاس (𝑲𝒂𝒔𝒉 𝑮𝒐𝒓𝒖𝒎 𝑷𝒂𝒔𝒔)، 4,500 میٹر، دشوار گزار پہاڑی راستہ۔

▪️شِخر رباط پاس (𝑺𝒉𝒊𝒌𝒉𝒓 𝑹𝒂𝒃𝒂𝒕 𝑷𝒂𝒔𝒔)، 4,200 میٹر، چرواہوں کی موسمی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہ 1895 کے 𝑨𝒏𝒈𝒍𝒐–𝑹𝒖𝒔𝒔𝒊𝒂𝒏 𝑨𝒈𝒓𝒆𝒆𝒎𝒆𝒏𝒕 کے تحت دریائے پنج کو دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سرحد قرار دیا گیا۔ تاہم آج تک کسی درّے پر بین الاقوامی بارڈر کراسنگ قائم نہیں کی گئی۔

  1. واخان چین گزرگاہ

واخان کا مشرق میں چین کے صوبہ 𝑿𝒊𝒏𝒋𝒊𝒂𝒏𝒈 سے جڑتا ہے۔یہاں واحد گزرگاہ واخجیر پاس (𝑾𝒂𝒌𝒉𝒋𝒊𝒓 𝑷𝒂𝒔𝒔) واقع ہے۔ یہ درّہ 4,923 میٹر بلند ہے اور تقریباً 92 کلومیٹر طویل ہے۔

چینی طرف کا علاقہ تاشقرغان کاؤنٹی (𝑻𝒂𝒔𝒉𝒌𝒖𝒓𝒈𝒂𝒏 𝑪𝒐𝒖𝒏𝒕𝒚) کہلاتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جہاں سے قدیم سلک روٹ گزرتا تھا۔ موجودہ دور میں یہ گزرگاہ مکمل طور پر بند ہے، اور سردیوں میں برف کی موٹی تہہ سے ڈھکی رہتی ہے۔ یہی افغانستان کی چین تک واحد زمینی رسائی ہے۔ مستقبل میں اسے 𝑪𝒉𝒊𝒏𝒂–𝑨𝒇𝒈𝒉𝒂𝒏 𝑪𝒐𝒓𝒓𝒊𝒅𝒐𝒓 کے طور پر تصور کیا جاتا ہے، اگرچہ فی الحال یہاں کوئی روڈ یا کسٹم پوائنٹ موجود نہیں۔

واخان کیوں اہم ہے؟

واخان کی جغرافیائی اہمیت یہ ہے کہ یہ علاقہ افغانستان کی چین تک واحد زمینی رسائی ہے۔ چین اسے اپنے 𝑩𝒆𝒍𝒕 𝒂𝒏𝒅 𝑹𝒐𝒂𝒅 𝑰𝒏𝒊𝒕𝒊𝒂𝒕𝒊𝒗𝒆 (𝑩𝑹𝑰) کے تحت ممکنہ راہداری کے طور پر دیکھتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ علاقہ چترال واخان چین شارٹ روٹ کے طور پر اسٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے۔ یوں واخان کوریڈور وسطی ایشیا، چین، اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک قدرتی 𝑮𝒆𝒐𝒈𝒓𝒂𝒑𝒉𝒊𝒄𝒂𝒍 𝑩𝒓𝒊𝒅𝒈𝒆 کی حیثیت رکھتا ہے۔

ماحولیاتی و سیاحتی پہلو کے حوالے سے واخان قدرتی خوبصورتی اور biodiversity کے لحاظ سے بے مثال ہے۔ یہاں 2014 میں 𝑾𝒂𝒌𝒉𝒂𝒏 𝑵𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏𝒂𝒍 𝑷𝒂𝒓𝒌 قائم کیا گیا، جو برفانی چیتا (𝑺𝒏𝒐𝒘 𝑳𝒆𝒐𝒑𝒂𝒓𝒅)، مارخور، 𝑴𝒂𝒓𝒄𝒐 𝑷𝒐𝒍𝒐 𝑺𝒉𝒆𝒆𝒑 اور نایاب پرندوں کی آخری پناہ گاہوں میں شامل ہے۔

انتہائی سرد موسم، دشوار گزار راستے، غربت اور حکومتی عدم توجہی اس علاقے کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ تاہم اگر یہاں علاقائی رابطہ کاری کو بہتر بنایا جائے تو واخان نہ صرف افغانستان بلکہ وسطی ایشیائی تجارت کے لیے بھی ایک اہم دروازہ بن سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *