چوہدری طلعت گوندل ، ریذیڈنٹ ایڈیٹرنوائے وقت گریٹر مانچسٹر، ڈان ٹی وی رپورٹ
مانچسٹر:عزم و ہمت کی نئی داستان رقم کرنے کے لیے مانچسٹر میں مقیم پاکستانی نژاد برطانوی بائیکر گل افشاں طارق نے ایک مشکل مگر متاثر کن مشن کا آغاز کر دیا ہے۔ 24 سالہ گل افشاں، جن کا تعلق ضلع سرگودھا سے ہے اور جو اپنے شوہر اور تین سالہ بیٹی کے ساتھ مانچسٹر میں رہتی ہیں، لندن سے لاہور تک کا طویل سفر موٹر سائیکل پر طے کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بننے کے لیے پرعزم ہیں۔
رواں ماہ اپنے سفر کا آغاز کرنے والی اس نڈر خاتون کا روٹ یورپ کے خوبصورت پہاڑوں سے ہوتا ہوا ایشیا کے سنگلاخ راستوں تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ لندن سے فرانس، سوئٹزرلینڈ، اٹلی، یونان اور ترکیہ سے ہوتی ہوئی پاکستان پہنچیں گی۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث انہوں نے ایران کے متبادل کے طور پر جارجیا کے راستے لاہور پہنچنے کا انتخاب کیا ہے۔
گل افشاں طارق کے مطابق اس مہم کا اصل مقصد خواتین کے حقوق کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “میرا یہ سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ جب خواتین کسی مقصد کا پختہ ارادہ کر لیں، تو کوئی بھی رکاوٹ ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔”
اس تاریخی اقدام کی تحریک انہیں اپنے والد کے عالمی اسفار اور پاکستان میں بائیکنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان سے ملی۔ گل افشاں کا ماننا ہے کہ پاکستان میں بائیکنگ کمیونٹی بہت مضبوط ہے اور وہاں خواتین کے لیے موٹر سائیکل اب ایک مقبول اور بااختیار ذریعۂ سفر بن چکا ہے۔