برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی تنقید کے بعد ٹرمپ نے یوٹرن لے لیا، برطانوی فوجیوں کی کھل کر تعریف

ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران برطانوی فوجی فرنٹ لائن پر موجود نہیں تھے

پرویز انور نوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ

واشنگٹن:برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر کی تنقید کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں برطانوی فوجیوں سے متعلق اپنے بیان میں تبدیلی کر دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں برطانوی فوجیوں کو عظیم اور بہادر قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کے فوجی ہمیشہ امریکا کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ افغانستان میں جنگ کے دوران 457 برطانوی فوجی مارے گئے یا شدید زخمی ہوئے، اور وہ دنیا کے بہترین جنگجوؤں میں شامل تھے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا اور برطانیہ کے درمیان فوجی تعلق ایسا مضبوط بندھن ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی فوج کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کے عظیم اور نہایت بہادر سپاہی ہمیشہ امریکہ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’افغانستان میں 457 برطانوی فوجی اہلکار جان سے گئے، بہت سے شدید زخمی بھی ہوئے، اور وہ دنیا کے عظیم ترین جنگجوؤں میں سے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ ایسا رشتہ ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔‘
امریکی صدر کے مطابق برطانوی فوج بے پناہ جذبے، دل اور جان کے ساتھ خدمات انجام دینے والی فوج ہے اور(سوائے امریکی فوج کے) کسی سے کم نہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم آپ سب سے محبت کرتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔‘
یاد رہے کہ جمعرات کو امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ بظاہر اس بات سے لاعلم نظر آئے کہ امریکہ پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد برطانیہ کے 457 فوجی افغانستان میں لڑتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
انٹرویو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ (نیٹو والے) کہتے ہیں کہ انہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے تھے۔‘ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’اور انہوں نے فوجی بھیجے بھی، لیکن وہ تھوڑا پیچھے رہے، فرنٹ لائن سے ذرا دُور۔‘
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کو تضحیک آمیز اور شرمناک قرار دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *