world Exclusive:غزہ میں عالمی استحکام فورس کیلئے پاکستانی فوجی دستے بھیجے جانے کا امکان، انڈونیشیا، آذربائیجان اور پاکستان کے فوجیوں پر مشتمل ہوگی،نوائے وقت/ڈان ذرائع

حکومت اور عسکری اداروں کے درمیان مشاورت ’حتمی مراحل‘ میں داخل ہو چکی، اندرونی مشاورت کا لہجہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد اس مشن میں حصہ لینے کے حق میں ہے،نوائے وقت/ڈان ذرائع ذرائع

اسرائیل کی ترکیہ کی آئی ایس ایف میں شمولیت کی کھلے عام مخالفت ، ترک صدر رجب طیب اردوان کے ’اسرائیل مخالف رویے‘ کو جواز بنایا

انوسٹی گیشن سیل:ڈاکٹر اختر گلفام ایڈیٹر انچیف نوائے وقت،ڈائریکٹرنیوز ڈان ٹی وی

اسلام آباد:پاکستان جلد ہی اس بات کا اعلان کرنے والا ہے کہ آیا وہ غزہ کے لیے تشکیل دی جانے والی بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) میں فوجی دستے بھیجے گا یا نہیں۔

سرکاری ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکومت اس فورس میں شمولیت کی طرف مائل نظر آتی ہے۔

معاملے کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ذرائع نے بتایا کہ حکومت اور عسکری اداروں کے درمیان مشاورت ’حتمی مراحل‘ میں داخل ہو چکی ہے، ان کے مطابق اندرونی مشاورت کا لہجہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد اس مشن میں حصہ لینے کے حق میں ہے۔

امریکی ثالثی میں طے پانے والے ’غزہ امن معاہدے‘ کا ایک بنیادی ستون آئی ایس ایف کا قیام ہے، جو زیادہ تر مسلم اکثریتی ممالک کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہوگی۔

اس فورس کے مینڈیٹ میں داخلی سیکیورٹی برقرار رکھنا، حماس کو غیر مسلح کرنا، سرحدی گزرگاہوں کی حفاظت، اور عبوری فلسطینی اتھارٹی کی نگرانی میں انسانی امداد و تعمیر نو میں مدد فراہم کرنا شامل ہوگا۔

اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی فوجی اہلکاروں کو غزہ بھیجنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم وہ انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر، ترکیہ اور آذربائیجان سے اس کثیر القومی فورس میں شرکت کی بات چیت کر رہی ہے۔

البتہ اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سار نے ترکیہ کی آئی ایس ایف میں شمولیت کی کھلے عام مخالفت کی، اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے ’اسرائیل مخالف رویے‘ کو جواز بنایا۔

اتوار کو اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ غزہ میں کن غیر ملکی افواج کو داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، اس کا فیصلہ اسرائیل خود کرے گا اور اشارہ دیا کہ وہ ترک افواج کے کسی بھی کردار کے سخت مخالف ہوں گے۔

اسرائیلی پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کی خارجہ امور و دفاعی کمیٹی کے ارکان کو گزشتہ ہفتے ایک بند کمرہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئی ایس ایف انڈونیشیا، آذربائیجان اور پاکستان کے فوجیوں پر مشتمل ہوگی۔

’یہ فورس غزہ میں داخلی سیکیورٹی اور امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی سرحدی حفاظت اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکنے میں مدد کرے گی‘۔

یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں، جب آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر مصر اور اردن کے دورے پر ہیں، جو غزہ میں جنگ بندی کے بعد کے معاملات میں گہرا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اگرچہ فوج نے ان کے دوروں کو دفاعی تعلقات کے فروغ سے تعبیر کیا ہے، لیکن ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے نازک نفاذ پر بھی ان کے خطے کے رہنماؤں سے تبادلہ خیال ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *